#SaySorryToEngineers: ’ڈاکٹر اگر پکوڑے بیچیں تو کیا غلط‘

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کے ڈاکٹروں اور انجینئروں کے بارے میں دیے جانے والے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کہ شوکت یوسفزئی نے گذشتہ روز ڈاکٹروں کی ہڑتال کے بارے میں ایک اخباری کانفرنس کے دوران کہا تھا ’یہ ڈاکٹر اور انجینیئر تو پکوڑے بیچتے تھے۔ آپ کو معلوم نہیں ہے انھیں تو پی ٹی آئی کی حکومت نے روزگار فراہم کیا ہے اس سے پہلے تو سب بے روزگار تھے۔ ‘

یہ پہلا واقعہ نہیں کہ اس طرح کی تحقیر آمیز گفتگو کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے کسی رہنما کو اس کی وضاحت بھی کرنی پڑی ہو۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے بھی اس بارے میں اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس کی وضاحت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شوکت یوسفزئی کے اس بیان کے بعد ڈاکٹروں کا سخت رد عمل سامنے آیا اور بیشتر ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے نجی کلینکس پر پکوڑے منگوائے گئے جس کے بعد ڈاکٹروں نے پکوڑے کھاتے ہوئے اپنی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں۔

سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا پکوڑے بیچنا کوئی غلط کام ہے جبکہ شوکت یوسفزئی کے اس بیان میں کسی شعبے کو حقارت سے پیش کیا گیا ہے حالانکہ یہ ایک عزت والا کام ہے۔

پشاور کے مختلف علاقوں میں پکوڑے بیچنے والے افراد سے جب بی بی سی نے رابطہ کیا تو ان میں سے جنھیں اس بارے میں معلومات تھیں نے افسوس کا اظہار کیا۔

یونیورسٹی ٹاؤن میں پکوڑے کی دکان پر کام کرنے والے محمد تراب نے کہا کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کر رہے بلکہ عزت سے روزگار کماتے ہیں اور اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وزیر موصوف کو اس حوالے سے سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے تھا، ڈاکٹر بھی اگر پکوڑے بیچتے تھے تو اس میں کیا غلط ہے۔

اسی طرح حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے سامنے بیٹھے پکوڑے بیچنے والوں نے کہا کہ ان کا روزگار انھی پکوڑوں سے وابستہ ہے اور وہ اپنے کام کی قدر کرتے ہیں۔

اس بارے میں سوشل میڈیا پر ’سے سوری ٹو انجینئرز‘ ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں ڈاکٹروں اور انجینیئروں کی جانب سے سخت رد عمل آیا ہے۔

سید نوید شاہ نے ٹوئٹر پر ایک تصویر پوسٹ کی جس میں گاؤن پہنے نوجوان پکوڑے بنا اور بیچ رہا ہے اور نیچے لکھا ہے کہ وزیر کا بیان کسی کام کی بے توقیری کرنا ہے۔

دوسری جانب انجینئروں نے بھی اپنے سخت رد عمل میں کہا ہے کہ ملک کی تعمیر میں حصہ لینے والے انجینیئر ہیں۔

ریحان زیب نے لکھا سائنسدان اس دنیا کا علم حاصل کرتے ہیں جبکہ انجینئر دنیا تخلیق کرتے ہیں تو ایک میٹرک پاس وزیر اس کو کیسے سمجھ سکتا ہے۔؟ انھوں نے کہا کہ انھیں انجینیئر ہونے پر فخر ہے۔

سوشل میڈیا پر صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ سینیئر ڈاکٹروں اور انجینئروں نے بھی اپنے تصویریں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہر پروفیشن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس لیے انھوں نے پکوڑا ڈے منایا ہے۔

دوسری جانب شوکت یوسفزئی آج پشاور میں موجود نہیں تھے لیکن انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ان کی بات کو غلط رنگ دیا گیا ہے وہ ڈاکٹروں کی توہین نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ کچھ عرصہ پہلے کچھ ڈاکٹروں نے احتجاج کے طور پر پکوڑے بیچے تھے اور اپنی ڈگریوں کو بھی آگ لگا دی تھی۔

بعض حلقوں نے شوکت یوسفزئی کے بیان کو پکوڑے بیچنے والوں کی بھی توہین قرار دیا اور کہا کہ کوئی بھی کام کم یا زیادہ معتبر نہیں ہوتا بلکہ محنت اور حلال والا کام عزت والا ہوتا ہے۔

اس سے پہلے بھی تحریک انصاف کے قائدین کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے تھے جن پر سوشل میڈیا پر سخت رد عمل سامنے آیا تو انھیں وضاحت کرنا پڑی تھی۔

وفاقی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے گذشتہ دنوں کشمیر میں آنے والے زلزلے کے بعد کہا تھا 'پاکستان میں جب کوئی تبدیلی آتی ہے تو نیچے (زمین میں) بیتابی ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی کی نشانی ہے کہ زمین نے بھی کروٹ لی ہے کہ اس کو بھی اتنی جلدی یہ تبدیلی قبول نہیں ہے۔'

واضح رہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میرپور میں 24 ستمبر کو آنے والے زلزے کی وجہ سے شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی اور اس کے نیتجے میں 40 کے بگ بھگ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

اس بیان کے بعد فردوس عاشق اعوان کو بھی وضاحت کرنا پڑی کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا۔

اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیانات کی بھی وضاحت کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ نیب کے بارے میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکناکوجی فواد چوہدری کے بیان پر سخت رد عمل آیا تھا۔

فواد چوہدری نے قومی احتساب بیورو کے بارے میں بیان پر وضاحت کی تھی بلکہ نیب حکام نے بھی اس بارے میں متعلقہ حکام سے کارروائی کا کہنا تھا۔