آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستانی حکومت نے کالعدم تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم جاری کر دیا
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے کے قانون کا اطلاق کر دیا ہے۔
پاکستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق کالعدم تنظیموں کے خلاف موثر اور بھرپور کارروائی کے لیے تمام صوبوں کو ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔
قانون کے بارے میں اعلان پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ حکم نامہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سنہ 1948 کے ایکٹ کے تحت جاری کیا گیا جس کا مقصد پابندیوں کی زد میں آنے والی جماعتوں اور افراد کے خلاف اقدامات یقینی بنانا ہیں۔
اس قانون کے تحت ان تنظیموں کو حکومتی کنٹرول میں لینے کے علاوہ ان کے اثاثے بھی منجمد کر دیے گئے ہیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اقدامات عالمی امن و سلامتی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس قانون کو اقوام متحدہ اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے معیار کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سلامتی کونسل احکامات پر عمل درآمد سلامتی کونسل ایکٹ 1948 کے تحت کیا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے احکامات کا مقصد پابندی کا شکار تنظیموں اور افراد کو کنٹرول میں لینا ہے۔
پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف قائم ادارے نیکٹا کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی لسٹ میں شامل تنظیموں میں لشکر جھنگوی، جماعت الدعوۃ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور لشکر طیبہ سمیت دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔
نئے قانون کے مطابق تمام تنظیموں کے ہر قسم کے اثاثہ جات حکومتی کنٹرول میں ہوں گے۔ اس کے علاوہ ان کے فلاحی ادارے اور ایمبولینسز بھی حکومتی کنٹرول میں ہوں گے۔
اس قانون کے مطابق حکومت ضبط کیے گئے اثاثوں کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کر سکتی ہے یا پھر بیچ بھی سکتی ہے۔
حکومتی ادارہ جاری کردہ فارم اے پر حکومتی کنٹرول حاصل کرنے کے 48 گھنٹوں کے اندر رپورٹ تیار کرے گا جس میں منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
پاکستان میں یہ قانون ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا کے کئی ممالک پاکستان پر غیر ریاستی عناصر کی مداخلت کا الزام عائد کر رہے ہیں کہ انھیں پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے بیرون ممالک کارروائیوں کی اجازت دی گئی ہے۔
دریں اثنا پیر کو اسلام آباد میں وفاقی وزارت داخلہ میں اس سلسلے میں ایک اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز کے علاوہ خفیہ اداروں کے حکام نے بھی شرکت کی۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبوں کے متعلقہ حکام کو بھی کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کے علاوہ ملکی قانون کے تحت کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کے خلاف بھی موثر کارروائی کی جائے اور اس بارے میں ہر دو ہفتوں کے بعد رپورٹ وزارت داخلہ کو بھیجی جائے۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس کے بعد کالعدم قرار دی جانے والی فلاح انسانیت فاونڈیشن کے زیر انتظام چلنے والی ایمبولینس گاڑی کو کہیں چھپا دیا گیا ہے جبکہ کچھ ایمبولینس گاڑیوں سے فلاح انسانیت کے نام ہٹا کر ابھی بھی ان کو استعمال میں لایا جا رہا ہے۔
اہلکار کے مطابق قانون نافد کرنے والے اداروں کو محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے ان گاڑیوں کے انجن اور چیسز نمبر بھی دے دیے گیے ہیں تاکہ یہ ایمبولینس جہاں کہیں بھی نظر آئیں ان کو فوری طور پر سرکاری تحویل میں لے لیا جائے۔