آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں پاکستان کا سابق انڈین وزیراعظم منموہن سنگھ کو مدعو کرنے کا فیصلہ
پاکستان نے انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو نومبر میں کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے کا اعلان پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوموار کو اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ کرتار پور صاحب کی افتتاحی تقریب میں انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
واضح رہے کہ انڈیا کی طرف سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات میں تناؤ کے باوجود پاکستان نے کرتارپور راہداری منصوبے پر کام نہیں روکا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا منموہن سنگھ سکھ کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہیں اور ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کو دعوت دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس (افتتاحی تقریب) میں تشریف لائیں۔ ان کا عقیدہ بھی ہے اور وہ ہمارے لیے بہت محترم بھی ہیں۔‘
وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے منموہن سنگھ کو باقاعدہ دعوت نامہ بھیجا جائے گا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک بہت بڑا پروگرام ہے، پاکستان کو اس کی بہت بڑی خوشی ہے، پاکستان اس کی پوری تیاری کر رہا ہے۔ وزیراعظم (عمران خان) کی اس میں ذاتی دلچسپی ہے۔‘
پاکستان کے وزیر خارجہ نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ جتنے بھی سکھ یاتری ہیں، ہم ان کے بھی منتظر ہیں تاکہ وہ آ سکیں اور بابا گورونانک صاحب کے 550ویں جنم دن کی خوشیوں میں شامل ہوں۔
کرتارپور سکھوں کے لیے اہم کیوں ہے؟
کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔
یہیں گرودوارے میں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔
کرتارپور کہاں ہے؟
کرتار پور میں واقع دربار صاحب گرودوارہ کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند کلومیٹر کا ہی ہے اور نارووال ضلع کی حدود میں واقع اس گرودوارے تک پہنچنے میں لاہور سے 130 کلومیٹر اور تقریباً تین گھنٹے ہی لگتے ہیں۔
یہ گرودوارہ تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے۔
یہاں سے انڈیا کے ڈیرہ صاحب ریلوے سٹیشن کا فاصلہ تقریباً چار کلومیٹر ہے۔ راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے۔
گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقام ہے۔ پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہے۔