خواجہ سعد اور خواجہ سلمان رفیق کو نیب نے حراست میں لے لیا

خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نے لاہور ہائیکورٹ میں گرفتاری سے بچنے کے لیے عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست دے رکھی تھی اور وہ اس میں توسیع کے لیے جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو پیش ہوئے تھے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ لاہور کی پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی ایل ڈی اے سے غیر منظور شدہ ہے اور اس کے قیام کے لیے زمین غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی۔ نیب حکام نے دعویٰ کیا کہ خواجہ سعد اور سلمان رفیق پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان میں سے ہیں اور سوسائٹی کے ایک ڈائریکٹر قیصر امین بٹ اس بارے میں احتساب عدالت کے روبرو بیان بھی ریکارڈ کروا چکے ہیں۔

دوسری جانب خواجہ سعد رفیق کے وکلا نے جواب میں کہا کہ ان کے موکل کا پیراگون سٹی ہاوسنگ سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیس کی تفتیش کے سلسلے میں بھی خواجہ برادران نیب سے مکمل تعاون کررہے ہیں لہٰذا شواہد کے حصول کے لیے ان کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

نیب پراسیکیوٹر نے دوران سماعت خواجہ برادران پر الزامات اور ان کو گرفتار کرنے کی ضرورت کے حوالے سے تحریری بیان بھی جمع کرایا۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسٹس طارق عباسی نے عبوری ضمانت میں توسیع کی استدعا مسترد کر دی۔ عدالتی فیصلے کے بعد نیب حکام نے خواجہ سعد اور سلمان رفیق کو لاہور ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتار کر کے نیب لاہور کے ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا۔

خواجہ سعد رفیق پر الزام کیا ہے؟

نیب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے اپنی غیر حقیقی خریدار اہلیہ اور بھائی خواجہ سلمان رفیق کے ساتھ مل کر قیصر امین بٹ اور ندیم ضیا کی شراکت میں ایئر ایونیو کے نام سے ایک ہاؤسنگ منصوبہ شروع کیا۔

نیب کے مطابق ایئر ایونیو کو بعد میں ایک نئے ہاؤسنگ منصوبے پیراگون سٹی سے بدل دیا گیا جو ریکارڈز کے مطابق غیرقانونی منصوبہ ہے۔

نیب نے اپنی چارج شیٹ میں مزید کہا ہے کہ ملزم اپنا غیر قانونی ہاؤسنگ منصوبہ اپنے ساتھیوں کے ذریعے چلا رہا ہے اور ملزمان لاہور کے ترقیاتی ادارے ایل ڈی اے کی جانب سے واضح طور پر منصوبے کو غیرقانونی قرار دینے کے باوجود عوام سے رقوم وصول کر رہے ہیں۔

نیب کے مطابق ملزم مسلسل غیر قانونی فنڈز اور غیر قانونی فوائد مجوزہ منصوبے سے حاصل کر رہا ہے اور اس نے 40 کنال کے پلاٹس اپنے اور اپنے بھائی کے نام پر حاصل کیے ہیں۔

'عوامی عہدے کا استعمال'

نیب نے کہا کہ ملزم نے اس غیر قانونی منصوبے میں توسیع اور تشہیر کے لیے عوامی عہدے کا استعمال کیا اور کمرشل پلاٹوں کی فروخت سے اربوں روپے کے فوائد حاصل کیے جو کہ اصل میں پیراگون سٹی کی ملکیت نہیں تھے اور بدعنوانی پر مبنی اس اقدام اور کرپٹ پریکٹس کے ذریعے خریداروں کو دھوکہ دیا گیا۔

نیب نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ ملزم شواہد میں ردوبدل کر سکتا ہے اور اس کے ساتھ کہا کہ گرفتاری لازمی تھی تاکہ کرپشن کے ذریعے حاصل کردہ رقم کو برآمد کیا جا سکے اور شواہد حاصل کیے جا سکیں تاکہ قانون کے تحت تحقیقات کو مکمل کیا جا سکے۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو بھی نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار کر رکھا ہے۔

حزبِ اختلاف کا احتجاج

دوسری طرف حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے قومی اسمبلی کے سپیکر کو ایوان زریں کے رواں اجلاس کی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے خواجہ سعد رفیق کی شرکت کے لیے درخواست دی ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے اس ضمن میں قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر سے بھی ملاقات کی ہے اور اُنھوں نے خواجہ سعد رفیق کی گرفتاری پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے دی گئی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف بھی ان دنوں نیب کے ایک مقدمے میں گرفتار ہیں تاہم اُنھیں قومی اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے بعد ہی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے لایا گیا۔

ادھر پاکستان مسلم لیگ نواز نے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کی گرفتاری کو ایک سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

اس جماعت کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیب کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ شاید نیب کے پاس وزیر اعظم کے خلاف ہیلی کاپٹر کیس اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے خلاف مالم جبہ کی زمین لیز پر دینے کے مقدمات کی تفتیش کرنے کا وقت نہیں ہے۔