جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دھرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان میں وکلا کی تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کیے جانے والے ریفرینس کے خلاف 14جون سے سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے داخلی راستوں پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔
انھوں نے ملک بھر کے وکلا سے اپیل کہ وہ اس دھرنے کی حمایت کریں اور اس میں بھر پور انداز سے شرکت کریں۔
یہ اعلان انھوں نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقعے پر بلوچستان بار کونسل، بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر وکلا تنظیموں کے عہدیدار بھی موجود تھے۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرینس کے حوالے سے بلوچستان کے وکلا تنظیموں کا اجلاس جمعہ کو کوئٹہ میں منعقد ہوا۔
انھوں نے کہا کہ اس اجلاس میں اس ریفرینس کی مذمت کرتے ہوئے اسے امتیازی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا گیا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ وکلا اسے اس لیے بدنیتی پر مبنی سمجھتے ہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی تمام کاروائیاں خفیہ ہوتی ہیں، لیکن قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سماعت سے پہلے ہی ریفرینس کو اوپن کر کے ان کا میڈیا ٹرائل شروع کر دیا گیا ہے۔
ان کے بقول یہ میڈیا ٹرائل ان لوگوں کی جانب سے شروع کیا گیا جو کہ حلف کے تحت اس بات کے پابند ہیں کہ وہ کوئی راز افشاں نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کی بدنیتی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے 350 شکایتیں موجود ہیں۔
امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ 22 کروڑ عوام میں سے کسی کو پتہ نہیں کہ ان شکایتوں میں کس کس کے نام ہیں اور ان کے خلاف کیا کیا الزامات ہیں لیکن قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف الزامات کو پہلے ہی افشا کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے 17ججوں میں سے بلوچستان سے واحد جج ہیں جو کہ آئندہ انتخابات تک سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنیں گے۔
انھوں نے کہا کہ اس لحاظ سے وہ اس ریفرینس کو بلوچستان کو چیف جسٹس کے حق سے محروم رکھنے کی سازش بھی سمجھتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس ریفرینس کے خلاف 14جون کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ریفرینس کے خلاف اسلام آباد میں وکلا سپریم کورٹ کے داخلی راستے پر جبکہ کوئٹہ میں وکلا بلوچستان ہائیکورٹ کے داخلی راستے پر دھرنا دیں گے ۔
امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کا یہ دھرنا اس وقت جاری رہے گا جب تک حکومت اس ریفرنس کو واپس نہیں لیتی یا سپریم کورٹ یا سپریم جوڈیشل کونسل اسے بدنیتی کی بنیاد پر ختم نہیں کرتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ خواہ اس دھرنے میں ایک دن لگے، ایک ہفتہ لگے، ایک ماہ لگے یا ایک سال یا اس سے زائد کا عرصہ لگے، وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ اس روز اس ریفرینس کے نقول کو بھی بطور احتجاجاً نظر آتش کیا جائے گا۔
انھوں نے ملک کے تمام وکلا سے اپیل کی کہ 14جون کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کریں۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ وہ احتساب کے خلاف نہیں لیکن احتساب تمام اداروں کا بلا امتیاز اور انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔










