RoyalVisitPakistan#: شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کے دورۂ پاکستان پر ایک نظر

برطانیہ کے شہزادہ ولیم نے کہا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان سکیورٹی تعلقات برطانوی عوام کو محفوظ رکھنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

پاکستان میں اپنے دورے کے آخری روز شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ ڈچز آف کیمبرج کیٹ مڈلٹن نے راولپنڈی میں آرمی کینائن سینٹر کا دورہ کیا۔

اس سینٹر میں کتوں کو دھماکہ خیز مواد تلاش کے لیے تربیت دی جاتی ہے جو کہ برطانیہ کے ڈیفینس اینیمل ٹریننگ سینٹر کی طرز پر قائم کیا گیا ہے اور یہاں کئی برطانوی فوجی تعینات ہیں۔

شہزادہ ولیم نے کہا: ’اس پورا ہفتہ ہم پاکستان میں سکیورٹی کے بارے میں سنتے رہے ہیں اور اس نے مجھے اور کیتھرین کو واقعی برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی اہمیت سے آگاہ کیا ہے۔‘

برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن پاکستان کے پانچ روزہ دورے کے بعد جمعے کو برطانیہ واپس روانہ ہو گئے۔

سنہ 2006 میں شہزادہ چارلس اور ان کی اہلیہ کامیلا پارکر کے پاکستان آنے کے بعد یہ کسی بھی برطانوی شاہی شخصیت کا پہلا دورۂ پاکستان تھا جس میں انھیں پذیرائی بھی حاصل ہوئی اور تنقید بھی۔

جہاں اپنی والدہ اور ساس لیڈی ڈیانا کی طرح شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے پاکستان کے عوام میں پذیرائی حاصل کی تو وہیں کچھ ناموافق حالات بھی پیش آئے اور ان پر تنقید بھی ہوئی۔

کئی افراد کا موقف تھا کہ برطانوی راج کے دوران اس خطے میں ہونے والے ظلم پر چونکہ اب تک باضابطہ طور پر معافی نہیں مانگی گئی اس لیے شاہی جوڑے کو اتنا پروٹوکول نہیں دینا چاہیے تھا۔

کچھ لوگوں کی جانب سے برطانیہ کے شاہی خاندان کی پذیرائی کو غلامانہ ذہنیت قرار دیا گیا۔

تو اگر آپ کو اس ہفتے کسی بھی وجہ سے شاہی جوڑے کے دورے سے باخبر رہنے کا موقع نہیں ملا تو یہ خلاصہ آپ کے لیے ہی لکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نیلا لباس اور 'تہذیب کا بوجھ'

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کے طیارے نے 14 اکتوبر کو نور خان ایئر بیس پر لینڈ کیا جہاں پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، ان کی اہلیہ اور پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو نے ان کا استقبال کیا۔

اپنی آمد کے دوسرے دن شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے اسلام آباد میں پاکستان مانومنٹ کا دورہ کیا جہاں وہ دونوں ایک دیدہ زیب رکشے میں تقریب کے مقام تک آئے۔ اس موقع پر دونوں ہی نے پاکستان کے قومی رنگوں کی مناسبت سے سبز رنگ کے ملبوسات پہن رکھے تھے۔

اس موقع پر شہزادہ ولیم نے اردو میں پاکستانیوں کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہنے پر 'بہت شکریہ' کے الفاظ ادا کیے اور دہشت گردی میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

دورے کے تمام دنوں میں کیٹ مڈلٹن نے مشرقی انداز کے مختلف ملبوسات زیب تن کیے جن میں سب سے زیادہ پذیرائی ان کے نیلے رنگ کے لباس کو ملی جسے پاکستانی ڈیزائنر ماہین خان نے ڈیزائن کیا تھا۔

شاہی خاندان ماہین تک کیسے پہنچا اور انھوں نے ان کے لیے ان رنگوں کا انتخاب کیا سوچ کر کیا اس بارے میں آپ مزید ہماری ڈیجیٹل ویڈیو میں جان سکتے ہیں۔

مگر کئی افراد نے اس بات پر تنقید کی کہ کیٹ مڈلٹن کے پاکستانی لباس پہننے کو تہذیب کی نمائندگی قرار دیا جا رہا ہے تو پھر شہزادہ ولیم صرف ایک مرتبہ مشرقی لباس میں کیوں دکھائی دیے؟

یہ بھی سوال اٹھایا گیا کہ جب پاکستانی لڑکیاں مغربی لباس پہنتی ہیں تو ان پر کیوں اتنی تنقید کی جاتی ہے، کیا تہذیب کی نمائندگی کا بوجھ صرف عورت کو اٹھانا ہوتا ہے؟

شاہی سکیورٹی اور عوامی مشکلات

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے پاکستان میں قیام کے دوران اسلام آباد اور لاہور کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ نے کئی سڑکیں مکمل طور پر بلاک کر دی تھیں جس کی وجہ سے لوگوں کو اپنی اپنی منزلوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

عوام تو دور کی بات، کئی وفاقی وزرا بھی پاکستان مانومنٹ میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں سکیورٹی انتظامات کی بنا پر نہ پہنچ پائے۔

بی بی سی کو ملنے والی معلومات کے مطابق نصف درجن کے قریب وزرا اور مشیران بشمول وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک، وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد حسین، وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نعیم الحق اور مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان شاہی جوڑے سے ملنے کی اپنی خواہش دل میں ہی لیے اس تقریب سے رخصت ہوئے۔

اگلے روز شاہی جوڑے نے پاکستان کے صدر عارف علوی سے ایوانِ صدر میں ملاقات کی اور پھر اس کے بعد وزیرِ اعظم ہاؤس میں عمران خان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ان کے اعزاز میں وزیرِ اعظم کی جانب سے ظہرانہ دیا گیا تھا۔

اسی روز انھوں نے اسلام آباد کے ایک گرلز سکول کا دورہ کیا جہاں انھوں نے بچوں اور اساتذہ سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں کا بھی دورہ کیا جہاں انھوں نے مقامی سکولوں کے بچوں کے ساتھ مل کر ماحولیاتی تبدیلیوں اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق ایک پروگرام میں بھی شرکت کی۔

اپنے دورے میں شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے پاکستان کی وادی چترال کا دورہ کیا جہاں انھوں نے وادی بروغل میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات اور یہاں رہنے والے لوگوں کو لاحق خطرات پر ماہرین سے بریفنگ حاصل کی۔

اس موقع پر انھوں نے چترال کی روایتی ٹوپی اور کوٹ بھی زیب تن کیے جس سے ایک مرتبہ پھر لوگوں کے ذہنوں میں شہزادی ڈیانا کی یاد تازہ ہو گئی۔

اپنے دورے میں شاہی جوڑے نے لاہور میں بادشاہی مسجد، نیشنل کرکٹ اکیڈمی اور شوکت خانم کینسر ہسپتال کا بھی دورہ کیا۔ شوکت خانم ہسپتال شاہی جوڑے کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ شہزادہ ولیم کی والدہ لیڈی ڈیانا ایک مرتبہ اس ہسپتال کے لیے فنڈز اکھٹے کرنے کی مہم کے دوران اور پھر اس کی افتتاحی تقریب کے دوران یہاں آ چکی ہیں۔

شاہی جوڑے کے دورے کے اختتام سے ایک دن قبل اس وقت ڈرامائی صورت حال پیدا ہوگئی جب ان کا طیارہ لاہور سے اسلام آباد آتے ہوئے طوفانی بارش کی وجہ سے اسلام آباد میں لینڈ نہ کر سکا اور لاہور واپس لوٹنے پر مجبور ہوا۔

انھوں نے رات لاہور کے ایک ہوٹل میں گزاری جہاں سے انھیں اگلی صبح پھر اسلام آباد لایا گیا۔

اپنے دورے کے آخری دن انھوں نے آرمی کینائن سینٹر کا دورہ کیا جس کے بعد دونوں اپنے ملک کے لیے واپس روانہ ہو گئے۔