آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی اور دیگران لیڈران ’حفاظتی تحویل‘ میں، مختلف شہروں سے کارکن گرفتار
تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت 90 سے زائد افراد کو ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے انھیں 30 دن تک نظر بند کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاہور کی ڈپٹی کمیشنر صالح سعید نے بتایا کہ خادم حسین رضوی، دوسرے لیڈران اور ان کے دیگر ساتھیوں کو پنجاب حکومت کی حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ قانون کے مطابق ایم پی او میں مزید دو مرتبہ ایکسٹینشن کی جا سکتی ہے۔
لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت پانچ سے زیادہ افراد ایک جگہ پر اکٹھے نہیں ہو سکتے۔
گذشتہ رات وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کو حفاظتی تحویل میں لینے کی تصدیق کی تھی جبکہ ممکنہ احتجاج کے پیش نظر مختلف شہروں میں تحریک کے کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے جمعے کی شب ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے پیغام میں خام حسین رضوی کو تحویل میں لیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس کارروائی کی ضرورت تحریک لبیک کے 25 نومبر کی احتجاجی کال واپس نہ لینے کی وجہ سے پیش آئی۔‘
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ’عوام کی جان و مال اور املاک کی حفاظت حکومت کا اولین فرض ہے۔‘
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ’تحریک لبیک مسلسل عوام کی جان و مال کے لیے خطرہ بن گئی ہےاور مذہب کی آڑ لے کر سیاست کر رہی ہے۔ موجودہ کاروائی کا آسیہ بی بی کے مقدمے سے کوئی تعلق نہیں، صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے عوام پر امن رہیں اور حکام سے مکمل تعاون کریں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحریک لبیک کے کارکنوں کی گرفتاریاں اور جھڑپیں
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق خادم حسین رضوی کو حفاظتی تحویل میں لیے جانے کے بعد احتجاجی مظاہرے کے پیش نظر اسلام آباد کے حساس ریڈ زون کو کنٹینرز کی مدد سے بند کر دیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد کے داخلی راستے فیض آباد پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
تحریک لبیک کے کارکنوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات مختلف شہروں سے موصول ہو رہی ہیں۔
خادم حسین رضوی کی گرفتار کی اطلاعات کے بعد لاہور اور کراچی سمیت ملک بھر کے مختلف شہروں سے احتجاج کی خبریں بھی موصول ہوئیں تھیں۔نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق گذشتہ شب کراچی میں نمائش چورنگی پر تحریک لبیک کے کارکنان کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی جس میں ریسکیو ذرائع کے مطابق تین افراد زخمی ہوئے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے مطابق خادم حسین رضوی اور مبینہ طور پر تحریکِ لبیک کے دوسرے دھڑے کے سربراہ مولانا آصف جلالی کی گرفتاری کے خلاف لاہور میں بھی یتیم خانہ چوک کے مقام پر مذہبی جماعت کے کارکنان کی جانب سے احتجاج شروع کر دیا گیا ہے کیا گیا جو آخری خبریں آنے تک جاری تھا۔
سوشل میڈیا ہی پر تحریکِ لبیک پاکستان کے رہنما پیر افضل قادری کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے ’کارکنوں کو ملک بھر میں فوراً باہر نکلنے اور احتجاج کرنے‘ کہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں!
اس سے قبل پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ میں خادم رضوی کو پنجاب کے دارالحکومت میں واقع جماعت کے مرکز سے جمعے کی شب حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
خادم حسین رضوی کے صاحبزادے حافظ سعد نے نجی ٹی وی سیون نیوز سے بات کرتے ہوئے گرفتاری کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد نے خود گرفتاری پیش کی ہے۔
سوشل میڈیا پر کئی غیر مصدقہ ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔ ان میں ایک ویڈیو علامہ خادم رضوی کی ہے جس میں وہ ’لوگوں پر سڑکوں پر نکلنے کا پیغام دے رہے ہیں۔‘
ایسی ہی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکیورٹی اہلکار ویل چیئر پر ایک شخص کو ایک گھر کے دروازے سے باہر لے کر جا رہے ہیں۔
خادم رضوی کو حفاظتی تحویل میں ایک ایسے وقت لیا گیا ہے جب انھوں نے اتوار کو راولپنڈی میں ایک احتجاجی جلسہ منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا ہوا ہے۔
اس جلسے کا تعلق توہین رسالت کے مقدمے میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی بریت سے ہے جس کی تحریک لبیک مخالفت کرتی آئی ہے۔
خادم رضوی کے بیٹے حافظ سعد نے اس سلسلے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ان کی جماعت کی جانب طے کردہ پروگرام ضرور ہو گا۔
انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ملک بھر سے تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے گذشتہ ماہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے الزام سے بری کرنے کے فیصلے کے خلاف تحریک لبیک کے ملک بھر میں تین روز تک احتجاجی دھرنا دیا تھا۔
اس دھرنے کا اختتام، تحریک لبیک اور وفاقی و پنجاب حکومت سے ایک معاہدے کے بعد ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت حکومت نے آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے قانونی کارروائی کی ہامی بھری تھی۔