آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کراچی: ’ریستوران کا کھانا بچوں کی موت کی وجہ بنا‘
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ ماہ شہر کے متمول علاقے میں دو بچوں کی ہلاکت اور ان کی والدہ کی طبعیت خراب ہونے کی وجہ ایریزونا گرل نامی مقامی ریستوران میں کھایا گیا ناقص کھانا تھا۔
کراچی پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں مقدمہ درج کر کے دو افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔
ہلاکتوں کا یہ واقعہ 10 نومبر کو پیش آیا تھا جب عائشہ نامی خاتون اور ان کے دو بچوں کو طبیعت خراب ہونے پر ایک نجی ہسپتال میں لے جایا گیا تھا جہاں ایک بچے کو مردہ قرار دیا گیا جبکہ دوسرا دوران علاج چل بسا تھا۔
یہ بھی پڑھیں!
ابتدائی تحقیقات میں بچوں کی والدہ نے پولیس کو بتایا تھا کہ انھوں نے ایریزونا گرل اور چنکی منکی نامی ریستورانوں سے ریفریشمنٹ لی اور بعد میں رات کا کھانا کھایا تھا جس کے بعد ان کی طبیعت بگڑی۔
اس کے بعد سندھ فوڈ اتھارٹی نے ایریزونا گرل اور چنکی منکی ریستوران کو سیل کر کے کھائے گئے کھانے کے اجزا کے نمونے حاصل کیے اور تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیج دیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے بھی ریستوران کے کھانے اور ہلاک ہونے والے بچوں کے اعضا کے نمونے حاصل کر کے ان کا کیمیائی تجزیہ کروایا تھا۔
پولیس کے بیان کے مطابق پنجاب فارینزک سائنس ایجنسی اور کراچی یونیوررسٹی نے اپنی رپورٹس میں تصدیق کی ہے کہ ایریزونا گرل کے کھانے میں ایسا بیکٹیریا پایا گیا ہے جو کہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور جس کی وجہ سے بچوں کی اموات ہوئیں اور ان کی والدہ کی طبیعت بگڑی۔
پولیس کے مطابق ان رپورٹس کی روشنی میں دو ملزمان عدنان علیم اور عامر اختر شیخ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ایریزونا گرل کے مالک ندیم ممتاز عدالت سے ضمانت پر ہیں۔
لیبارٹری رپورٹس کی روشنی میں بچوں کے والد محمد احسان کی مدعیت میں اقدام قتل اور کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کے الزام میں مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
کراچی میں مضر صحت کھانے سے بچوں کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔
اس سے قبل سنہ 2015 میں ناظم آباد کے علاقے میں دلپسند سویٹس سے برگر کھانے والے ماں اور تین بچے بےہوش ہوئے تھے، جن میں سے 13 سالہ کنزہ دوران علاج ہلاک ہو گئی تھیں۔ کنزہ کے برگر کی تجزیاتی رپورٹ میں اسے انسانی صحت کے لیے مضر اور زہریلا قرار دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ کراچی میں باہر کھانے کے رجحان میں حالیہ دنوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کی ایک وجہ شہر میں آپریشن کے بعد قائم ہونے والے امن کو بھی قرار دیتے ہیں۔
روایتی کھانے ہوں یا غیر ملکی کھانے و فاسٹ فوڈ، یہ کاروبار تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے، ساحل سمندر سے لے کر شہر کے باہر سپر ہائی وے اور قومی شاہراہ پر بھی کئی ریستوران قائم ہوچکے ہیں۔
سندھ میں کھانے پینے کی اشیا کے معیار کی نگرانی کے لیے حال ہی میں سندھ فوڈ کنٹرول اتھارٹی قائم کی گئی ہے، جو اپنے ابتدائی دنوں میں ہے لیکن اس نے منرل واٹر، اچار اور چٹنیاں بنانے والے کارخانوں پر چھاپے مارے ہیں۔