آشیانہ ہاؤسنگ کیس: شہباز شریف دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

احتساب عدالت نے صوبہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

سنیچر کو شہباز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر مسلم لیگ نون کے کارکن عدالت کے باہر جعع تھے۔

جمعے کو قومی احتساب بیورو نے آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں وزیراعلی کی حیثیت سے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کے الزام میں شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار کیا تھا۔

سنیچر کو شہباز شریف کو سخت سکیورٹی میں بکتر بند گاڑی کے ذریعے لاہور کی احتساب عدالت میں لایا گیا۔

عدالت کے باہر مسلم لیگ نون کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے احتساب عدالت سے شہباز شریف کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی درخواست کی کی گئی تھی۔ عدالت نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جس کو تھوڑی دیر سنا دیا۔

احتساب عدالت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف دس روز کے لیے جسمانی ریمانڈ دے دیا اور نیب حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

شہباز شریف کی گرفتاری جمعے کو اس وقت عمل میں آئی جب وہ لاہور میں احتساب بیورو کے دفتر میں صاف پانی سکینڈل کے سلسلے میں بیان ریکارڈ کروانے کے لیے آئے تھے۔

نیب نے شہباز شریف کی گرفتاری کی وجوہات کے حوالے سے جمعے کی رات ایک اعلامیہ جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیے

شہباز شریف کی گرفتاری کی وجوہات

جمعے کی رات جاری کیے والے اعلامیے کے مطابق

  • شہباز شریف نے پنجاب لینڈ ڈویلپمینٹ کمپنی (پی ایل ڈی سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے اختیار حاصل کیے۔
  • شہباز شریف نے پی ایل ڈی سی کو غیر قانونی طور پر کہا کہ آشیانہ منصوبہ ایل ڈی اے کو دیا جائے۔
  • شہباز شریف نے غیر قانونی طور پر پراجیکٹ ایل ڈی اے کو ٹرانسفر کیا۔
  • شہباز شریف کے قریبی ساتھی احد چیمہ اس وقت ایل ڈی اے کی سربراہی کر رہے تھے۔
  • لطیف اینڈ سنز کمپنی کا کنٹریکٹ غیر قانونی طور پر منسوخ کیا گیا۔
  • ملزم نے مبینہ طور پر من پسند کمپنی کو غیر قانونی منافع دینے کے لیے ٹھیکہ منسوخ کروایا۔
  • شہباز شریف نے وزیر اعلی کی حیثیت سے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔
  • آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں پیپرا قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔
  • شریک ملزم احد چیمہ نے ملی بھگت سے سے آشیانہ اقبال کے ٹھیکے کی منقتلی کے لیے غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔
  • اسی طرح پبلک پارٹنرشپ کے تحت ٹھیکہ منظور نظر بسم اللہ انجنیئرنگ کو دیا گیا۔
  • بسم اللہ انجنیئرنگ پیراگون کی پراکسی کمپنی تھی۔
  • پنجاب لینڈ ڈویلپمینٹ کمپنی صوبے میں ایسے پراجیکٹ کے لیے خاص طور پر بنائی گئی تھی۔
  • شہباز شریف کے اس اقدام سے قومی خزانے کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
  • شہاز شریف کا یہ اقدام غیر قانونی اور بد نیتی پر مبنی تھا۔

خیال رہے کہ شہباز شریف اس وقت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں اور قوانین کے تحت ان کی باضابطہ گرفتاری کے لیے سپیکر قومی اسمبلی سے بھی رابطہ کیا گیا۔

قانون کے تحت قومی اسمبلی کے کسی بھی رکن کی گرفتاری کی صورت میں سپیکر کو اطلاع دی جانی ضروری ہے۔

گرفتاری کے بعد شہباز شریف کو لاہور میں نیب کے دفتر میں ہی رکھا گیا ہے اور پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق دفتر کے باہر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہےآ

پنجاب کے وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن نے شہباز شریف کی گرفتاری پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عوام کی امید ہے کہ بددیانت لوگوں کے خلاف مہم چلائی جائے‘۔

ان کا کہنا تھا ’انھوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ یہ تو آغاز ہے، اس کے علاوہ دوسرے لوگ بھی ہیں جن کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ '

انھوں نے مزید کہا ’شہباز شریف کے الفاظ ہیں کہ میری مرضی کے بغیر کسی کی ٹرانسفر نہیں ہو سکتی۔ میرے بغیر پنجاب میں کچھ نہیں ہو سکتا، اس لیے انھی کو مجرم ٹھہرایا جائے گا۔‘

دوسری جانب چند ماہرین شہباز شریف کو حراست میں لیے جانے کے فیصلے کو پاکستان تحریک انصاف حکومت کی جانب سے دھیان بٹانے کا قدم قرار دے رہے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کا ردعمل

مسلم لیگ نواز کے صدر کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عوامی خدمت گاروں کو محض سیاسی مخالف ہونے پر عبرت کا نشان بنانے کی روش پہلے بھی ملک و قوم کا نقصان کرچکی ہے۔

جماعت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق مسلم لیگ ن کے لیے یہ ہتھکنڈے نئے نہیں اور سیاسی مخالفین کے خلاف نیب کے استعمال کی بدقسمت تاریخ ایک بار پھر دہرائی جا رہی ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضمنی الیکشن کے موقع پر شہباز شریف کی گرفتاری سے ثابت ہوگیا کہ حکومت مسلم لیگ ن سے کتنی خوفزدہ ہے اور آزادانہ غیرجانبدارانہ الیکشن مخالفین اپنی سیاسی موت سمجھتے ہیں۔

بیان کے مطابق مسلم لیگ ن تمام صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور قائدین کی مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل ہے کیا؟

پنجاب حکومت نے مارچ 2013 میں کم آمدنی والے سرکاری ملازمین کو گھر فراہم کرنے کے لیے پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کا منصوبہ بنایا تھا جس کے تحت چھ ہزار چار سو گھر تعمیر کیے جانے تھے۔

پنجاب حکومت نے اس سلسلے میں تین ہزار کنال اراضی مختص کی تھی جس میں سے ایک ہزار کنال ڈیویلپرز کو دی گئی تھی۔

قومی احتساب بیورو نے گذشتہ سال نومبر میں آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے حوالے سے تحقیقات شروع کی تھیں جب ان کے پاس متاثرین کی جانب سے متعدد شکایت آئی تھیں کہ تین ہزار کنال کی سرکاری اراضی پر غیر قانونی معاہدہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ دوسری شکایت بولی لگانے والی کمپنی کے حوالے سے تھی جب اس سال شہباز شریف سے جنوری میں نیب نے سوالات کیے تھے کہ حکومت نے آشیانہ سوسائٹی کے لیے کامیاب بولی لگانے والی کمپنی سے معاہدہ واپس لے کر ایک دوسری کمپنی کو کیسے دے دیا تھا۔

یہ وہی مقدمہ ہے جس میں اس معاہدے کے وقت پنجاب میں سیکریٹری عملدرآمد کمیشن اور بعدازاں سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق سربراہ اور شہباز شریف کے قریب سمجھے جانے والے سرکاری افسر احد چیمہ بھی گرفتار کیے گئے ہیں اور جو نیب کی تفتیش کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔

اگست میں قومی احتساب بیورو نے فواد حسن فواد کو اس الزام پر حراست میں لیا کہ انھوں نے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ جان بوجھ کر چھپائی تھی جس میں تحقیق کی گئی تھی کہ آشیانہ ہاؤسنگ کے تعمیر کے سلسلے میں دیا گیا معاہدہ کامیاب بولی لگانے والی کمپنی کے بجائے دوسری کمپنی کو کیوں دیا گیا تھا۔

احد چیمہ پر نیب کی جانب سے الزام ہے کہ انھوں نے آشیانہ ہاؤسنگ کی تعمیر کے لیے کامیاب بولی لگانے والی کمپنی چوہدی لطیف اینڈ سنز کو دیا گیا کینٹریکٹ ان سے واپس لے کر غیر قانونی طور پر لاہور کاسا ڈیویلپرز نامی کمپنی کو دے دیا۔

اس کے علاوہ نیب حکام نے اس مقدمے میں مسلم لیگ ن کے سابق وزیر خواجہ سعد رفیق سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔