تین گھر، تین رکشے اور کار میں سفر: سود پر پیسے دینے والے بھکاری کی دولت نے حکام کو حیران کر دیا

    • مصنف, سمیر خان
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، اندور

لکڑی اور بال بیئرنگ کی مدد سے بنائی گئی ہاتھ گاڑی چلاتے، کندھے پر بستہ اور ہاتھ میں جوتے پکڑے پیسے مانگتا منگی لال دور سے ایک عام سا بھکاری نظر آتا تھا۔

لیکن جب اندور کے صرافہ بازار میں بھیک مانگنے والے اس شخص کی اصلیت سب کے سامنے آئی تو ہر طرف حیرانگی کا ماحول بن گیا۔

حکومت کا ویمن اینڈ چائلڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ بھکاریوں کے خاتمے کی مہم میں مصروف تھا اور اسی وقت اس کے اہلکاروں نے منگی لال کی مدد کرنا چاہی۔

اس وقت یہ بات منظرِ عام پر آئی کہ منگی لال دن میں بھیک مانگ کر 500 یا ہزار روپے کما لیتا ہے لیکن یہ بات حیرانگی کا سبب نہیں تھی۔

محکمے کے افسر دنیش مشرا کہتے ہیں کہ 17 جنوری کو انھیں اطلاع ملی کہ صرافہ بازار میں ہر ہفتے ایک مریض بھیک مانگنے آتا ہے۔

تین گھروں اور کار کا مالک

دنیش مشرا کہتے ہیں کہ جب انھوں نے اس شخص کے بارے میں مزید معلومات جمع کی تو پتا چلا کہ اس بھکاری کا نام منگی لال ہے اور وہ تین پکّے مکانات کا مالک بھی ہے۔

ان کے پاس موجود ایک مکان تین منزلہ جبکہ دو مکان سنگل سٹوری ہیں۔ یہی نہیں منگی لال تین رکشوں کا بھی مالک ہے اور ماروتی ڈیزائر کار میں سفر کرتا ہے۔

دنیش کہتے ہیں کہ منگی لال نے انھیں بتایا کہ وہ سنہ 2021 سے بھیک مانگ رہے ہیں اور اس کے علاوہ وہ صرافہ بازار میں لوگوں کو سود پر قرضہ بھی دیتے تھے، جس سے وہ چار سے پانچ لاکھ روپے کما لیتے ہیں اور ان کی روز کی کمائی بھِی ایک سے دو ہزار ہے۔

منگی لال کو کوڑھ کے مرض کے علاج کے لیے ایک آشرم میں بھجوا دیا گیا ہے اور ان کے حوالے سے مزید معلومات اکھٹی کی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق منگی لال کو ایک گھر حکومت نے ریڈ کراس کی مدد سے دیا تھا۔ وہ غیر شادی شدہ ہیں اور شوانگر میں اپنی والدہ اور دو بھتیجوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

منگی لال کے پڑوسی کیا کہتے ہیں؟

شانتا بائی منگی لال کے پڑوس میں رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تین منزلہ عمارت کا مالک منگی لال گذشتہ کئی برسوں سے بھیک مانگ رہا ہے۔

مقامی میڈیا نے اس گھر کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ بھکاری گھر کے سب سے نچلے فلور پر رہتا ہے اور اس کے گھر میں کولر، فریج، ٹی وی، بیڈ، چولہا اور دو گیس کے سیلنڈر بھی موجود ہیں۔

اندور میں بھیک مانگنے پر پابندی ہے اور انتظامیہ تمام بھکاریوں کو امداد فراہم کر کے انھیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اندور میں بھکاریوں کے لیے بنائے گئے ایک بحالی سینٹر میں کام کرنے والی رُپالی جین کہتی ہیں کہ ’کوڑھ کے مرض کے سبب منگلی لال کی پیروں کی انگلیاں شدید متاثر ہوئی تھیں، جس کے بعد ابتدائی طور پر انھوں نے بھیک مانگنا بند کر دی تھی لیکن پھر دو سال قبل یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کے ادارے نے حال ہی میں ایسے بہت سے بھکاری دیکھے ہیں جو اپنے پورے خاندان کے ساتھ مل کر بھیک مانگتے تھے اور دن میں تقریباً 20 ہزار بھی کما لیتے تھے۔

اندور میں کیا ہو رہا ہے؟

گذشتہ چار برسوں میں انڈیا کے شہر اندور میں تقریباً 5500 بھکاریوں بشمول 500 بچوں کو بھیک مانگنے کے کام سے ہٹا کر بحالی سینٹروں میں داخل کروایا گیا۔

ان بحالی سینٹروں میں ان سابقہ بھکاریوں کو اپنے خاندانوں سے ملنے کی تو اجازت ہوتی ہے لیکن انھیں مکمل صحت یابی تک چھٹی نہیں دی جاتی۔

ایسے ہی ایک بحالی سینٹر میں 27 سالہ نیرج بھرگاوا کو لایا گیا تھا جو منشیات کے استعمال کے بھی عادی تھے۔

ان کی بہن انورادھا نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ وہ کچھ عرصے قبل اپنے بھائی کو پہچان بھی نہیں پا رہی تھیں لیکن اب وہ انھیں دیکھ کر خوش ہیں۔

اندور کے ہی 27 سالہ روی یادیو ایک برس قبل بحالی سینٹر میں لائے گئے تھے، جہاں انھوں نے بھگوان کی مورتیاں بنانا سیکھی ہیں۔

روی نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ وہ اب تقریباً نو ہزار روپے مہینہ کماتے ہیں اور مکمل صحتیابی کے بعد اپنے گھر جانا چاہتے ہیں۔