پاکستان کا خلائی پروگرام: ’جن کو خود خلا سے بھیجا گیا ہو وہ کسی کو کیا خلا میں بھیجیں گے؟‘

پاکستان میں خلا اور خلا کے بارے میں اتنی بات شاید ستر سالوں میں نہیں ہوئی ہوگی جتنی گذشتہ چند مہینوں میں ہوئی جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے 'خلائی مخلوق' کی اصطلاح کو اپنے بیانیے کا حصہ بنا کر زبان زدِ عام کیا۔ یہاں تک کہ ہمیں اسے سینسرشپ کی لغت میں اسے شامل کرنا پڑا۔
اور پھر اگلی حکومت کے مخالفین کو انھیں 'خلائی مخلوق' کی حکومت کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی۔
تو جب وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے یہ اعلان کہ 'پاکستان 2022 میں پہلے پاکستانی کو خلا میں بھجوائے گا'، یہ بیان سوشل میڈیا پر میمز بنانے والوں کے لیے دعوتِ عام بن گیا اور اُن سب کو جو خلا، خلائی مخلوق اور پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک ہی زاویے سے دیکھتے ہیں، سب جملے کسنے کا موقع مل گیا۔
بقول ایک صارف ’جن کو خود خلا سے بیھجا گیا ہو وہ کیا خلا میں بھیجیں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اے وحید مراد نے لکھا 'خلائی مخلوق کی حکومت نے خلا میں اپنے نمائندے بھیجنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، تاہم اس پر چار سال لگیں گے اور چین کا تعاون بھی درکار ہے۔'
صحافی عمر چیمہ نے ٹویٹ کی کہ 'اگلے انتخابات میں خلائی مخلوق کا کریڈٹ پی ٹی آئی کی حکومت لے گی'، جس پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ 'یہ فیصلہ ن لیگ کی حکومت کے دور میں کیا جا چکا تھا۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
چوہدری محمد علی کے مطابق 'سڑکوں کی ایسی حالت ہے بندہ لاہور سے ملتان اور فیصل آباد سے جھنگ جا نہیں سکتا، خلا میں کیسے جائے گا؟'
ٹوئٹرسٹ نامی اکاؤنٹ نے لکھا 'بھئی پہلے پاکستانی کو اتنا دور خلا میں بھیجنے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ اپنا محکمہ ذراعت کا دفتر ہے نا وہاں بھیج دو۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور ٹویٹ میں لکھا گیا ’بقول نیازی خزانہ خالی، قرض ادا کرنے کےلیے بھی قرض لیتے ہیں۔ پوچھنا یہ تھا کہ یہ خلائی مشن سعودی تیل پر جائے گا یا خلا سے کوئی مخلوق آئے گی اس کو لینے۔'
امان اللہ شاہ نے لکھا 'حکومت کا باؤجی کو خلا میں بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ، تاکہ باؤجی کے "خلائی مخلوق" سے معاملات طے پائے جا سکیں۔'
لاوا نے ٹویٹ کی کہ 'کھانے کو دانے نہیں عمراں خان کشکول لے کر ملکوں ملکوں بھیک مانگتا پھر رہا ہے اور 2022 میں ہم پہلا پاکستانی خلا میں بھیجیں گے۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
اور ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی معاملہ ہو اور اسے سیاسی جانب داری کی نذر نہ کیا جائے تو پولیٹیکل انجنیئرنگ نامی اکاؤنٹ نے لکھا 'خلائی مخلوق کی 4 سالہ انتھک محنت سے بننے والے راجہ کو انشااللہ پاکستانی عوام 2022 سے پہلے ہی خلا میں بھیج دیں گے۔'
دوسری جانب عارف مشتاق نے لکھا '2022 ميں پہلا پاکستانی خلا ميں جائے گا۔ فواد چوہدری ہمارے حلاف سازش ہو رہی ہے۔ حکومت ہميں چاند پر شفٹ کرنے کی پلانگ کر رہی ہے۔ اپوزيشن۔'
سعود نے اپنے مخصوص انداز میں اس صورتحال کا نقشہ کھینچا جس میں یہ اطلاع عوام تک پہنچائی گئی ہو گی۔
'خان صاحب کا ایک مشیر میٹنگ سے اچانک اٹھ کر کہیں جانے لگا۔ پوچھا، کہاں چلے؟ صاحب بولے بیت الخلاء۔ خان صاحب کو لفظ سمجھ نہیں آیا، گوگل ٹرانسلیٹ پر ڈالا تو جواب آیا سپیس سٹیشن. فواد چوہدری سے کہا اعلان کردو، ہم بندہ خلا میں بھیج رہے ہیں۔'
عادل جمال نے لکھا 'پی ٹی آئ کی پوری کابینہ عمران خان نامی خلائ جہاز پر بیٹھ کر 2022 میں خلا پر پہنچے گی۔ خلائی مخلوق نے ابھی سے استقبال کی تیاریاں شروع کر دیں۔ او کون لوگ او تسی۔'
جبکہ نسیمہ سردار کا خیال تھا کہ 'خلا میں تو خلائ مخلوق ہی جا سکتی ہے۔۔۔ پاکستانی تو سیدھا قبرستان جائے گا۔'











