غفار ذکری کی ہلاکت سے کیا لیاری میں گینگ وار کا خاتمہ ہو گیا؟

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں پولیس کو انتہائی مطلوب غفار ذکری اپنے تین برس کے بیٹے اور ساتھی کے ساتھ ایک مبینہ مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے۔

ملزم غفار ذکری لیاری گینگ وار کا ایک سرگرم کردار تھا۔

یہ مقابلہ لیاری کے علاقے ذکری محلہ میں پیش آیا ہے۔ ڈی آئی جی جاوید عالم اوڈھو کا کہنا ہے کہ صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب پولیس نے غفار کی رہائش گاہ کا محاصرہ کیا۔

یہ بھی پڑھیئے

اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں غفار ذکری، اس کا تین سالہ بیٹا اور ساتھی چھوٹا زاہد مارے گئے جبکہ 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

غفار ذکری پولیس کو قتل، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری سمیت مختلف مقدمات میں مطلوب تھا۔ حکومت نے اس کے سر پر 25 لاکھ روپے انعام بھی رکھا تھا۔ کراچی پولیس کے سربراہ امیر شیخ نے غفار کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دہشت کی ایک علامت کا خاتمہ ہوا ہے۔

غفار ذکری کون تھا؟

غفار ذکری عرف غفار ساسولی نامور فٹبالر عیسیٰ بلوچ کا بیٹا تھا۔ عیسیٰ بلوچ نے ریلوے سے پاکستانی کی قومی فٹبال ٹیم میں 13 سے زائد عالمی مقابلوں میں شرکت کی۔ انھوں نے بعد میں فشریز میں ملازمت اختیار کرلی جہاں غفار ذکری بچپن میں چائے بسکٹ فراہم کیا کرتا تھا۔

’لیاری کی ان کہی کہانی‘ کے مصنف رمضان بلوچ کا کہنا ہے کہ کئی سال قبل علی محمد محلہ میں کچھ چور آ گئے۔ نوجوانوں نے ان کا مقابلہ کیا اور ان بھگا دیا، جس کے بعد یہ نوجوان علاقے میں طاقت کی علامت بن گئے ان ہی نوجوانوں میں غفار ذکری بھی شامل تھا جو بعد میں جرائم پیشہ افراد کے زیر اثر آ گیا۔

غفار ذکری رحمان ڈکیت کے گینگ کا حصہ رہا۔ جب ارشد پپو نے اپنی راہیں علیحدہ کیں تو غفار ذکری نے اس کا ساتھ دیا۔ ارشد پپو نے لیاری کو مختلف علاقوں میں تقسیم کر کے اپنے کمانڈر تعینات کر دیے تھے۔ ایسے ہی ایک علاقے کا کمانڈر غفار ذکری تھا۔

یہ گروپ منشیات فروشی اور ایرانی تیل کی سمگلنگ کے ساتھ اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری میں ملوث تھا۔ پولیس حکام کے مطابق اس میں خصدار اور وڈھ کے بعض شدت پسند گروپ بھی شامل تھے جہاں بعد میں غفار ذکری نے پناہ حاصل کی تھی، وہ حال ہی میں بلوچستان سے واپس لیاری آیا تھا۔

کیا لیاری گینگ وار سے صاف ہو گیا؟

غفار ذکری لیاری گینگ وار کا چوتھا ایسا کردار ہے جو پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہلاک ہوا ہے۔ اس سے قبل 2009 میں رحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت پولیس اہلکار چوہدری اسلم کے ساتھ ایک مبینہ مقابلے میں مارا گیا، جس کے بعد 2013 میں ارشد پپو کا قتل ہوا جس کا الزام عذیر بلوچ پر عائد ہے اور وہ ان دنوں زیر حراست ہیں جبکہ گزشتہ سال بابا لاڈلہ رینجرز کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا تھا۔

حالیہ دنوں میں غفار ذکری کا بھائی شیراز ذکری جرائم کی دنیا میں سرگرم ہے، جبکہ رحمان ڈکیت کا گروپ بھی کمزور ہی صحیح لیکن لیاری میں موجود ہے۔ 1960 میں لیاری کے نامور بدمعاش شیرو دادل سے لے کر غفار ذکری تک مبصرین کے مطابق جرائم کی دنیا کے یہ لوگ مختلف سیاسی شخصیات کے معاون اور مددگار ہے ہیں۔

چند سال قبل گرفتار عامر عرف دھوبی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ غفار ذکری ایک سابق رکن اسبملی سے رابطے میں ہیں اور ان کے احکامات مانتے ہیں۔