سندھی تھیٹر کی بحالی: 'اب وہ پینے والے کہاں جو پورا مٹکا پی جاتے تھے'

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

میخانہ سجا ہے، تازہ کشید کی گئی شراب کے مٹکے تیار ہیں۔ روایتی سندھی لباس پہنے ہوئے ایک حسینہ 'رندوں' کی منتظر ہے، اس حسینہ سے اس کی والدہ کہتی ہے کہ 'اب وہ پینے والے کہاں جو پورا مٹکا پی جاتے تھے۔'

یہ مناظر سندھی سٹیج ڈرامہ 'موکھی اور متارا' کے ہیں۔ تاریخی حوالوں کے مطابق سندھ کے رومانوی داستان 'مومل رانو' کا کردار کنیز ناتر موجودہ کراچی منتقل ہوگئی جہاں انھوں نے میخانہ قائم کیا اور موکھی ان کی حسین و جمیل بیٹی تھی۔

کراچی آرٹس کونسل میں جاری سندھ ڈرامہ فیسٹیول میں موکھی اور متارا ڈرامہ پیش کیا گیا، جس میں موکھی کا کردار عائشہ مہک نے ادا کیا، جن کا تعلق سندھ کے علاقے جیکب آباد سے ہے وہ گذشتہ 16 برسوں سے تھیئٹر سے وابستہ ہیں۔

عائشہ مہک سندھ کے کئی شہروں میں پرفارم کر چکی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ 'سٹیج پر ہم دل کھول کر پرفارم کرتے ہیں ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ ہم کیسے پرفارم کر رہے ہیں اور وہیں سے ہمیں دادا مل جاتی ہے، تالیاں بجتی ہیں اور فن کا انعام وصول ہوجاتا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

سندھ میں سٹیج تھیٹر کی روایت پرانی ہے، ہندو کمیونٹی اپنے تہواروں پر مذہبی ناٹک پیش کرتی تھی، سنسکرت کے علاوہ پارسی اور گجراتی ڈرامے سٹیج کیے جاتے تھے۔ منظم سٹیج تھیٹر کی ابتدا سنہ 1880 سے ہوئی اور مرزا قلیچ بیگ نے پہلا سندھی سٹیج ڈرامہ 'موہنی' تحریر کیا جو ہندو مسلم یکہجتی پر مبنی تھا۔

کراچی کا دیا رام جیٹھ مل سندھ کالج یعنی ڈی جے سائنس کالج ڈرامہ سوسائٹی کا مرکز رہا، کراچی اور حیدرآباد میں نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کے نام سے ڈرامہ کلب بھی قائم ہوئے جن کا افتتاح خود ٹیگور نے کیا۔

سندھی ادب کے استاد ڈاکٹر قاسم راجپر کا کہنا ہے کہ ڈی جے کالج کے سامنے واقع میٹھا رام ہاسٹل جو اب رینجرز کے زیر استعمال ہے وہاں پر سندھی ڈرامہ سٹیج ہوتا تھا، وہاں سے جو آمدنی ہوتی تھی اور مخیر حضرات جو پیسے دیتے تھے اس سے ہی میٹھارام ہاسٹل کو تعمیر کیا گیا تھا۔

قیام پاکستان کے بعد ہندو کمیونٹی کی شہروں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے سندھی ڈرامہ شدید متاثر ہوا کیونکہ پرفارمنگ آرٹ، ادب اور صحافت پر ان کی گرفت تھی۔

سندھی ادب کے استاد ڈاکٹر قاسم راجپر کا کہنا ہے کہ 1951 میں حیدرآباد میں ریڈیو پاکستان کے سٹیشن کے قیام کے بعد سندھی ڈرامے کی بحالی ہوئی اور جب 1970 میں پاکستان ٹیلیویژن پر سندھی شعبہ قائم ہوا تو دوبارہ معیاری سٹیج کا زوال آیا۔ اس کے علاوہ سندھی فلمیں بھی کمرشل اور مار دھاڑ کے موضوعات پر بننے لگیں۔ اس کا اثر ڈرامے پر بھی ہوا جو کلاسیکل ڈرامہ تھا وہ معدوم ہوتا چلا گیا۔ اسی دوران جب جنرل ضیاالحق کی مارشل لا کا دور آیا تو جہاں دیگر اظہار رائے کے فورم متاثر ہوئے وہاں اس شعبے میں بھی کافی فرق آيا۔

کراچی کے علاوہ حیدرآباد، خیرپور اور لاڑکانہ میں بھی آرٹس کونسل قائم کی گئی ہیں یہ ادارے بھی سٹیج ڈراموں کو پروموٹ کر رہے ہیں ان اداروں کی حکومت سندھ معاونت کر رہی ہے۔ سٹیج ڈراموں کے ڈائریکٹر رفیع عیسانی کا کہنا ہے کہ کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور خیرپور میں تو تھیٹر اچھی طرح جا رہا ہے لیکن جب چھوٹے شہروں میں جاتے ہیں تو تھوڑے وقت میں لوگ جمع ہوجاتے ہیں ان شہروں میں ضلعی آڈیٹوریم موجود ہیں۔

سٹیج ڈرامہ بغیر سرپرستی اور معاونت کے ممکن نہیں۔ رفیع عیسانی کا کہنا ہے کہ کسی بھی سٹیج ڈرامہ پر کم از کم ایک لاکھ روپے لگ جاتے ہیں جس میں عام طور پر آڈیٹوریم، لائٹس، میک اپ، لباس اور اداکاروں کا معاوضہ شامل ہے۔

'چھوٹے شہروں میں پروگرام کرنا آسان نہیں ہوتا بڑی محنت کرنی پڑتی ہے، لوگوں کے پاس جانا پڑتا ہے، ضلعی انتظامیہ کی مدد درکار ہوتی ہے، صاحب حیثیت لوگ یا فن سے محبت کرنے والے جو لوگ ہیں ان سے ملنا پڑتا ہے۔'

سٹیج پر نظر آنے والے اداکار اکثر ریڈیو اور ٹی وی پر بھی کام کرتے ہیں کوئی بھی اداکار کل وقتی سٹیج سے وابستہ نہیں جبکہ کچھ لوگ شوقیہ طور بھی اس طرف آجاتے ہیں۔

حسین قادری نے 1973 میں سٹیج پر پہلی بار پرفارم کیا جس کے بعد ریڈیو اور ٹی وی کے علاوہ وہ سندھی فلموں میں بھی کام کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق سٹیج کبھی کبھار ہوتا ہے وہ بھی شوقیہ۔

انھوں نے کہا: 'ایک فنکار کے اندر خواہش ہوتی ہے کہ میں سٹیج پر آؤں مگر تھیٹر کل وقتی روزگار فراہم نہیں کرتا، یہ اپنی مدد آپ کے تحت ہوتا ہے اسی لیے اس میں ساؤنڈ سسٹم نہیں ہوتا۔'

حکومت روایتی میلوں، موسیقی کی محفلوں اور ڈرامہ فیسٹیول کے ذریعے شدت پسندی کے مقابلے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، لیکن حکومتی پالیسیاں اور ان کی ترجیحات تبدیل ہوتی رہتی ہیں جو اس قسم کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔