آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تبدیلی کی رات: ’جب ڈالر 140 سے گر کر 76 روپے کا ہو گیا‘
گذشتہ سال پاکستانی روپے پر کافی بھاری رہا اور 12 ماہ کے عرصے میں پانچ مرتبہ ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں کمی ہوئی۔
2018 کے آغاز میں ایک ڈالر پاکستانی 110 روپے کا تھا، دسمبر 2018 کے آخر میں بتدریج کمی کے بعد یہ 139 روپے تک پہنچ گیا۔
لیکن 15 اور 16 جنوری کی درمیانی شب جب پاکستانی سوشل میڈیا پھر متحرک رہنے والے ڈاکٹر فرحان ورک نے جب اپنی ٹویٹ میں سوال کیا کہ 'گوگل پر ڈالر کا یہ ریٹ کیوں آرہا ہے' تو اس کے بعد تو جیسے ٹوئٹر پر بھونچال سا آ گیا۔
یہ بھی پڑھیے
اس ٹویٹ میں دیکھا جا سکتا تھا کہ گوگل ڈالر کی شرحِ تبادلہ 76 روپے کے لگ بھگ دکھا رہا تھا۔
جب گوگل پر ہی روپے کے مقابلے میں یورو کی قیمت جانچی گئی تو وہ بھی 158 روپے سے گر کر 87 روپے پر نظر آئی اور برطانوی پاؤنڈ 178 روپے سے گر کر 98 روپے پر نظر آیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد واٹس ایپ ہو یا ٹوئٹر، ہر جگہ پر سب کی زبانوں پر ایک ہی سوال تھا، کیا ڈالر کی قیمت واقعی اتنی گر گئی ہے اور کیا فوراً انھیں خرید لیا جائے۔
قدر میں تبدیلی کی یہ باتیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی تھی جب برطانیہ میں بریگزٹ پر ہونے والا معاہدہ پارلیمان سے منظور نہیں ہو سکا تھا، تو کئی لوگوں کی ذہنوں میں یہ سوال بھی اٹھا کہ آیا یہ تبدیلی اصل ہو۔
فرحان ورک نے اس پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'سب دعائیں کریں کہ گوگل سچا نکل آئے اور یہ کرنسی کی قیمت برطانیہ میں بریگزٹ ڈیل کی ناکامی کی وجہ سے بڑھی ہو۔'
تحریکِ انصاف کے حامی یہ صارف اس خیال سے بھی پرجوش دکھائی دیے کہ ایسا ہونے سے تو ’پاکستان کا قرضہ بھی خودبخود آدھا رہ جائے گا۔‘
رات گئے ہونے والی اس تبدیلی پر ایک صارف نے لکھا کہ میں کتنا خوش قسمت ہوں کہ میں نے ڈالر کو روپے کے مقابلے میں صرف 76 روپے میں دیکھا اور جو لوگ سو رہے ہیں ان کے لیے یہ وقت دوبارہ کبھی نہیں آئے گا۔
صارف فضا خان غوری نے اس پر سوال اٹھایا کہ کیا یہ کوئی غلطی ہے یا واقعی تبدیلی آگئی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے اپنے انتخابی مہم میں متعدد بار وعدہ کیا تھا کہ وہ ڈالر کی قدر میں کمی لا ئیں گے۔ انھی وعدوں کا حوالے دیتے ہوئے چند صارفین نے عمران خان کا شکریہ ادا کیا تو وہیں دیگر نے عمران خان کی وزیر خزانہ اسد عمر کو سراہا۔
اور پاکستانیوں کا خاصا ہے کہ وہ ہر معاملے کو سیاسی رنگ دیتے ہیں اور ایسا ہی کچھ یہاں بھی دیکھنے میں آیا۔
گذشتہ روز حزب اختلاف کے مل بیٹھنے پر ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کا پاکستان پیپلز پارٹی سے اتحاد کے بعد اب گوگل نے بھی پاکستان تحریک انصاف سے اتحاد کر لیا ہے۔
اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر حال ہی میں جاری ایک نیا ٹرینڈ #10yearchallenge کے نام سے جاری ہی جس میں صارفین اپنی دس سال پرانی تصویر کو اپنی تازہ ترین تصویر کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔
اس حوالے سے کئی لوگوں نے تبصرہ کیا کہ گوگل نے ڈالر کی قیمت میں کمی اسی چیلنج کے پیش نظر دکھائی ہے۔
لیکن ان تمام خوش فہمیوں پر پانی پھیرتے ہوئے صحافی عمر علی نے ٹویٹ کی کہ انٹرنیٹ پر دو بڑے سرچ انجن، گوگل اور بنگ دونوں ہی کرنسی کی قدر کے لیے معلومات جس ذریعے سے حاصل کرتے ہیں شاید اُس میں کچھ خرابی تھی کیونکہ دیگر ذرائع سے درست ریٹس دکھائی دے رہے تھے۔
اس پر صارف برہان رضا نے لکھا کہ ’تھی تو یہ غلطی لیکن اس کی وجہ سے ملنے والی خوشی کے نتیجے میں تقریباً دل کا دورہ پڑ گیا تھا۔‘
صارف کرن بھی لکھتی ہیں کہ ’یہ تو معلوم تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا لیکن دل ہی دل میں دعائیں جاری تھیں کہ یہ درست ثابت ہو۔‘
اور بدھ کی صبح تک لوگوں کے ارمانوں کو دغا دیتے ہوئے وہ غلطی بھی درست کر دی گئی اور گوگل پر ڈالر کی قیمت واپس 140 تک پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فرق کی وجہ ممکنہ طور پر تکنیکی خرابی ہو سکتی ہے لیکن گوگل کی جانب سے فی الحال اس حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
منگل کی شب کے وہ چند گھنٹے ہی شاید وہ وقت تھا جس کے بارے میں غالب کہہ گئے تھے کہ ’دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔۔۔‘