آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نگر کیرتن: انڈین سکھوں کا بابا گرونانک کے 550 ویں یومِ پیدائش پر پاکستان میں خصوصی جلوس
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب میں جمعرات کو انڈیا سے آئے ہوئے تقریباً 500 سکھ یاتری 'نگر کیرتن' کا جلوس نکال رہے ہیں۔
ننکانہ صاحب سے نکلنے والا یہ جلوس لاہور جائے گا جہاں سے یہ واہگہ کے مقام پر سرحد پار کر کے انڈیا میں داخل ہوجائے گا۔
نگر کیرتن کے جلوس کو سکھ مذہب میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ نگر کے معنی ہیں بستی یا آبادی، اور کیرتن کے معنی ہیں کسی کہانی یا خیال کو دہرانا یا پڑھنا۔ چنانچہ اس کا مطلب ایک ایسی عبادت ہے جس میں جلوس کی صورت میں مذہبی گیت گائے جاتے ہیں تاکہ پوری بستی تک پیغام پہنچے۔
اس رسم کے لیے کوئی خاص وقت یا موسم تو مقرر نہیں ہے مگر عموماً یہ جلوس بیساکھی کے میلے سے پہلے نکالا جاتا ہے یا پھر اہم مواقع مثلاً بابا گرو نانک صاحب کے یومِ پیدائش کی آمد کی اطلاع دینے کے لیے بھی نکالا جاتا ہے۔
اس دفعہ پاکستان میں نگر کیرتن کا انعقاد سکھ مت کے بانی بابا گرو نانک صاحب کی ساڑھے پانچ سو ویں یومِ پیدائش کے موقع پر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کو نکالنے کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ اس کے لیے ایک راستہ متعین کیا جاتا ہے جسے سیوا دار کہلانے والے رضاکاروں کے ذریعے صاف رکھا جاتا ہے۔
اس کے بعد سکھوں کے دسویں اور آخری انسانی گرو، گرو گوبند سنگھ صاحب کے پانچ محبوب ساتھیوں بھائی دیا سنگھ، بھائی دھرم سنگھ، بھائی ہمت سنگھ، بھائی محکم سنگھ، اور بھائی صاحب سنگھ، جنھیں مجموعی طور پر پنج پیارے کہا جاتا ہے، کی نمائندگی کرتے پانچ افراد اس جلوس کی قیادت کرتے ہیں۔
ان پانچ افراد کے پیچھے ایک پالکی میں سکھوں کی مقدس مذہبی کتاب گرو گرنتھ صاحب رکھی جاتی ہے اور اس دوران باآواز بلند روحانی ورد کیے جاتے ہیں اور جلوس کے راستے کے گرد کھڑے افراد دعائیں مانگتے ہیں۔
سکھ مت کے بانی بابا گرو نانک صاحب کی جنم بھومی ننکانہ صاحب سے نکلنے والے اس جلوس کے بارے میں بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ نے وہاں آئے ہوئے سکھ یاتریوں سے بات کی۔
بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز سے بات کرتے ہوئے انڈیا سے آئے ہوئے ایک سکھ یاتری کا کہنا تھا کہ یہ جلوس اس لیے نکالا جاتا ہے تاکہ عوام کو خبر ہو جائے کہ ایک ایسا اہم دن آنے والا ہے جسے منایا جانا ہے۔
سکھ یاتریوں کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ موقع نہایت اہمیت کا حامل ہے کیوںکہ تقریباً 70 سال میں پہلی مرتبہ نگر کیرتن ننکانہ صاحب سے نکال کر انڈیا لے کر جایا جائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس موقع پر تو انڈیا کے سکھوں کی کمیٹی نے صرف ننکانہ صاحب کے ویزا کے لیے درخواست دی تھی مگر ان کا دل تھا کہ وہ لاہور بھی دیکھ پاتے۔
ساتھ ہی ساتھ انھوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی وہ ’جتھے’ (برادری) کے ساتھ دوبارہ پاکستان آئیں گے تاکہ تمام مقدس گردواروں کے درشن کر سکیں۔
انھوں نے بتایا کہ انڈیا کی سرحد پار کرنے کے بعد یہ جلوس انڈیا کی 17 ریاستوں میں جائے گا جو کہ پنجابی بیلٹ میں ہیں اور جہاں سکھ اکثریت میں پائے جاتے ہیں، جس کے بعد یہ جلوس تقریباً ایک ماہ کا اپنا سفر مکمل کر کے ریاست اترپردیش کے شہر سلطان پور میں اختتام پذیر ہوگا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سکھ یاتریوں نے پاکستان کی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے یاتریوں کو بڑی تعداد میں ویزے جاری کیے، اور امید بھی ظاہر کی کہ کرتارپور راہداری کی تکمیل کے بعد ان کے لیے گردوارہ کرتارپور صاحب جو کہ ننکانہ صاحب کے بعد سکھوں کے لیے دوسری سب سے مقدس جگہ ہے، کا دورہ کرنا آسان ہوجائے گا۔