پاکستان کے وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری: ’منگل کو عید منا کر خیبر پختونخوا حکومت نے جھوٹ کی سرپرستی کی‘

    • مصنف, دانش حسین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وفاقی وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے باوجود اس سال بھی پاکستان بھر میں ایک ہی دن عید منانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔

وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری نے ماہ رمضان کی ابتدا میں ایک پانچ رکنی کمیٹی قائم کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ آئندہ پورے ملک میں رمضان اور عیدوں کا تعین یہ کمیٹی کرے گی۔ انھوں نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اب سپارکو اور محکمہ موسمیات کی کمیٹی یہ کام سائنسی بنیادوں پر سرانجام دے گی۔

تاہم پیر کی رات صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع جامع مسجد قاسم علی خان میں غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی جانب سے شوال کے چاند کی رویت کے اعلان کے بعد صوبے کے بیشتر علاقوں میں منگل کو سرکاری سطح پر عید الفطر منائی جا رہی ہے۔

جبکہ پاکستان میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے بدھ کو ملک بھر میں عید منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل محکمہ موسمیات نے کہا تھا کہ شوال کا چاند نظر آنے اور بدھ کو عید ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فواد چوہدری کی خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید

فواد چوہدری جو کہ اس مسئلے پر پورے ملک میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی سعی میں مصروف تھے خیبر پختونخوا میں اپنی ہی جماعت کی حکومت کے عید منانے کے اعلان کے بعد سیخ پا ہو گئے۔

اپنے ایک بیان میں انھوں نے خیبر پختونخوا حکومت کے اس فیصلے کو 'نامناسب' قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حکومتی فیصلے سے جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'دنیا کو یہ پیغام گیا کہ جیسے جھوٹ کوسرکاری سرپرستی حاصل ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'حکومتیں کبھی مسلک اور مقامی لڑائیوں میں نہیں پڑتیں۔'

فواد چوہدری نے کہا کہ 'گزشتہ روز شوال کے چاند کا نظر آنا ناممکن تھا چناچہ مذہبی تہوار کی بنیاد بھی جھوٹپر رکھ دی گئی ہے۔'

وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی نے کہا کہ'جو چاہے جہاں عید کرے مگر جھوٹ کی بنیاد پر نہیں۔'

سائنس کیا کہتی ہے؟

محکمہ موسمیات کے اہلکار ڈاکٹر شہزادہ عدنان کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کہیں بھی چاند کا اپنی پیدائش کے چار گھنٹے بعد نظر آنا 'ناممکن' ہے۔

انھوں نے بتایا کہ چاند کی پیدائش پیر کو پاکستانی وقت کے مطاق دن تین بج کر دو منٹ پر ہوئی تھی اور اس وجہ سے چاند کے ختم (غروب) ہونے کا وقت سورج کے غروب ہونے سے بھی تھوڑا پہلے تھا۔

'اگر سائنسی بنیادوں پر بات کی جائے تو پاکستان کے کسی بھی حصے میں چاند کے نظر آنے کا کوئی امکان سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔'

ان کا کہنا تھا کہ چاند کی پیدائش کے کم از کم 16 سے 18 گھنٹوں بعد چاند نظر آنے کے امکانات ہو جاتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پیر کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں چاند کا نظر آنا ان کے لیے 'انتہائی حیران کن' تھا۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کا موقف

دوسری جانب صوبائی وزیرِ اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پیر کو مقامی میڈیا کو بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا عید منانے کا فیصلہ صوبے میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ کئی برسوں سے صوبے میں دو، دو عیدیں منائی جا رہی تھیں تاہم اس مرتبہ یگانگت کا پیغام دینے کے لیے پورے صوبے میں ایک روز عید منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

نجی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے فواد چوہدری کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کام پر توجہ دیں اور حکومت اور علما کو ٹارگٹ نہ کریں۔

یاد رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں رمضان کا سرکاری طور پر آغاز وفاق کے ساتھ کیا گیا تھا مگر 28 روزے گزرنے کے بعد عید کا اعلان غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے ساتھ کر دیا گیا۔

رویت کی گواہی کا معیار

مفتی پوپلزئی نے شوال کے چاند کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہانہیں مردان، کرک، میر علی، بنوں، ہنگو، ڈومیل اور دیگر کئی علاقوں سے 115 شہادتیں موصول ہوئیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے علامہ شیخ شفا نجفی کا کہنا تھا کہ فقہ میں چاند کی رویت معلوم کرنے کےچار طریقے ہیں۔

پہلا: آپ اپنی آنکھوں سے چاند خود دیکھیں، دوسرا: چاند نظر نہیں آیا اور گذشتہ مہینے کے 30 دن مکمل ہو چکے ہیں، تیسرا: دو عادل افراد جن کی اقتدا میں نماز ادا کی جا سکتی ہو وہ اس حوالے سے ایک ہی طرح کی گواہی دیں اور چوتھا: اتنی کثیر تعداد میں عام لوگ آ کر گواہی دیں کہ آپ کو اطمینان ہو جائے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین قبلہ ایاز نے بی بی سی کو بتایا کہ چاند کی گواہی دینے والے کے بارے میں یہ ضروری ہے کہ وہ جھوٹ کی علت سے پاک ہو۔ اور اگر عام لوگوں کی گواہی پر یقین کرنا ہے تو یہ انتہائی کثیر تعداد میں ہونی چاہیے۔

بعد ازاں فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ 'ان (خیبر پختونخوا میں چاند دیکھنے کی گواہی دینے والے) سب پر جھوٹ کا مقدمہ بننا چاہیے، گمراہ کن بات ہے، میڈیا ان کے انٹرویو کرے تو لگ پتا جائے۔'

ایک اور ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ' فکر نہ کریں، یہ بات سمجھاتےدو سو سال لگے کہ پرنٹنگ پریس حرام نہیں ہے، نہ ہی ٹرین کا سفر اور نہ ہی لاؤڈ سپیکر کفر ہیں، یہ موضوع تو ابھی شروع ہوا ہے زیادہ عرصہ نہیں درکار انشاللہٰ۔'