آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شاہ محمود: ’جہانگیر ترین کو کابینہ سمیت سرکاری تقریبات میں نہیں بیٹھنا چاہیے‘
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین کو کابینہ کے اجلاس سمیت سرکاری تقریبات میں نہیں بیٹھنا چاہیے کیونکہ اس سے حزب مخالف کی جماعتوں کو حکومت پر تنقید کرنے کا موقع ملتا ہے۔
لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کو پیچھے بیٹھ کر حکومت کو مشورے دینے چاہیے۔ جب وزیر خارجہ سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ معاملہ وزیر اعظم عمران خان کے سامنے اُٹھائیں گے تو انھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اثاثے چھپانے کے الزام میں جہانگیر ترین کو زندگی بھر کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا جس کی وجہ سے وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔
یہ بھی پڑھیے
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم میاں نوا شریف کو بھی سپریم کورٹ نے آئین کے ارٹیکل62 ون ایف کے تحت عمر بھر کے لیے نااہل قرار دیا تھا ا ور اگر وہ پارٹی کے کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوتے تو پھر جہانگیر ترین کو بھی عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کا وفاقی کابینہ اور سرکاری تقریبات میں شرکت پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے فیصلے کی توہین ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ جہانگیر ترین جن سرکاری افسران سے اجلاسوں میں بریفنگ لیتے ہیں، وہ افسران باہر آکر باتیں کرتے ہیں جو کہ کسی طور پر حکمراں جماعت کے حق میں نہیں ہوتیں۔
البتہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے کئی صوبائی اور وفاقی وزرا جہانگیر ترین کے حق میں بول پڑے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں سب سے اہم کردار جہانگیر ترین کا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جہانگیر ترین نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔
شاہ محمود قریشی کے بیان پر جہانگیر ترین کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے جس میں اُن کا کہنا تھا کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں وزیر اعظم عمران خان کی مرضی سے جاتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ سیاسی معاملات میں وزیر اعظم کے علاوہ اور کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔ جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ انھیں عوام کی خدمت کرنے سے شاہ محمود قریشی سمیت کوئی اور نہیں روک سکتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمنٹ میں موجود ارکان دو دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں ایک دھڑا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ہے جبکہ دوسرے دھڑے کو جہانگیر ترین کی حمایت حاصل ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کے دونوں بڑے رہنماوں کے درمیان اختلافات سے پارٹی کو نقصان پہنچے گا۔
بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام میں تبدیلی کا معاملہ
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکمراں اتحاد میں شامل جو افراد بےنظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کے بارے میں کہہ رہے ہیں وہ حکومت کو غلط مشورہ دے رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس ادارے کا نام تبدیل کرنے کی نہیں بلکہ کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ صوبہ سندھ کے دورے کے دوران گھوٹکی میں حکمراں اتحاد میں شامل گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں سے ملاقات کے دوران ان رہنماؤں کے مطالبے پر وزیر اعظم عمران خان نے بےنظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام تبدیل کرنے حکم دیا تھا۔
ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان پیپلز پارٹی یا سندھ کی صوبائی حکومت اس پروگرام کو چلا رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ چونکہ یہ ادارہ وفاقی حکومت چلارہی ہے اس لیے اس ادارے کے نام کو تبدیل کیا جائے جس پر وزیر اعظم عمران خان نے جواب دیا کہ ’سمجھو ہوگیا`۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت تمام اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے میں کوشاں ہے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے بےنظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کے فیصلے کے خلاف ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ایک قرارداد جمع کروائی ہے جس میں وزیر اعظم کے اس فیصلے کے مذمت کی گئی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ پسماندہ خاندان کی مالی معاونت کے لیے بنائے گئے ادارے کا نام بےنظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام رکھنے کے لیے قومی اسمبلی میں قانون سازی کی گئی تھی۔