آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شہباز شریف: قومی اسمبلی میں کسی کو مارکباد دینے نہیں جا رہے بلکہ دھاندلی کے معاملے کو اٹھایا جائے گا
پاکستان کی سیاسی جماعت مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے اراکینِ قومی اسمبلی کا حلف اٹھانے کے بعد پہلا مطالبہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا ہو گا۔
جعمرات کو روالپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد شہباز شریف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ دھاندلی کے خلاف پانچ جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے بدھ کو احتجاج کیا اور پہلا احتجج نہیں بلکہ آئندہ بھی ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں کسی کو مارکباد دینے نہیں جا رہے بلکہ دھاندلی کے معاملے کو اٹھایا جائے گا۔
’اسمبلی میں اب حلف اٹھایا جائے گا اور اس معاملے پر بات کی جائے گی جس میں تمام سیاسی جماعتیں اپنی رائے دیں گی کیونکہ اسمبلی ایک ایسا فورم ہے جہاں 2018 کے انتخابات کے حوالے سے مبارکباد دینے نہیں جائیں گے بلکہ جو دھاندلی ہوئی ہے اس کی تحقیقات کا پہلا مطالبہ ہو گا۔‘
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شبہاز شریف نے انتخابی نتائج کی بروقت دستیابی اور اشاعت کے لیے رزلٹ مینیجمنٹ سسٹم یعنی آر ٹی ایس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس اور فری اینڈ فیئر انتخابی اتحاد یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ تحقیقات ہوں گی اور پارلیمانی کمیشن کو یہ ٹاسک دیا جائے گا جس میں تمام پارلیمانی جماعتیں اس بات کا کھوج لگائیں گی کہ انتخابات کی رات کو کیوں آر ٹی ایس کو کس طرح بند کروایا گیا۔
انھوں نے کہا کہ یہ وہ معاملات ہیں جن کے بارے میں جاننا عوام کا حق ہے اور جب تک حق استعمال ہو گا تو تب ہی ملک میں استحکام آئے گا جس کو ملک کی سخت ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اب تو عدالت عظمیٰ نے بھی بیان دیا ہے کہ الیکشن کمشنر اس دن دستیاب نہیں تھے اور آر ٹی ایس نظام بند ہو گیا تھا اور اب تو اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اور اس کے علاوہ کیوں پولنگ ایجنٹس کی غیر موجودگی میں ووٹوں کی گنتی ہوئی اور آر ٹی ایس مشینوں کو بند کرایا گیا۔‘
خیال رہے کہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر پانچ جماعتوں پر مشتمل اتحاد کے رہنماؤں اور ان جماعتوں کے کارکنوں نے اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کیا ہے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ان انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے ان کے نتائج کو ماننے سے انکار کیا اور پارلیمانی انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے مطالبہ کیا تھا کہ عام انتخابات کے نتائج میں تاخیر کے لیے ذمہ دار ٹھہرائے جانے والے تکنیکی نظام یعنی آر ٹی ایس کے بارے میں تحقیقات سینیٹ کو کرنے دیں جائیں۔