آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسلام آباد میں شِوسینا کے پیغام والے بینر ’ڈیزائنر کی غلطی کا نتیجہ‘
اسلام آباد کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں انڈیا کی انتہا پسند ہندو تنظیم شِو سینا کے رہنما کے پیغام والے بینرز کا معاملہ ڈیزائنر کی غلطی کا نتیجہ تھے۔
انڈیا کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے اعلان کے بعد اسلام آباد کی اہم شاہراہوں پر ایسے بینر آویزاں کیے گئے تھے جن پر شِو سینا کے رہنما سنجے راوت کا وہ بیان لکھا تھا کہ ’آج جموں اور کشمیر لیا ہے، کل بلوچستان لیں گے اور مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم اکھنڈ ہندوستان کا خواب پورا کریں گے۔‘
تھانہ سیکریٹریٹ کے انچارج انسپکٹر اسجد محمد کے مطابق یہ بینر صرف ان کے تھانے کی حدود میں نہیں لگائے گئے بلکہ دو اور تھانوں کی حدود میں آویزاں کیے گئے ہیں جن میں تھانہ کوہسار اور تھانہ آبپارہ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ان بینرز کی تصاویر سامنے آنے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انھیں ہٹا دیا تھا۔ نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مقامی صحافی جب پولیس اہلکاروں کی ان بینروں کو اتارتے ہوئے تصاویر بنا رہے تھے تو وہاں پر موجود پولیس حکام نے میڈیا کے نمائندوں کو ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔
پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کرتے ہوئے چند افراد کو حراست میں بھی لیا تھا جبکہ جس پرنٹنگ پریس سے مبینہ طور پر یہ بینرز چھپوائے گئے تھے اس کو بھی سیل کر دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات سے ٹوئٹر پر اس بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ بینرز کے معاملے میں تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اصل میں بینر بنانے والے ڈیزائنر کی تکنیکی غلط فہمی اور غلطی کا معاملہ ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق یہ بینر کچھ نوجوانوں کی جانب سے بنوائے گئے تھے جو کہ انڈیا کے توسیع پسندانہ عزائم کو سامنے لانا چاہتے تھے تاہم ڈیزائنر کی غلطی کی وجہ سے ان کا غلط مطلب لیا گیا۔
خیال رہے کہ ان بینرز پر جہاں شیو سینا کے رہنما کا بیان جلی حروف میں تحریر تھا وہیں اس پر موجود ’لوگو‘ میں اکھنڈ بھارت ریئل ٹیرر‘ یعنی کہ ’متحدہ انڈیا اصل دہشت گرد‘ بھی تحریر کیا گیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق تفتیش کے دوران بینر بنانے والوں کی گذشتہ ایک ماہ کی سرگرمیوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فورینزک تجزیہ بھی ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ درحقیقت نوجوان کارکن ہیں جنھیں اپنی گرامر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔‘
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے بینرز کے معاملے کی تحقیقات تو مکمل ہونے کا اعلان کیا تاہم یہ نہیں بتایا کہ آیا جن افراد کو اس سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا انھیں کیا غلط فہمی ثابت ہونے پر رہا کر دیا گیا ہے یا وہ ابھی زیرِحراست ہیں۔
خیال رہے کہ اسلام آباد میں بینر آویزاں کرنے کا ایک طریقہ کار موجود ہے اور اسلام آباد کا ترقیاتی ادارہ ایسے بینروں کو لگانے کی اجازت دیتا ہے۔
اس ضمن میں جب سی ڈی اے کے حکام سے رابطہ کیا گیا تھا تو اُنھوں نے کہا کہ اس طرح کے بینر آویزاں کرنے کی نہ تو اُنھوں نے اجازت دی ہے اور نہ ہی کوئی ان سے اجازت لینے کے لیے آیا ہے۔
اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت حکومت مخالف یا مذہبی منافرت پھیلانے کے حوالے کسی بھی قسم کے بینر آویزاں کرنے پر پابندی ہے۔