خادم حسین رضوی اپنے اونچے عہدے والوں کے سامنے مغرور اور ماتحتوں کے ساتھ بدتمیز ہیں: انٹیلیجنس رپورٹ

    • مصنف, شجاع ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں ملک کی اہم ترین تصور کی جانے والی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کی جانب سے فیض آباد دھرنے کے حوالے سے ایک رپورٹ جمع کروائی گئی رپورٹ پر عدالت نے تو برہمی کا اظہار کیا ہے مگر اس میں کچھ اہم باتیں واضح کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں دھرنے کے ایک حد سے بڑھنے کی مرکزی وجہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کی قیادت سے رابطے نہ کرنا بتائی گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی نے بارہا حکومت کو تجویز دی کہ دھرنے کو ختم کرنے کے لیے پرامن طریقہ کار اختیار کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

رپورٹ میں انتہائی دلچسپ عنصر تحریکِ لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کی شخصیت سے متعلق ہے۔

آئی ایس آئی کے مطابق خادم رضوی مالی بدعنوانی میں ملوث رہے ہیں، اور ان کی ساخت غیر تسلی بخش ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ خادم حسین رضوی اپنے اونچے عہدے والوں کے سامنے مغرور اور ماتحتوں کے ساتھ بدتمیز ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال انتہائی دائیں بازو کی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے الیکشن ایکٹ 2017 میں توہین رسالت سے متعلق قوانین میں تبدیلی پر احتجاج کرنے کے لیے نومبر میں دارالحکومت اسلام آباد کو دھرنا دے کر مفلوج کر دیا تھا۔

تین ہفتے تک جاری رہنے کے بعد حکومت نے دھرنے کے خلاف آپریشن کیا جس کے بعد مظاہروں میں اربوں روپوں کی پراپرٹی کو نقصان پہنچا تھا اور کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس کے بعد فوج کی ثالثی میں فریقین کے درمیان چھ نکاتی معاہدہ طے پایا تھا۔

تاہم دھرنے کو ختم کرنے کے لیے جو آپریشن سویلین انتظامیہ نے کیا اس آپریشن کی ناکامی کو وجوہات میں مشترکہ کمانڈ کی عدم موجودگی، اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ کے درمیان عدم ہم آہنگی، پولیس کی جدید انسدادِ فسادات ٹریننگ نہ ہونا اور نہ ہی ساز و سامان ہونا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دھرنے کی منظم انداز میں مالی سپورٹ کی باتیں افواہیں ہیں اور دھرنے والوں کو عوام میں سے چند سخی افراد نے خوب عطیات دیے جن میں مقامی علما اور گدی نشین شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پولیس دھرنے والوں کو دی جانے والی لوجسٹکل سپورٹ روکنے کی نہ تو صلاحیت رکھتی تھی اور نہ ہی روکنا چاہتی تھی۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے مظاہرین کو اس وقت روکنے کی کوشش نہیں کی جب وہ پنجاب بھر سے اکھٹے ہو کر وفاقی دارالحکومت کی جانب جا رہے تھے۔