پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ طبی بنیادوں پر ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے گزشتہ برس دسمبر میں العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سات سال قید اور ڈھائی ارب روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

میاں نواز شریف کے پاس اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا آپشن موجود ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سابق وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنے موکل سے مشاورت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے پہلے بھی طبی بنیادوں پر سابق وزیر اعظم کی ضمانت کی درخواست مسترد کی تھی۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کی۔

میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ضمانت کی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کو مختلف بیماریاں لاحق ہیں جن میں دل اور شوگر کی بیماریاں بھی شامل ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسی خطرناک بیماریوں کو ہروقت مانیٹر کرنا بہت ضروری ہے۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کے ڈاکٹروں نے ان کے امراض کا علاج کرنے کی سفارش کی ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم کے وکیل نے اپنے موکل کی بیماریوں سے متعلق میڈیکل رپورٹ اور ڈاکٹروں کی رائے پر مشتمل ایک رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروائی تھی جس میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ میاں نواز شریف کی بیماریوں کا علاج بیرون ممالک میں ہی ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیے

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کہ رہائی کے بعد ان کا علاج پاکستان میں ہوگا یا بیرون ملک۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھی بہترین ڈاکٹر موجود ہیں جو بیرون ملک جاکر لوگوں کا علاج کرتے ہیں۔

اُنھوں نہ کہا کہ میاں نواز شریف کا نام تو ایگزٹ کٹرول لسٹ میں شامل ہے تو وہ بیرون ممالک کیسے جائیں گے۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم کے مقدمات کے بھی حوالے دیے جس میں ان افراد کو بیرون ملک جاکر علاج کروانے کی اجازت دی گئی۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو چند ہفتوں کے لیے ضمانت نہیں چاہیے بلکہ ضمانت مستقل بنیادوں پر دی جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان کے موکل اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد ڈپریشن میں ہیں اور یہ معاملہ ان کو لاحق بیماریوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قید کے دوران قیدیوں کو ڈپریشن ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

نیب کے ایڈشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ نے اس ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کی طبیعت بہتر ہے اس لیے طبی بنیادوں پر ضمانت نہ دی جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم کو علاج کی غرض سے ان کو دی گئی سزا کو چھ ہفتوں کے لیے معطل کردیا تھا لیکن اس عرصے کے دوران اُنھوں نے علاج نہیں کروایا اور صرف ٹیسٹ ہی کروائے گئے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو چھ ہفتوں کی ضمنانت پر رہائی کے فیصلے میں یہ واضح کیا تھا کہ وہ رہائی کی مدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ ضمانت کے لیے متعقلہ ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کرسکتے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب حکومت نے اُنھیں کوٹ لکھپت جیل میں قید پارٹی کے قائد میاں نواز شریف سے ملنے کی اجازت نہیں دی۔

سابق وزیر اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ جیل کی انتظامیہ نے اُنھیں میاں نواز شریف سے ملنے کی اجازت نہیں دی۔

کوٹ لکھپت جیل کے حکام نے جمعرات کو صرف نواز شریف کے خاندان کے افراد کو ان سے ملنے کی اجازت دی۔