آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نالائقی، مصلحت یا کوئی مجبوری؟ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کالعدم تنظیموں کی فہرست سے باہر
- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد
لگتا تو ایسا ہے کہ یہ خبر حکومت کے لیے بھی چونکا دینے والی تھی۔ وجہ نالائقی ہے، مصحلت یا پھر کوئی مجبوری؟ حقیقت یہ ہے کہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کالعدم تنظیموں کی فہرست سے باہر نکل چکی ہیں اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی معاشی پابندیوں کی تلوار پاکستان کے سر پر لٹک رہی ہے۔
ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کو پاکستان سے واپس گئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں۔ ٹیم پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر پیشرفت کا جائزہ لینے آئی تھی۔
ایف اے ٹی ایف مالی جرائم روکنے کی ایک عالمی تنظیم ہے۔ رواں سال جون میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی ’گرے لسٹ‘ میں ڈالا تھا۔
اس موضوع پر مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان نے جنوری میں ہی یہ بھانپ لیا تھا کہ اسے ایف اے ٹی ایف میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور جب ہی اس نے کئی اقدامات اٹھائے تھے جن میں حافظ سعید سے منسلک جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن پر پابندی لگانے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔
جنوری اور فروری میں ان تنظیموں کے تحت جاری سکولوں، ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کو بند کردیا گیا۔ ایمبولینسز قبضے میں لے لی گئیں۔ چندے کے لیے لگائے کیمپ اکھاڑ دیے گئے۔ ان پر چندہ اور قربانی کی کھالیں دینے پر پابندی لگا دی گئ تھی۔
بظاہر پابندیوں کا فائدہ بھی ہوا۔ پاکستان کو ’بلیک‘ کے بجائے ’گرے لسٹ‘ میں ڈالا گیا اور تنبیہہ کی گئی کہ وہ دہشت گردی کی مالی مدد اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے اپنے قوانین اور ضوابط میں بہتری لائے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر پاکستان ایسا کرنے میں ناکام ہوا تو اسے’بلیک لسٹ‘ میں ڈال کر اس پر اقتصادی پابندیاں لگا دی جائیں گی۔
لیکن پھر اسلام آباد ہائی کورٹ میں انکشاف ہوا کہ وہ آرڈیننس جس کے تحت جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کو کالعدم قرار دیا گیا تھا اس کی مدت ختم ہو چکی ہے اور چونکہ حکومت نے نہ آرڈیننس کی مدت میں توسیع کی اور نہ ہی اسے پارلیمان میں لا کر ایکٹ میں بدلنے کی کوشیشں کی اب دونوں تنظیمیں اس فہرست سے باہر ہیں اور پاکستان میں اپنی سرگرمیاں کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
بار بار کوششوں کے باوجود اس معاملے پر ہمیں سرکار کا موقف تو نہیں مل سکا اور ہمیں بتایا گیا کہ ابھی اس پر حکومت کا کوئی موقف نہیں یا یہ کہ یہ موقف کچھ دن میں سامنے آئے گا۔ لیکن کچھ سرکاری زرائع نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہیں کہ جلد ہی یہ تنظیمیں دوبارہ کالعدم تنظیموں کی فہرست میں واپس آ جائیں گی۔
پاکستان کی موجودہ اقتصادی صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ امکان حقیقت کے کافی قریب بھی لگتا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکومت قرضوں کے لیے چاروں طرف دہائی دیتی پھر رہی ہے پاکستان کسی بھی طرح کی معاشی پابندیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو کچھ اہداف بھی دیے تھے جن پر عملدرآمد کے بعد ہی اس کے مستقبل کا فیصلہ ہوسکے گا اور اسلام آباد کو اس بات کی پوری سمجھ ہے کہ اہداف پورے نہ کرنے کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔
آج کل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے حوالے سے پاکستان کی کارگردی کا ازسرے نو جائزہ لے رہی ہے۔ جس کی رپورٹ چند ہی ہفتوں میں شائع ہو جائے گی۔
جماعت الدعوۃ کے ترجمان احمد ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ کالعدم تنظیموں کی فہرست سے خارج ہونے کے باوجود اب تک نہ ہی تو انھیں سکول، مدرسے اور ڈسپنسریاں کھولنے دی گئی ہیں اور نہ ہی ان کی ایمبولینسز اور دیگر سامان واپس کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ ایک مرتبہ پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے لیکن ان کے دعوی کے برعکس نماز جمعہ کے بعد اسلام آباد میں ان کی تنظیم نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین فوج کی مبینہ ریاستی دہشت گردی کے خلاف مظاہرہ کیا۔
پاکستان میں حکام یہ دعوی کرتے رہے ہیں کہ انھوں نے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عمل کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی بنائی ہے لیکن میڈیا میں مسلسل اس معاملے پر مختلف محکموں کی عدم دلچسپی، لاپرواہی اور نالائقی کی رپورٹیں شائع ہورہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن پر سے پابندیوں کا ہٹنا بھی اس کی ایک مثال ہو سکتی ہے۔ بہرحال وجہ جو بھی ہو جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن فی الحال اس کامیابی کی خوشی منا سکتی ہیں بھلے یہ ریلیف وقتی ہی کیوں نہ ہو۔