ایف اے ٹی ایف: منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات پر ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ

    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی ہدایات اور تجاویز پر عمل درآمد کے لیے بےپناہ کوششیں کی ہیں اور امید ظاہر کی کہ آئندہ اجلاس میں پاکستان اپنا موقف پیش کر کے ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوگا۔

وزیر خارجہ نے بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’انڈیا ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی مخالفت کر رہا ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں کہ وہ پاکستان کو بلیک لسٹ کی جانب دھکیلنا چاہتا ہے۔ لیکن دنیا جانتی ہے اور بینکاک میں ایشیا پیسیفک گروپ کے اجلاس میں بھی اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے۔۔۔ انھیں پاکستان کی جانب سے کی گئی پیش رفت پر اطمینان ہے۔‘

اس سوال پر کہ کیا وزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات کے دوران پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر امریکہ سے تعاون مانگا، وزیر خارجہ نے کہا ’ہمارا نکتہ نظر ان کے سامنے ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے نکتہ نظر کو سمجھتے ہوئے ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔ جو ہم نے پیش رفت کی ہے اور اس ضمن میں پاکستان نے جو اقدامات اٹھائے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ انھیں پاکستان کی معاونت کرنی چاہیے۔‘

یہ بھی پڑھیے

خیال رہے کہ اس سے قبل فنانشل ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کی ذیلی تنظیم ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) کی رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

یہ رپورٹ اکتوبر 2018 تک کی کارکردگی کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے، اس لیے اس میں بہت سے ایسے اقدامات کا ذکر نہیں جو پاکستان نے گذشتہ ایک سال میں کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے نظام کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔

رپورٹ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں 13 سے 18 اکتوبر تک منعقد ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے جائزہ اجلاس سے ایک ہفتہ قبل جاری کی گئی جس میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ پاکستان بدستور ’گرے لسٹ‘ میں رہے گا یا بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔

41 اراکین کی تنظیم اے پی جی نے اکتوبر 2018 تک عمومی عالمی مالیاتی معیارات پر پورا اترنے میں حائل تکنیکی خامیوں کی بنا پر پاکستان کا درجہ کم کر کے اسے ’بہتر جائزے‘ کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔

اے پی جی کیا ہے؟

یہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کا ایک ریجنل گروپ ہے۔ ایف اے ٹی ایف میں اپنی تجاویز پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ لینے کے لیے ریجنل گروپ بنائے جاتے ہیں، اس گروپ کے مندوبین رکن ریاستوں میں جاتے ہیں۔ ان کے قوانین اور عملدرآمد کے خدو خال کو دیکھ کر ان کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں، اور رپورٹ تیار کی جاتی ہے جس میں اس ملک کی رینکنگ کے ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کہاں کیا کمی ہے اور مزید کیا کرنے کی ضرورت ہے۔

اے پی جی کی اس رپورٹ میں کیا انکشافات ہیں؟

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے اے پی جی کی 40 میں سے 4 تجاویز پر اکتوبر 2018 تک عملدرآمد نہیں کیا تھا۔

جن چار تجاویز پر عملدرآمد نہیں کیا گیا وہ قانونی انتظامات، باہمی قانونی معاونت اور غیر مالیاتی کاروبار اور پیشوں سے متعلق قانون سازی، ان کی نگرانی اور ان کے کسٹمرز سے متعلق معلومات جیسی تجاویز شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نو ایسی تجاویز ہیں جن پر پاکستان نے مؤثر طریقے سے عملدرآمد کیا۔ ان میں انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے قومی سطح پر تعاون اور تنظیم سازی، منی لانڈرنگ آفینس، دہشتگردی کی مالی معاونت کو جرم قرار دینا، ریکارڈ قائم کرنا، بینکاری سے متعلق روابط، ایسی رقوم یا اکاؤنٹس کی ضبطگی، وائر کے ذریعے رقوم کی منتقلی، بین الاقوامی آلہ کار، مجرموں سے متعلق تحویلی معاہدے، ایسی تجاویز ہیں جن پر پاکستان نے مؤثر طریقے سے کام کیا ہے۔

تاہم 26 ایسی تجاویز ہیں جن پر جزوی طور پر کام کیا گیا ہے اور صرف ایک شعبہ ایسا ہے جس میں پاکستان نے اہداف کو حاصل کیا ہے اور یہ مالیاتی اداروں کے معلومات خفیہ رکھنے سے متعلق قوانین کے بارے میں ہے۔

ماہرین کے مطابق جزوی عملدرآمد کا مطلب ہے کہ ان تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے قانون سازی ہو چکی ہے، جو کہ اہم ترین قدم ہے اور ثابت کرتا ہے کہ ریاست سنجیدہ ہے۔ اس لیے جزوی عملدرآمد ہونا بنیادی طور پر ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ماہرین کے مطابق جزوی عملدرآمد ناکامی نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2018 تک پاکستان نے:

  • دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے سے متعلق 228 مقدمات کا اندراج ہوا، جن میں سے پنجاب میں 49 افراد جبکہ دیگر تینوں صوبوں میں 9 افراد کو سزا ہوئی جس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔
  • انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 66 تنظیموں اور 7 ہزار 600 افراد پر پابندی عائد کی گئی تاہم ان کی ملکیت میں موجود فنڈز یا اثاثوں کو منجمد نہیں کیا گیا
  • 2 ہزار 420 تحقیقات ہوئیں، 354 افراد کے خلاف مقدمہ چلایا گیا جبکہ ایک غیر جانبدار شخص کو بدعنوانی سے متعلق لانڈرنگ پر مجرم ٹھہرایا گیا
  • رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے لاحق خطرات کا واضح ادراک نہیں ہے۔ تاہم وہ اس میں بہتری لانے کی کوشش کر رہا ہے

ماہرین کی رائے: کیا پاکستان بلیک لسٹ کے خطرے سے باہر ہے؟

پاکستان میں ماہرین کی جانب سے اس معاملے پر مختلف قسم کی آرا کا اظہار تو کیا گیا ہے تاہم وہ اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان نے گزشتہ ایک سال کے دوران بہت کام کیا ہے جو آئندہ ہونے والی ایف اے ٹی ایف اجلاس میں زیر بحث آئے گا اور امکان ہے کہ پاکستان کے لیے 'بُری خبر نہیں آئے گی'۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اقتصادی امور کے ماہر سہیل احمد کہتے ہیں کہ پہلی مرتبہ عوام کو معلوم ہوا ہے کہ چالیس میں سے 36 پر پاکستان نے پوری طرح یا جزوی طور پر عمل کر لیا ہے۔ اگرچہ حکومت دعویٰ کرتی رہی ہے کہ چار ہی رہ گئے ہیں۔

سہیل احمد کے خیال میں اس رپورٹ کے سامنے آنے سے بے یقینی کی صورتحال میں کمی آئے گی چونکہ اس میں گذشتہ ایک سال کے اقدامات کا ذکر نہیں ہے، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ جن چار تجاویز پر پاکستان نے اکتوبر 2018 تک عملدرآمد نہیں کیا تھا، رواں برس ان پر بھی کام ہوا ہوگا۔ اس لیے آئندہ ہونے والے اجلاس سے مثبت امید رکھی جا سکتی ہے کہ پاکستان بلیک لسٹ نہیں ہوگا'۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان پیرس میں ہونے والی آئندہ میٹنگ میں یہ بتائے گا کہ اس نے گزشتہ چند ماہ میں کیا اہم اقدامات کیے ہیں۔

’ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس حکومت نے خاصے اقدامات کیے، سربراہان کو پکڑا گیا، اکاؤنٹس فریز کیے گئے، پابندیاں لگیں، بڑے بینکوں کو پینلٹی لگائی گئی ہیں، ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان کو آئندہ کچھ عرصے کے لیے گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا، تاہم بلیک لسٹ ہونے کے امکان اب کم ہیں'۔

ان کے مطابق آئندہ اجلاس میں یہ رپورٹ اور رواں برس ہونے والے تمام اقدامات سامنے رکھے جائیں گے۔

بین الاقوامی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی کہتے ہیں کہ رپورٹ میں پاکستان پر جو پابندیاں ہیں ان کی حد تک اس رپورٹ میں پاکستان نے زیادہ تر عملدرآمد کیا ہے۔ کچھ پر ابھی کام ہونا ہے، اور ایسا تاثر ہے کہ پاکستان کی حکومت اور ادارے ایف اے ٹی ایف کی تمام تجاویز پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔

احمر بلال صوفی کے مطابق اس رپورٹ کو دیکھا جائے تو پاکستان بلیک لسٹ میں نہیں جائے گا۔ ان کے مطابق یہ تمام معاملات چلتے رہیں گے اور وقتاً فوقتاً اس پر رپورٹس آتی رہیں گی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت جو چیلنجز ہیں وہ قانون سازی کے بعد اس پر عملدرآمد میں ہیں جن پر کچھ وقت لگے گا اور دوسرا قوانین پیچیدہ ہیں اس لیے ان کے اطلاق کے لیے تربیت کی ضرورت ہو گی۔

ان کے مطابق ’سو یہ وہ امور ہیں جن پر وقت کے ساتھ ساتھ عملدرآمد ہوگا، اور جیسے جیسے عملدرآمد بڑھے گا ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی پوزیشن بھی بہتر ہو گی'۔

ان کے مطابق پاکستان کے پاس یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ خود کو ایک بہتر اور ذمہ دار ریاست ثابت کرے، اپنی عوام کو آگاہ کرے کہ وہ پیسے سے جڑے جرائم سے متعلق آگاہ رہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی گذشتہ اور موجودہ حکومتیں خاصی پرعزم نظر آ رہی ہیں کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی تجاویز پر عملدرآمد کرتے رہیں گے۔

وِلسن سینٹر واشنگٹن کے ڈائریکٹر اور جنوبی ایشیا کے تجزیہ کار مائیکل کگلمین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے کئی ’عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا ہے اور ان کے ادارے اور تنظیمیں بند کی ہیں، ناقدین انھیں عارضی اور کاسمیٹک اقدامات کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ اور اس جیسے دیگر اقدامات ایف اے ٹی ایف کو قائل کرنے کے لیے کافی ثابت ہو سکتے ہیں کہ وہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں نہ ڈالیں۔ جب تک اسلام آباد کچھ نہ کچھ ایکشن دکھاتا رہے گا بلیک لسٹ ہونے کے امکانات کم ہیں‘۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ یہ اقدامات پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں ہٹا سکتے۔

’ہمیں یقین ہے کہ انڈیا اور امریکہ جیسے ممالک کی جانب سے یہ یقینی بنانے کے لیے دباؤ بڑھے گا کہ پاکستان ابھی یا مستقبل میں مزید مفت پاسز نہ لے سکے۔ اس لیے اگر اس بار بلیک لسٹ کا خطرہ ٹل بھی جائے تو یہ دباؤ قائم رہے گا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں سے بچنے کے لیے مزید سخت اقدامات کرے‘۔

انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے رواں ماہ کے آغاز میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ایف اے ٹی ایف ’کسی بھی وقت پاکستان کو بلیک لسٹ کر سکتا ہے‘۔

پیر کو اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ انڈین وزیر دفاع کا بیان پاکستان کے ان خدشات کی تصدیق کرتا ہے، جن کا اظہار وہ کئی بار ایف اے ٹی ایف میں کر چکا ہے کہ بھارت اپنے مذموم مقاصد کے لیے ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے'۔

دفتر خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انڈیا کی پاکستان کے خلاف مسلسل ہرزہ سرائی اور جانبداری اس کے ایشیا پیسفک گروپ کی مشترکہ صدارت کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے'۔

ترجمان دفتر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ ایف اے ٹی ایف کی وسیع تر رکنیت، ’پاکستان کے خلاف انڈیا کی گمراہ کن مہم' سے آگاہ ہے اور وہ ایف اے ٹی ایف کو ’سیاسی رنگ دینے کی کوشش مسترد کرے گی‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے لیے یہ یقینی بنانا اہم ہے کہ تمام کارروائی غیر جانبدار اور شفاف ہو۔