کشمیر کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 'انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں' کا مقدمہ عالمی عدالتِ انصاف میں لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مقامی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد یہ اصولی فیصلہ کیا گیا ہے کہ کشمیر کا معاملہ عالمی عدالتِ انصاف میں اٹھایا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں وزیر قانون سمیت بین الاقوامی قوانین کے ماہر بھی موجود تھے جن سے مشاورت کے بعد یہ ’واضح، ٹھوس اور اصولی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے قتل عام کے معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں اٹھائے گا۔ یہ ہمارے پاس ایک مضبوط کیس ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے دیگر تفصیلات وزارت قانون جلد جاری کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے قبل پاکستان کو اپنے پاس موجود قانونی آپشنز کو دیکھنا تھا اور ’تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں ہمارا ایک ٹھوس مؤقف ہے، اور اس کو عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جا سکتا ہے اور اب مکمل مشاورت کے بعد یہ فیصلہ ہوا ہے۔‘
دوسری جانب وزیرِ اعظم عمران خان کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کا مقدمہ لڑے گا جبکہ مطالبہ کیا کہ ’عالمی برادری کشمیریوں کی نسل کشی روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان 27 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے جارہے ہیں۔ واضح رہے کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی ان سے ایک دن قبل 26 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔











