شہباز شریف نے منی لانڈرنگ کا الزام لگانے والے برطانوی اخبار ڈیلی میل کو قانونی نوٹس بھیج دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کو قانونی نوٹس بھیج دیا ہے جس کے مطابق اخبار میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ان کے خلاف لگے منی لانڈرنگ کے الزامات ’جھوٹ پر مبنی‘ ہیں۔
ڈیلی میل نے 14 جون کو ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں یہ عندیہ دیا گیا کہ شہباز شریف نے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اپنے دورِ حکومت کے دوران زلزلہ متاثرین کی امداد میں سے کچھ رقم منی لانڈرنگ سے بیرونِ ملک بھجوائی۔
بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق لیگل نوٹس لندن میں موجود شہباز شریف کے وکلا نے تیار کیا جس میں اخبار کے رپورٹر ڈیوڈ روز کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
نوٹس کے مطابق ڈیلی میل کے آن لائن ایڈیشن ’میل آن لائن‘ کی خبر کے پیچھے ’سیاسی محرکات‘ تھے۔
یہ بھی پڑھیے
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’یہ غیر معمولی بات ہے کہ برطانوی صحافی (ڈیوڈ روز) کے بقول انھیں اعلی سطح پر حساس ترین دستاویزات تک رسائی دی گئی اور پاکستانی جیل میں ریمانڈ پر قیدیوں سے ملوایا گیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق وزیراعلی پنجاب کے مطابق اخبار نے خبر شائع کرنے سے قبل ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا تاہم وہ ان کے خلاف برطانیہ کی عدالتوں میں ہتک عزت کا مقدمہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
قانونی چارہ جوئی کا اعلان
بی بی سی اردو کے عمیر سلیمی کے مطابق شہباز شریف نے 14 جون کو برطانوی اخبار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ خبر میں ان پر لگے الزامات وزیر اعظم عمران خان اور ان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کے ایما پر لگائے گئے۔
شہباز شریف نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’ڈیلی میل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خود ساختہ اور گمراہ کن خبر عمران خان اور شہزاد اکبر کے ایما پر چھاپی گئی۔ ہم ان دونوں حضرات کی خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ ویسے، عمران خان صاحب آپ کو ابھی میری جانب سے کیے گئے ہتک عزت کے تین دعووں کا جواب بھی دینا ہے۔‘
الزامات کیا ہیں؟
ڈیلی میل کی خبر میں موجودہ حکومتِ پاکستان کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں بتایا گیا کہ مسلم لیگ نواز کے رہنما شہباز شریف نے برطانوی امداد میں سے پیسے چرا کر برطانیہ میں شریف خاندان کے اکاؤنٹ میں بھیجے۔ تاہم ڈی ایف آئی ڈی اور مسلم لیگ نواز دونوں نے اس خبر کی تردید کی ہے۔
خبر میں زلزلے کے بعد بحالی و تعمیر نو کے لیے ایرا نامی پاکستانی ادارے میں کرپشن کا ذکر کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رپورٹ میں تحریکِ انصاف حکومت کی ایک خفیہ تحقیقاتی رپورٹ کا دعویٰ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مسلم لیگ نواز کی حکومت کے دوران شہبار شریف کے داماد نے زلزلہ متاثرین کی امداد میں سے دس لاکھ پونڈ حاصل کئے۔
رپورٹ کے مطابق ایرا کے سابق ڈائریکٹر فائنانس اکرام نوید نے گذشتہ نومبر اپنا جرم قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے برطانیہ سے زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے 15 لاکھ پاؤنڈ وصول کیے جس میں سے 10 لاکھ پاؤنڈ شہباز شریف کے داماد علی عمران کو دیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق یہ رقم پہلے برمنگھم بھجوائی گئی اور اس کے بعد اسے شریف خاندان کے اکاؤنٹس میں ڈالا گیا۔
رپورٹ میں وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا بیان بھی شامل کیا گیا جس میں انھوں نے دعویٰ کیا: 'ہماری تحقیقاتی ٹیم نے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ منی لانڈرنگ زیادہ تر برطانیہ میں کی گئی۔'
ڈیلی میل کی خبر میں وضاحت کرتے ہوئے شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز نے اسے عمران خان کی سرپرستی میں ہونے والا سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے اپنے خاندان پر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے شواہد موجود نہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیلی میل کی خبر میں کہا گیا ہے کہ سال 2003 میں شریف خاندان کے پاس صرف ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ تھے جبکہ سنہ 2018 میں ان کے اثاثے بڑھ کر 20 کروڑ پاؤنڈ ہو گئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
برطانیہ کا ادارہ برائے امداد کیا کہتا ہے؟
برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی یا ڈی ایف آئی ڈی نے اتوار کو اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ ڈیلی میل نے اپنی خبر میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیے۔
ادارے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ خبر میں ان کا موقف آخر میں دیا گیا جس میں انھوں نے کہا: 'زلزلہ متاثرین کے لیے برطانیہ کی مالی امداد نتائج پر منحصر ہے۔ اس سے مراد ہے کہ پیسے صرف اسی صورت میں ادا کیے جاتے ہیں کہ جب مکمل کام کا جائزہ اور آڈٹ ہو جائے ۔'
ان کے مطابق 'امداد سے زلزلہ متاثرین کی مدد ہوئی' اور 'ہمارے مضبوط نظام نے برطانوی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو محفوظ رکھا۔'
ادارے کے مطابق ان کی امداد سے پاکستان میں مشکل وقت میں لاکھوں لوگوں کی مدد ہوئی۔
ڈی ایف آئی ڈی نے ڈیلی میل کی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جبکہ شہزاد اکبر نے اپنے بیان میں زلزلہ متاثرین کی امداد کا ذکر کیے بغیر صرف اتنا کہا کہ 'ایسا لگ رہا ہے جیسے شاید ترقیاتی منصوبوں اور امداد میں سے کچھ پیسے چرائے گئے۔'
اپنی ساکھ کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈی ایف آئی ڈی نے واضع کیا کہ انھوں نے پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا اور برطانیہ اور پاکستان دونوں کے استحکام اور سیکورٹی کو بہتر بنایا جس سے بالآخر برطانیہ کو فائدہ پہنچا۔
'سنہ 2007 سے اب تک قدرتی آفات کے دوران برطانیہ نے 80 لاکھ پاکستانیوں کی مدد کی ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مسلم لیگ نواز کا رد عمل
مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس خبر کو بے بنیاد اور پروپیگینڈا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت برطانوی اخبار ڈیلی میل کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔
انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ’خبر میں برطانیہ کی کسی سرکاری رپورٹ کا ذکر نہیں۔‘
’حکومت پنجاب نے ایمانداری سے قوم کے سرمائے اور بیرون ملک سے آنے والے فنڈز کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا۔‘
مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ برطانوی اخبار کے علاوہ وزیراعظم عمران خان اور شہزاد اکبر کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔











