بلاول کی عمران خان پر تنقید: ’جمہوریت میں فیصلے کسی ایک فرد کے قلم سے ختم نہیں ہو سکتے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم نے ٹویٹ کیا جس میں پارلیمانی کارروائی اور ای سی ایل کے حوالے سے بات کی، اچھا ہوتا اگر وزیرا عظم بحثیت لیڈر آف دی ہاؤس ایوان میں موجود ہوتے اور خود بات کرتے تاکہ میں ان کو جواب دے سکتا۔ مگر ان میں اتنی ہمت نہیں ہے۔‘
ای سی ایل سے نام نکالنے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ دیتے ہوئے میرا اور وزیر اعلیٰ سندھ کا نام ای سی ایل اے نکالنے کا حکم دیا ہے، چیف جسٹس نے جے آئی ٹی والوں سے پوچھا کہ کس کے کہنے پر بلاول اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل میں ڈالا لیکن اس سوال کا جواب ہی نہیں تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کا نام ای سی ایل سے ہٹاتے ہیں یا نہیں اس سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا، فریڈم آف موومنٹ ایک انسانی حق ہے اور انسانی حقوق کی پاسداری ایک جمہوری حکومت کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلاول بھٹو زرداری نے اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں ہونے والے فیصلے جو دو تہائی اکثریت سے پاس ہوتے ہیں، وہ ایک یا دو غیر منتخب فرد قلم کی جنبش سے ختم کردیتے ہیں، جمہوریت میں ایسا نہیں ہوسکتا، یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ملک چلانے کے لیے دنیا بھر میں چندہ مانگ رہے ہیں، اگر سندھ کے تین ہسپتالوں کو وفاق کے سپرد کیا گیا تو وفاقی حکومت کو ضمانت دینا ہوگی کہ وہ چودہ ارب سالانہ اس ہسپتال کو بجٹ دیں گے تاکہ یہ مفت علاج جاری رہ سکے۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہاکہ 'اپوزیشن نے اتفاق کیا ہے کہ عوام کے معاشی، انسانی اور جمہوری حقوق پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں، ایک دن آئے گا پی ٹی آئی بھی ان مسائل پر ہمارا ساتھ دے گی، یہ ملک کے مفاد میں ہے، ہم اپنے معاشی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے، جدوجہد کے بعد صوبائی حقوق ملے ہیں، کوئی پاکستانی انہیں نہیں چھین سکتا اور نہ ہم چھیننے دیں گے۔
ٹوئٹر پر بیان بازی

،تصویر کا ذریعہ@ImranKhanPTI/twitter
اس سے قبل وزیراعـظم عمران خان نے ای سی ایل میں ڈالے جانیوالے سیاستدانوں کو تنقید کرتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا کہ ' ہمارے چند قانون ساز ای سی ایل سے سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟انہیں بیرون ملک جانے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ سیاستدانوں کے ذمے پاکستان، جس سے پیار کے وہ دعویدار ہیں، کیلئے کرنے کو بہت ساکام باقی ہے۔ ان میں سے کچھ تو باہر جائے بغیر رہ نہیں سکتے اور بعض نے اقامے اور رہائشی اجازت نامے لے رکھے ہیں'

،تصویر کا ذریعہ@BBhuttoZardari/twitter
جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے اس ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ 'ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) میں صرف اپوزیشن اراکین کے نام آنا مضحکہ خیز ہے جب کہ حکومتی اراکین سفر کرنے میں مصروف ہیں اور وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ ابتدائی 6 ماہ کے دوران کوئی بیرون ملک دورہ نہیں کریں گے اور اب تک 7 سے زائد دورے کر چکے ہیں۔'
آصف علی زرداری کا بدین میں جلسے سے خطاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب جمعرات کی سہ پہر بدین میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف زرداری نےکہا کہ ’ہم نے ہمیشہ غریبوں کے حقوق کی بات کی اور جدوجہد کی، سازش ہمارے خلاف نہیں، سازش عوام کے خلاف ہے،ان کی جنگ مجھ سے صرف 18 ویں ترمیم پر ہے۔‘
وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ اب اگر سلیکٹڈ وزیراعظم بن ہی گئے ہو تو کچھ سیکھ لو۔‘ اور تحریک انصاف کی حکومت کے حوالے سے پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ ’پورا پاکستان سن لے، عمران خان پانچ سال نہیں نکال سکتے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘












