عمران خان وزارت عظمیٰ کے لیے باضابطہ طور پر نامزد

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران خان کو متفقہ طور پر پارلیمانی رہنما مقرر کر لیا گیا ہے۔

پیر کو اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں شاہ محمود قریشی نے عمران خان کی بطور پارلیمانی رہنما تقرری کی تحریک پیش کی۔

اس اجلاس میں تحریک انصاف کے ملک بھر سے نومنتخب اراکین نے شرکت کی اور تمام ارکان اسمبلی نے کھڑے ہو کر اس تحریک کی حمایت کی۔

یہ بھی پڑھیں!

اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں نے بطور وائس چیئرمین قرارداد پیش کی، جسے تمام پارلیمانی پارٹی نے منظور کر لیا۔

انھوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوا کہ عمران خان ہمارے وزیرِ اعظم کے امیدوار ہیں۔

انھوں نے صحافیوں کو آگاہ کیا کہ آج ہونے والے اجلاس میں عمران خان نے آئندہ آنے والے دنوں کے چیلنجوں کے بارے میں پارٹی کو اعتماد میں لیا اور ان سے کہا کہ آپ سے قوم کی توقع کیا ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان نے نومنتخب ارکان کو بتایا کہ ’عوام نے آپ کو روایتی سیاست کا نہیں تبدیلی کے لیے ووٹ دیا ہے۔ ہم ثابت کریں گے کہ ہمارا طریقۂ کار مختلف ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ متحدہ حزبِ اختلاف بہت کمزور ہے کیوں کہ اس میں کوئی مشترک نظریہ نہیں ہے۔

تحریکِ انصاف کے رہنما نے عمران خان کے حوالے سے بتایا کہ ’ہم نے پارلیمان کو اہمیت دینی ہے اور اس کی عزت میں اضافہ کرنا ہے۔ میں خود پارلیمان میں پیش ہوں گا اور جو اس دوران جو سوالات کیے جائیں گے اس کا جواب دوں گا۔‘

انھوں نے کہا کہ اس اجلاس میں کسی کی تقرری کا موضوع زیرِ بحث نہیں آیا اور اس سلسلے میں میڈیا پر چلنے والی خبروں میں صداقت نہیں ہے۔

اس موقع پر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ہمارے کل ارکان کی تعداد 144 بنتی ہے، اور اتحادی جماعتوں کو ملا کر ہمارے پاس 174 کا ہندسہ ملتا ہے۔ اس کے علاوہ چار آزاد امیدوار ہیں، اس طرح ہمارے پاس 180 سے 182 ارکان موجود ہیں۔ جب کہ سادہ اکثریت کے لیے 172 ارکان درکار ہیں۔‘

خیال رہے کہ تحریک انصاف کا قومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، بلوچستان عوامی پارٹی اور مسلم لیگ ق کے ساتھ اتحاد طے پا گیا ہے۔