آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جنوبی وزیرستان کی قرۃ العین آبائی علاقے میں تعیناتی کی خواہشمند
کچھ عرصہ قبل پاکستانی سوشل میڈیا پر چند تصاویر وائرل ہوئیں جن میں پشاور کے علاقے صدر میں قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون مجسٹریٹ تجاوزات کے خلاف آپریشن اور ریستورانوں پر چھاپوں کی نگرانی کرتی دکھائی دیں۔
یہ قرۃ العین وزیر ہیں جن کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے انھوں نے چھ ماہ میں اس علاقے سے بیشتر تجاوزات ختم کروا دی ہیں۔
مزید پڑھیے
قرۃ العین نے قانون کی تعلیم حاصل کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔
بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ وکالت کرنے کے بعد جج بننا چاہتی تھیں لیکن اُن دنوں عدلیہ میں کوئی ایسے مواقع میسر نہیں تھے جس وجہ سے انھوں نے صوبائی مینیجمنٹ سروس یعنی پی ایم ایس کا امتحان پاس کیا اور پھر چھ برس تک مختلف انتظامی عہدوں پر فائز رہیں۔
خیبر پختونخوا میں اب خواتین صوبائی سطح پر مقابلے کے امتحانات کی طرف زیادہ توجہ دے رہی ہیں اور اس وقت چار اضلاع میں مردوں کے شانہ بشانہ اہم عہدوں پر کام کر رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قرۃ العین وزیر آج کل پشاور کینٹ میں تعینات ہیں۔ اسی علاقے کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر اس وقت وائرل ہو گئی تھی جب وہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کی نگرانی کر رہی تھیں۔ اس تصویر میں انھیں ایک پک اپ گاڑی میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔
’میں نے سوچا کہ میں فیلڈ افسر بنوں، وزٹ کروں گی، جرمانے کروں گی۔ تو ایک قسم کا اطمینان ہوتا ہے کہ آج میں نے کارروائی کی۔ فوری ایکشن ہو گا۔ مجھے نتائج کے لیے انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔‘
قرۃ العین نے بتایا کہ انھوں نے تجاوزات کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں لیکن ان دنوں ان کی توجہ ریستورانوں اور بازاروں میں فروخت ہونے والی کھانے پینے کی اشیا کی جانب زیادہ ہے کیونکہ اس سے بہت زیادہ نقصانات ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان دنوں گوشت اور ڈبوں میں فروخت ہونے والے دودھ کے بارے میں بہت زیادہ شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
’چھ ماہ ہو گئے ہیں اور اس دوران کافی چیزیں دیکھ چکی ہوں۔ دباؤ سے نمٹنا بھی آ گیا ہے۔ کس طرح سے کنٹرول کرنا ہے اور کس طرح سے پراعتماد طریقے سے چیزوں کو ہینڈل کرنا ہے۔‘
پشاور صدر میں آپریشن کے دوران اگرچہ انھیں پولیس کی معاونت حاصل تھی لیکن وہ خود انتہائی دلیری سے ہر ایک چیز کا جائزہ لیتی رہیں۔ کچن، برتن اور کھانا پکانے کے برتنوں کی صفائی سے لے کر کام کرنے والے افراد کی صحت اور ان کی اپنی صفائی کی نشاندہی بھی کرتی رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں ایسا نہیں لگتا کہ وہ ایک خاتون ہیں بلکہ ان کے لیے اب سب معمول بن گیا ہے انھیں اپنے افسران کی جانب سے مکمل تعاون حاصل ہے جبکہ ان کا ماتحت عملہ انتہائی محنتی ہے اس لیے انھیں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔
’میں اس چیز کو اپنے اوپر لاگو ہونے ہی نہیں دیتی کہ میں ایک خاتون افسر ہوں۔ میں نے اپنی سرگرمیاں، اپنا شیڈول اس طرح طے کیا ہوا کہ مجھے ڈر نہیں رہتا کہ میں خاتون ہوں یا میں اس طرح کے معاشرے میں کام کر رہی ہوں جو مردوں کا معاشرہ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ اب ان کی تعیناتی جنوبی وزیرستان میں ہو اور وہ وہاں جا کر اپنے علاقے میں کام کریں اور اپنے ان لوگوں کی مدد کریں جو مسلسل نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں۔