آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کارو کاری کا شکار ہونے والی رمشا کا مبینہ قاتل گرفتار
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ کے ضلع خیرپور میں 14 سالہ رمشا کے اغوا اور قتل میں نامزد ملزم ذوالفقار وسان کو گرفتار کرلیا ہے جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ رمشا کے علاوہ ملزم غیرت کے نام پر مزید تین قتل کے مقدمات میں نامزد ہے۔
ایس ایس پی خیرپور عمر طفیل کا کہنا ہے کہ رمشا کے قتل کی تحقیقات کےسلسلے میں 28 چھاپے مارے گئے ہیں اور 100 کے قریب مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے اب تک 20 سے تفتیش کی گئی ہے۔
کارو کاری کی رسم کے حوالے سے جاننے کے لیے مزید پڑھیے
'چار روز بعد مرکزی ملزم ذوالفقار وسان کو گرفتار کرلیا ہے جو گذشتہ 25 سالوں میں سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملوث رہا ہے جس میں قتل، اغوا برائے تاوان اور انسداد دہشت گردی کے مقدمات بھی شامل ہیں اور اس سے قبل بھی وہ غیرت کے نام پر قتل کے تین مقدمات میں ملوث رہا لیکن کبھی گرفتار نہیں ہوا۔'
سابق صوبائی وزیر منظور وسان کے رشتے دار ذوالفقار وسان کے بارے میں پولیس نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کی گرفتاری کیسے اور کہاں سے عمل میں لائی گئی ہے۔ اس سے قبل پولیس نے سابق صوبائی وزیر منظور وسان کے خانساماں غفار وسان کو گرفتار کیا تھا۔
مرکزی ملزم پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی وزیر منظور وسان کے رشتے دار ہیں البتہ منظور وسان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ وہ ملزم کو کسی قسم کی مدد یا حمایت فراہم نہیں کر رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واقعے میں ہوا کیا تھا؟
یاد رہے کہ 14 سالہ رمشا کو خیرپور کے علاقے کنب میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا اور ایف آئی آر میں قتل کی نوعیت کارو کاری ظاہر کی گئی ہے۔
رمشا کی والدہ کا کہنا ہے کہ شادی سے انکار پر رمشا کو اغوا کیا گیا اور پانچ روز کے بعد مقامی سیاست دان کی مدد سے اسے بازیاب کرایا گیا تھا۔ جس روز وہ گھر واپس آئی تو پانچ لوگ گھر میں داخل ہوئے اور فائرنگ کرکے رمشا کو ہلاک کردیا۔
رمشا کے والد وسان خاندان کے پاس ملازم ہیں۔ واقعے کی ایف آئی ار ریاست کی مدعیت میں دائر کی گئی اور ایس ایس پی عمر طفیل کا کہنا ہے کہ ریاست کی جانب سے یہ ایف آئی آر اس لیے درج کرائی گئی تاکہ والدین پر دباؤ نہ آئے۔
سب انسپیکٹر منظور شیخ کی مدعیت میں دائر ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پولیس پارٹی گشت پر تھی کہ انھیں اطلاع ملی کہ ملزم ذوالفقار وسان کارو کاری کے الزام میں رمشا کے قتل کے لیے جا رہا ہے۔
جب پولیس حاجی نواب وسان گاؤں کے قریب پہنچی تو انہوں نے فائرنگ کی آواز سنی۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس گھر کے اندر داخل ہوئی تو عورتیں رو رہی تھیں جبکہ ایک لڑکی کی لاش چارپائی پر پڑی تھی۔ وہاں موجود ایک عورت خورشید زوجہ پرویز نے بتایا کہ یہ لڑکی اس کی بیٹی رمشا ہے اور ملزم ذوالفقار وسان نے ساتھیوں کے ہمراہ فائرنگ کرکے اسے ہلاک کیا ہے۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ رمشا کو نو گولیاں ماری گئیں جو سینے، اور دونوں بازؤں سمیت جسم کے مختلف حصوں میں لگی۔ پولیس نے جائے وقوع سے 30 بور پستول کے 10 خول برآمد کیے۔
سوشل میڈیا پر مہم اور سرکاری ردعمل
رمشا وسان کے کیس میں مرکزی ملزم کی عدم گرفتاری پر سیاسی و سماجی کارکنوں نے سوشل میڈیا پر 'جسٹس فار رمشا' کے عنوان سے مہم چلائی جس کے بعد کراچی، حیدرآباد ، خیرپور ، میرپورخاص سمیت متعدد شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
سوشل میڈیا پر خیرپور سے رکن قومی اسمبلی اور سابق ضلع ناظم نفیسہ شاہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا جو غیرت کے نام پر قتل ’آنر ان ماسکڈ‘ کتاب کی مصنفہ ہیں۔
تنقید کے بعد نفسیہ شاہ نے رمشا کے گھر جاکر والدہ سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کی یقین دہانی کرائی۔
سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی تحریک کے نتیجے میں حکومتی سطح پر بھی دباؤ آیا۔
پاکستان تحریک انصاف نے سندھ اسمبلی میں اس قتل کے خلاف قرار داد پیش کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انھیں اجازت نہیں دی گئی۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری کی جانب سے پولیس کو شفاف تحقیقات کی ہدایت دی گئیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پولیس کو ملزم کی گرفتاری کا حکم دیا جس کے بعد ذوالفقار وسان کی گرفتاری عمل میں آئی تاہم مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ایک سیاستدان کے ذریعے ملزم ذوالفقار نے گرفتاری پیش کی ہے تاہم پولیس نے ان اطلاعات کو مسترد کیا ہے۔