آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تبدیلی آ گئی ہے: ایک سرکاری استاد جو بچوں کا دوست ہے
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں سرکاری سکول کے استاد کا خیال آتے ہیں ذہن میں سختی، مرغے اور ڈنڈے دکھائی دینے لگتے ہیں لیکن صورتحال بظاہر تبدیل ہو رہی ہے۔ کم از کم خیبر پختونخوا کے ایک استاد نے اس منفی تاثر کو رد کرنے کی زبردست کوشش کی ہے جس کی سوشل میڈیا میں واہ واہ ہو رہی ہے۔
آپ ذرا سوچیں سرکاری سکول میں صبح صبح ایک استاد اچھے صاف ستھرے کپڑے پہن کر اور بعض اوقات تو پینٹ کوٹ اور ٹائی لگا کر بچوں کے استقبال کے لیے گیٹ پر موجود ہو تو طلبہ کو کیسا لگے گا؟
اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہر آنے والا طالب علم خوشی سے چھلانگ لگا کر استاد کے ’ہائی فائیو‘ کا جواب دیتا ہے اور کوئی ہاتھ پر تالی کے انداز میں مصافحہ کرتا ہے۔ اس غیرمعمولی استقبال کی ویڈیو سوشل میڈیا پر چلتے ہی وائرل ہو گئی اور ہر کسی نے استاد کی تعریف کی۔
استاد کا نام اویس محمد خان ہے اور وہ پشاور صدر میں سنہری مسجد روڈ پر واقع گورنمنٹ ہائی سیکنڈری سکول کینٹ نمبر ایک میں پڑھاتے ہیں۔ اس سکول کو اب آرمی پبلک سکول میں شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے طالبعلم مبین شاہ کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔
اویس محمد خان چھٹی اور ساتویں جماعت کے طالبعلموں کو ریاضی پڑھاتے ہیں۔ طلبہ کے بقول حیرانی کی بات یہ ہے کہ دو جمع دو جیسی سیدھی لائن پڑھانے والا ریاضی کا یہ استاد اتنا خوش مزاج ہے۔
تعلیم کے بارے میں مزید جانیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ عرصہ پہلے تک سرکاری سکولوں کی سرخ اینٹوں کی عمارتیں اور ان میں تاریک کلاس رومز کے ساتھ خوف منسلک تھا۔ اس وقت استاد ڈنڈے اٹھائے طالبعلموں کا انتظار کرتے تھے اور بچوں کو ایسی سزائیں دی جاتی تھیں کہ کئی بچے بے ہوش ہو جایا کرتے تھے اور اسے تربیت کا نام دیا جاتا تھا۔ اس مار پیٹ پر مبنی کئی ویڈیوز بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔
اویس محمد خان 25 سال سے اس شعبے سے وابستہ ہیں انھوں نے ریاضی میں گریجویشن کی ہے۔ انھوں نے خود ابتدا میں سخت مزاج اساتذہ کی زیر نگرانی پڑھا لیکن ان کا اپنا مزاج یکسر مختلف ہے۔
اسی طرح کی ایک ویڈیو بیرون ملک کی ایک استانی کی بھی وائرل ہوئی تھی جسے یہاں پسند کیا گیا اور پھر مقامی طور پر اس غیر ملکی ویڈیو کے ساتھ پاکستان کے سخت مزاج اساتذہ کی ویڈیو بھی لگائی گئی جس میں استاد بچوں کی پٹائی کر رہے ہیں یا انھیں مرغا بنایا گیا ہے۔
اویس محمد خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اب وہ زمانہ نہیں رہا۔ ’اب بچوں سے دوستی کیے بغیر انہیں سبق نہیں پڑھایا جا سکتا، ورنہ سختی سے بچے سکول آنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ روزانہ تو ایسا نہیں کرتے لیکن جب خاص موقع ہو تو وہ اس طرح بچوں کا استقبال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اس دن کا واقعہ ہے جب سالانہ پروگرام میں انعام دیے گئے اور انھوں نے چھٹی جماعت کے طالب علموں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کا اس طرح استقبال کیا تھا۔
اویس محمد خان کے مطابق سکولوں میں اکثر اساتذہ اب اس طرح کی کوششیں کرتے ہیں تاکہ بچوں کو دوستی کے ساتھ پڑھایا جا سکے۔
اس طرح کے ایک استاد ہشتنگری کے ہائی سکول میں ہیں جن کا نام محمد طفیل ہے۔ وہ بھی بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول قائم کیے رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اکثر ’ہفتۂ خوش مزاجی‘ مناتے ہیں جس سے بچوں کے رویوں پر اچھا اثر پڑتا ہے۔
پشاور کے ایک سرکاری سکول کے ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر محمد ایاز نے بی بی سی کو بتایا کہ اب سکولوں کی حالت بہتر ہو گئی ہے۔ اب پڑھائی کے ساتھ ساتھ سکولوں کے ظاہری ماحول پر بھی توجہ دی جاتی ہے اور دلکش رنگ کی دیواروں، پھول اور صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔