آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان: پولیو کارکنوں پر حملوں کے بعد پولیو مہم کے بعض مراحل معطل
ملک کے مختلف حصوں میں پولیو کے کارکنوں پر حملوں اور سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر، وفاقی حکومت نے پولیو کے خلاف مہم کے بعض مراحل معطل کردیے ہیں۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنل سینٹر فار پولیو، (این ای او سی) کے مطابق پشاور کے واقعات کے تناظر میں، اپریل کے مہینے میں پولیو مہم کے بعد کی جانے والی تشخیص مہمات کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
لہذا اپریل کے مہینے میں ملک کے کسی بھی علاقے میں مزید ویکسینیشن یا اس سے منسلک کوئی سرگرمی نہیں کی جائے گی۔
مزید پڑھیے
انسداد پولیو کے لیے وزیر اعظم عمران خان کے فوکل پرسن بابر بن عطا نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان ہدایات کا تعلق پولیو مہم سے نہیں، یہ پولیو مہم کے بعد کیے جانے والے سروے سے ہے جس میں اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ آیا پولیو مہم 95 فیصد ہدف حاصل کر سکی یا نہیں۔ صرف اس سروے (مہم کے بعد کی جانے والی تشخیص) کو روکنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا مذید کہنا تھا ’پولیو مہم نے اپنا وقت مکمل کیا اور وہ ختم ہو گئی اور جس طرح ہمارا پلان تھا پہلے دن سے، اسی حساب سے اگلی مہم رمضان کے بعد کی جاری ہے۔‘
پولیو مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سنہ 1993 سے پولیو مہمات کی جاری ہیں اور یہ تمام مہمات پانچ روز پر مشتمل ہوتی ہیں جس کے دوران پہلے تین دن بچوں کو قطرے پلائے جاتے ہیں اور باقی کے دو دن جو والدین پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیں یا اپنے گھر یا سکول میں نہ ہونے کے باعث یا کسی اور وجہ سے جو بچے قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں، انہیں قطرے پلائے جاتے ہیں۔
ان کا مذید کہنا تھا کہ ’پولیو مہم پیر کو شروع ہوتی ہے اور جمعے کو ختم ہوتی ہے۔ کل پولیو مہم کا اختتام ہو گیا اور پاکستان پولیو پروگرام نے اس مہم کے دوران تین کروڑ ستر لاکھ بچوں تک رسائی حاصل کی ہے۔‘
پولیو کے کارکنوں پر ہونے والے حملوں کے تدارک کے لیے اقدامات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیشہ پولیو ورکرز کو سیکورٹی دی گئی ہے۔ ملک بھر میں دو لاکھ ستر ہزار پولیو کارکنان گھر گھر پولیو مہم میں حصہ لیتے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے ایک لاکھ پچاس ہزار پولیس اور سیکورٹی اہلکار ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ مستقبل میں بھی ہم اسی طرح پولیو کارکنان کو سیکورٹی دیتے رہیں گے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ عوام کے ذہنوں میں پولیو مہم کو لے کر جو خدشات ہیں انہیں دور کرنے کے لیے کیا اقدامات لیے جا رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا ’ہم نے اس بات کا فیصلہ کر لیا ہے کہ جتنا فوکس پولیو ویکسین کو بچوں تک پہنچانے پر دیا جاتا ہے اتنا ہی فوکس عوام الناس میں شعور اجاگر کرنے اور پولیو مہم کو بہتر طور پر قبول کرنے کے لیے کیا جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس سلسے میں ذرائع ابلاغ کے تمام اداروں جس میں اخبارات، ٹی وی چینل، سوشل میڈیا، علمائے کرام، مساجد میں اعلانات کرائے جائیں گے اور اس کے علاوہ ان علاقوں میں جہاں والدین کے ذہنوں میں اس مہم کے بارے میں شکوک و شبہات زیادہ پائے جاتے ہیں وہاں انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔‘
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر محمد حمزہ شفقات کے مطابق سینیچر اور اتوار کے روز ملتوی ہونے والی سرگرمیوں کے باعث 14402 بچے قطرے پینے سے محروم رہ گئے ہیں۔
خیال رہے کہ مشکلات کے باوجود اسلام آباد میں پولیو مہم کی رسائی ملک میں سب سے زیادہ ہے۔
ان کا مذید کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیو کنٹرول روم کے حکام نےقطرے پلانے سے انکار کرنے والے 72 فیصد والدین کو پولیو مہم کی اہمیت اور پشاور میں منفی پروپیگینڈے کے باوجود، قطرے پلانے کے لیے قائل کیا۔
یاد رہے حالیہ ملک گیر انسداد پولیو مہم کے دوران حکام کو اس وقت عوام کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جب پیر کی صبح پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر میں ماشوخیل کے مقام پر تین سے چار دیہات سے تعلق رکھنے والے مشتعل افراد نے جمع ہو کر بنیادی صحت کے ایک مرکز پر حملہ کیا۔
بڈھ بیر پولیس سٹیشن کے ڈی ایس پی گران اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے کے ایک نجی سکول میں دس سال سے زائد عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا رہے تھے کہ اس دوران وہاں کسی نے اچانک یہ افواہ پھیلا دی کہ ویکسین پینے سے بچوں کی طبعیت بگڑ گئی جس سے تین بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں اچانک یہ افواہیں گردش کرنے لگی کہ بچوں کو زائد المعیاد ویکسین پلائی گئی جس سے چند ہی گھنٹوں کے دوران پورے شہر میں شدید خوف کی کیفیت پیدا ہوئی اور لوگ بچوں کو لے کر ہپستالوں کا رخ کرنے لگے۔
بعدازاں خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس نے پولیو مہم کے حوالے سے افواہیں پھیلانے اور سرکاری املاک پر حملوں کے الزام میں 12 افراد کے خلاف ابتدائی اطلاعی رپورٹ درج کر کے ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔
ادھر صوبہ بلوچستان کے علاقے چمن کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک خاتون پولیو ورکر ہلاک جبکہ دوسری زخمی ہوگئی تھیں۔ بلوچستان میں رواں سال کے دوران پولیو ورکز پر یہ پہلا حملہ ہے جبکہ اس سے قبل ماضی میں کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں پولیو ورکرز پر حملے ہوتے رہے ہیں۔ گذشتہ برس کوئٹہ شہر کے علاقے ہزارگنجی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک خاتون پولیو ورکر اور ان کی بیٹی ہلاک ہوئی تھیں۔