آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
#BajwaExtension: کیا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت چھ ماہ میں قانون سازی کر پائے گی؟
- مصنف, ثنا آصف
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملکی فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت کے حوالے سے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کو چھ ماہ کی مشروط توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 243، آرمی ایکٹ 1952 اور آرمی ریگولیشنز رولز 1998 میں کہیں بھی مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں تاہم وفاقی حکومت نے یقین دلایا ہے کہ اس معاملے میں قانون سازی کی جائے گی اور عدالت چھ ماہ بعد اس سلسلے میں ہونے والی قانون سازی کا جائزہ لے گی۔
سپریم کورٹ کے اس حکم نامے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت چھ ماہ کے اندر آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے قانون سازی کر پائے گی یا نہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب پارلیمنٹ میں قانون سازی کا عمل تقریباً رکا ہوا ہے، کیا تحریک انصاف کی حکومت اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو پائے گی؟
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی نے سینئر صحافی محمد ضیا الدین سے جب اس بارے میں بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی قانونی ٹیم میں ایسی کوئی صلاحیت نظر نہیں آتی کہ وہ ایسا کوئی قانون لے کر آئیں۔
’سپریم کورٹ کے ایک جج نے دوران سماعت کہا کہ ان کی ڈگریاں چیک کریں جو کہ بہت سنجیدہ ریمارکس تھے۔ انھں سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ مسئلہ ہے کیا۔ انھیں قانون اور آئین کی سمجھ ہی نہیں ہے۔‘
محمد ضیا الدین نے مزید بتایا کہ شہزاد اکبر کا یہ بیان ان کی سمجھ سے باہر ہے کہ اس معاملے میں قانون سازی کے لیے آئین میں ترمیم اور پارلیمان میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں ہے۔
’اگر ایسا ہے تو پھر تو حکومت کو اس سلسلے میں اپوزیشن کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔‘
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عمران خان کی ٹویٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد ضیا الدین نے کہا ’سپریم کورٹ نے جس طرح اس معاملے کو اٹھایا تو یقیناً اس بارے میں پی ٹی آئی میں خدشات موجود تھے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے نے انھیں بچا لیا اور کوئی ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی کہ عدلیہ اور فوج کے ادارے میں تصادم پیدا ہو۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت آئندہ چھ ماہ میں اس حوالے سے قانون سازی نہ کر پائی تو امید ہے کہ عدالت انھیں مزید وقت دے گی اور کوئی ایسا حکم نامہ جاری نہیں کرے گی جس سے بڑے پیمانے پر خلا پیدا ہو۔
بڑا بحران ٹل گیا لیکن۔۔۔
معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے بی بی سی کے پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک بہت بڑا بحران ٹل گیا۔
'ہو سکتا تھا کہ عدالت آج فیصلہ نہ سناتی اور کہتی کہ کل سنائیں گے۔ دوسرا یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ٹوٹیفیکیشن کینسل بھی کر دیتے اور توسیع بھی نہ دیتے۔ میرا خیال ہے عدالت نے حکومت کی نااہلی کو بے نقاب کیا ہے اور ایک بڑے بحران کو بھی ٹالا ہے۔'
لیکن سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بحران ٹلنے کا مطلب نہیں کہ یہ معاملہ ختم ہو گیا کیونکہ یہ پارلیمان میں جائے گا تو اس پر بحث بھی ہو گی اور ہوسکتا ہے کہ یہ عدالت میں پھر سے جائے۔
'پارلیمان میں اپوزیشن سینیٹ میں اکثریت رکھتی ہے اور قومی اسمبلی میں بھی اسے پاس کروانا آسان نہیں ہوگا۔ یہ ممکن نہیں ہو گا جب تک اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر اتفاق رائے نہیں ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو مزید ایسے دن ہوں گے جیسے یہ تین دن گزرے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حکومت کی بدحواسیاں دیکھی جانے والی تھیں۔ جو بھی نوٹسز جاری ہوئے ان میں غلطیاں تھیں۔ اگر اس میں کوئی سازش نہیں تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ نہیں تھی لیکن آپ اسے نالائقیوں کا نام تو دیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ عدلیہ ایک سوئے ہوئے شیر کی مانند جاگی۔
'سپریم کورٹ نے جس طرح توسیع کے معاملے کو دیکھا ہے اس سے لگتا ہے کہ کھوسہ صاحب کے آخری دور میں عدلیہ سب اداروں میں سب سے اوپر چلی گئی ہے۔'
’عمران خان کو کڑوی گولی نگلنی پڑے گی‘
حکومت اور اپوزیشن کے تعلق کے بارے میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا ’تحریک انصاف کی حکومت ابھی تک اپوزیشن کو دیوار سے لگاتی رہی ہے اور انھیں چور اچکا کہنے کے ساتھ ساتھ گالی گلوچ بھی کرتی رہی ہے لیکن اب پی ٹی آئی حکومت کو اپوزیشن کو اعتماد میں لینا پڑے گا۔‘
ان کے مطابق ’ایک ایسے وزیراعظم کے لیے جو قائد حزب اختلاف اور اپوزیشن رہنماؤں سے ہاتھ بھی نہ ملاتا ہو یہ بہت مشکل ہو گا لیکن اگر وہ جمہوری نظام کو آگے چلانا چاہتے ہیں تو انھیں یہ کڑوی گولی نگلنا پڑے گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کو اپنا اور ان کے وزرا کا اپنا طرز تکلم بھی تبدیل کرنا ہو گا۔
’نیب کے قانون میں ترمیم اور الیکشن کمیشن کی تکمیل سمیت بہت سے معاملات صرف اس لیے التوا کا شکار ہیں کیونکہ وزیر اعظم اپوزیشن پر لعنت بھیجنتے ہیں اور خود بھی پارلیمنٹ نہیں جاتے۔‘
انھوں نے کہا ’نئے پاکستان کے نئے وزیراعظم کو اپوزیشن کو مذاکرات پر لانے کے لیے اپنا نکتۂ نظر مکمل طور پر بدلنا پڑے گا۔‘
عارف نظامی نے کہا کہ چھ ماہ کے اندر آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے قانون سازی کی جا سکتی ہے لیکن اس کے لیے آج سے ہی کام شروع کرنے کی ضرورت ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب جنرل باجوہ اور عمران خان کے تعلقات کیسے رہتے ہیں۔
’جو ہائیبرڈ نظام جنرل باجوہ نے بنایا تھا یا ان کے دور میں بنا تھا کہ وہ ناکام ہو گیا ہے اور اس حکومت کی نااہلی اب عیاں ہو چکی ہے۔‘
عارف نظامی کے مطابق ’فوجی قیادت کو یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ جس طرح سے ملک چلانا چاہ رہے تھے ویسا ممکن نہیں، فوجی اور سیاسی قیادت کو یہ حقیقت سمجھنا ہو گی کہ ملک کے ادارے سب کچھ کرنے کے باوجود بھی ڈٹ جانے والے ہیں۔’