اسد عمر منصوبہ بندی کے وزیر: اینگرو کیمیکلز سے سی پیک تک

اسد عمر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سحر بلوچ، ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ وزارت منصوبہ بندی ایک مختلف ذمہ داری ہے اور جیسے جیسے وقت گزرے گا یہ سب کو واضح ہو جائے گا کہ وہ کیا کرنا چاہ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اسد عمر کو عمران خان کی ٹیم کا اوپننگ بیٹسمین کہا جاتا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے چند ماہ بعد ان سے وزارت خزانہ کا قلمدان واپس لے لیا گیا تھا۔

اب تقریباً سات ماہ کے بعد انھیں دوبارہ وفاقی وزارت دی گئی ہے، اس بار ان کے پاس منصوبہ بندی کا قلمدان ہے۔

منصوبہ بندی کی وزارت میں وہ کن منصوبوں پر کام کریں گے؟

بی بی سی سے گفتگو میں اسد عمر نے بتایا کہ ‘ایسا نہیں ہے کہ پہلے چیزیں اچھی نہیں چل رہی تھیں اور اب میں بہتر کرلوں گا۔ جو پہلے سے کام ہو رہا ہے اسی کو لے کر آگے چلنا ہے۔ ان میں سی پیک پر جو پیشرفت ہورہی ہے وہ شامل ہے، اور جو منصوبہ بندی کی وزارت کے انتظامی معاملات ہیں ان کو بہتر کرنا ہے۔ اور منصوبہ بندی سے منسلک طویل المعیاد جو معاملات ہیں ان کو دیکھنا ہے۔‘

پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں بارہا رپورٹ ہوتی رہی ہیں کہ سی پیک منصوبے کچھ حد تک سست روی کا شکار ہوچکے ہیں۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ‘یہ خبریں حقائق پر مبنی نہیں۔ سی پیک کے جو منصوبے مکمل ہونے والے تھے وہ بتدریج عملدرآمد کے مرحلے میں ہیں۔ تقریباً 11 ملین ڈالر کے منصوبے مکمل ہوچکے ہیں۔ اور کوئی تقریباً 38 بلین ڈالر کے پراجیکٹ اب عملدرآمد کے مرحلے میں ہیں۔ جن میں جو اس سال پراجیکٹ شروع ہوئے ہیں وہ بھی شامل ہیں۔ ایم ون میں بھی پیشرفت ہوئی ہے اور اب رشکئی کی گراؤنڈ بریکنگ بھی اگلے ماہ متوقع ہے۔ تو ایسا نہیں ہے کہ کچھ نہیں ہو رہا۔‘

منصوبہ بندی کے علاوہ، اسد عمر نے حال ہی میں وفاقی دارالحکومت کے تاجروں کو یقین دلایا کے ایک متوازن رینٹ کنٹرول کی اشد ضرورت ہے جس پر قومی اسمبلی میں بہت جلد قانون سازی کی جائے گی۔

اسلام آباد رینٹ رِسٹرکشن ایکٹ آرڈیننس 2001 میں جاری ہوا تھا۔ جس کو 2014 میں ترمیم کے بعد مسلم لیگ نواز کے رکن عبدالمنان نے پیش کیا۔ لیکن اس کے بعد یہ قانون صرف دستاویزات تک ہی محدود رہا۔

اسد عمر نے اس حوالے سے کہا کہ اس قانون میں تاجروں کے علاوہ کرائے دار بھی شامل ہیں۔

‘ہم قومی اسمبلی کے تین ارکان ہیں جنھوں نے مل کر پرائیوٹ ممبر بِل جمع کروایا تھا۔ یہاں پر رہنے والے زیادہ تر لوگوں کی دیرینہ خواہش تھی کہ کوئی ایسا قانون لاگو ہو جس سے کرایہ داروں کے مسائل کا حل ہوسکے۔‘

یہ بھی پڑھیے

عمران خان، اسد عمر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناسد عمر کو عمران خان کی ٹیم کا اوپننگ بیٹسمین تصور کیا جاتا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے چند ماہ بعد ان سے وزارت خزانہ کا قلمدان واپس لے لیا گیا

اسد عمر کون ہیں؟

اسد عمر کا تعلق فوجی گھرانے سے ہے، ان کے والد جنرل غلام عمر تھے جن کا تعلق انبالہ سے تھا۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انھیں برطرف کردیا تھا۔ بھٹو حکومت کی برطرفی کے بعد جنرل ضیاالحق نے جنرل غلام عمر کو حکومتی معاملات میں شامل کیا تھا۔

اسد عمر کی پیدائش 1961 میں راولپنڈی میں ہوئی اور بعد میں وہ کراچی منتقل ہوگئے جہاں انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس سے بی کام کی ڈگری لی اس کے بعد انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے 1984 میں ایم بی اے کیا۔

اسد عمر کے پروفیشنل کیریئر کی ابتدا عالمی مالیاتی ادارے ایچ ایس بی سی سے ہوئی۔ انھوں نے کینیڈا میں قلیل مدت کے لیے یہ ملازمت اختیار کی جس کے بعد پاکستان میں ایکسن کیمیکل میں مالی تجزیہ نگار کے طور پر شامل ہوئے۔ 1985 میں انھوں نے اینگرو پاکستان میں قدم رکھا۔

اینگرو میں اسد عمر مختلف عہدوں پر رہے اور بالاخر 1997 میں انھیں اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز کا چیف ایگزیکٹو افسر نامزد کیا گیا اور 2004 میں وہ اپنے پروفیشنل کیریئر کی بلندی پر پہنچ گئے اور انہیں اینگرو کارپوریشن کا صدر اور سی ای او نامزد کیا گیا۔ ان کی اعلیٰ کارکردگی پر پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں انھیں 2009 میں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

پاکستان میں جب اسد عمر نے اینگرو کیمیکلز کو جوائن کیا تو اس کمپنی کی شناخت صرف کیمیکلز بنانے والی فیکٹری کے طور پر تھی اور جب انھوں نے 2012 میں ریٹائرمنٹ لی تو کئی شعبوں میں اس کا کاروبار پھیل چکا تھا۔

28 سال کے پروفیشنل کیریئر کے بعد انھوں نے 2012 میں 50 برس کی عمر میں ریٹائرمنٹ لے لی اور تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور انھیں جماعت کا نائب صدر مقرر کیا گیا۔ جو بزنس ایگزیکٹیو پس منظر میں رہتا تھا وہ بطور سیاستدان اب میڈیا اور عوامی اجتماعات میں سامنے آنے لگا، دھیمے لہجے و انداز اور معاشی معاملات پر عبور کی وجہ سے وہ اپنے لیے نرم گوشہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

2013 کے انتخابات میں انھوں نے اسلام آباد کے حلقے این اے 48 سے انتخاب میں حصہ لیا اور مسلم لیگ کے امیدوار اشرف گجر کو شکست دی، انھیں جماعت اسلامی کی بھی حمایت حاصل رہی۔ قومی اسمبلی میں پہلے اسحاق ڈار، نوید قمر وغیرہ کی معاشی معاملات پر جو آواز گونجتی تھی اس میں ایک نئی آواز کا بھی اضافہ ہوگیا۔

2018 کے انتخابات میں بھی اسد عمر نے اسلام آباد سے ہی انتخاب میں حصہ لیا لیکن اس بار ان کا حلقہ این اے 54 تھا، جہاں انھوں نے مسلم لیگ ن کے امیدوار انجم عقیل خان کو شکست دی۔

تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد اسد عمر کو توقعات کے مطابق وزارت خزانہ، محصولات اور معاشی معاملات کا قلمدان دیا گیا۔ انھیں آغاز سے ہی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور پارٹی کے سربراہ عمران خان نے جو کبھی کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے رجوع نہیں کیا جائے گا، مجبور ہوکر آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج لینا پڑا۔

پاکستان تحریک انصاف کا اسد عمر پر مکمل تکیہ رہا کہ وہ معاشی بحران سے نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گے، لاکھوں ملازمتوں اور گھروں کی تعمیر کے جو اعلانات کیے گئے وہ ایفا ہوں گے لیکن مالی تنگی کے باعث بالآخر اسد عمر کو ہٹنا پڑا اور ان کی جگہ عبدالحفیظ شیخ اور چیئرمین شبر زیدی کو لایا گیا۔

اسد عمر کو تقریباً سات ماہ کے بعد دوبارہ وفاقی وزارت دی گئی ہے، اس بار ان کے پاس منصوبہ بندی کا قلمدان ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں کی نگرانی اور عملدرآمد بھی اسی وزرات کے پاس ہے۔

بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق اس راہدری کے منصوبوں پر پیش رفت میں سستی آگئی تھی، وزیر اعظم اور چین دونوں اس کی تردید کرتے رہے ہیں تاہم اسد عمر کی اس وزارت میں تعیناتی کو ان منصوبوں میں تیز رفتاری لانے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے اور یوں انھیں ایک اور دشوار ٹاسک سونپا گیا ہے۔

اسد عمر نے حلف اٹھانے کے بعد سی پیک کو اپنی اولیت قرار دیا ہے۔

منصوبہ بندی کی وزارت کو پاکستان میں سب سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے۔ وزارتِ خزانہ کا قلمدان ہاتھ سے جانے کے بعد یہ کہا جارہا تھا کہ اسد عمر کو کسی نئی وزارت دینے کے لیے تگ و دو جاری ہے۔ اسد عمر کو منصوبہ بندی کی وزارت ملنے کی بات جیسے ہی عام ہوئی تب یہ بات بھی کی گئی کہ ان کو اس عہدے پر فائز کرنے میں پاک چین اقتصادی راہداری میں چینی سرمایہ داروں کا بھی عمل دخل ہے۔

لیکن ان باتوں کو اسد عمر نے محض قیاس آرائی کہہ کر رد کردیا۔