آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لاڈلے کو جتوانے کے لیے حلقے پنکچر ہی نہیں کیے بلکہ ٹائر ہی پھاڑ دیے گئے: خورشید شاہ
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ملک کی دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے مضبوط اپوزیشن بنانے پر اتفاق کیا ہے اور حالیہ انتخابات کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے پارلیمنٹ سیمت ہر فورم پر اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس ضمن میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور وہ حلف اُٹھانے کے بارے میں پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کررہے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اس بات پر متفق ہیں کہ قومی اسمبلی میں حلف اُٹھایا جائے اور عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کو پارلیمنٹ سمیت دیگر فورم پر بھی اُٹھایا جائے گا جبکہ متحدہ مجلس عمل اور دیگر چھوٹی جماعتیں اس بات پر اصرار کرر ہی ہیں کہ قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کیا جائے اور حلف نہ اُٹھایا جائے۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی ایم ایم اے کی قیادت کے ساتھ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اگر دیگر جماعتوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو وہ مرکز میں حکومت بنانے کی بھی پوزیشن میں ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ’لاڈلے (عمران خان) کو جتوانے کے لیے مختلف حلقے صرف پنکچر ہی نہیں کیے بلکہ پورے ٹائر ہی پھاڑے گئے ہیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ صرف اُنھی حلقوں کو کھلوا لیں جہاں سے عمران خان جیتے ہیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھوں نے کہا کہ اگر عمران خان کے پاس اکثریت ہے تو وہ اسے اسمبلی میں سامنے لے کر آئیں۔
واضح رہے کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی 116 سیٹیں ہیں جن میں سے عمران خان پانچ سیٹوں پر کامیاب ہوئے ہیں جن میں سے چار نشستیں اُنھیں چھوڑنا پڑیں گی۔
اس کے علاوہ اس جماعت کے دیگر دو رہنما سرور خان اور میجر ریٹائرڈ طاہر صادق بھی دو دو نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہٰی بھی قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے کامیاب قرار پائے ہیں۔
اس طرح پاکستان تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں 109 نشستیں ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے متحدہ قومی موومنٹ کو حکومت بنانے کے عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے اور اس ضمن میں نااہل قرار دیے جانے والے پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین ایم کیو ایم کی قیادت سے بات چیت کے لیے کراچی روانہ ہوئے ہیں۔
ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت حزب اختلاف میں بیٹھے گی، تاہم اس کا حتمی فیصلہ پارٹی کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کریں گے۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دیں گے۔ جماعت اسلامی متحدہ مجلس عمل کا حصہ ہے اس لیے اس بات کا فیصلہ دینی جماعتوں کے اس اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ہی کریں گے۔
نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل خان بزنجو کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں جانے سے ملک میں جمہوریت کو فروغ ملے گا اور الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلی سمیت دیگر اہم معامات کو بھی پارلیمنمٹ میں ہی اُٹھایا جائے گا۔