عمران خان وزارت عظمیٰ کے لیے باضابطہ طور پر نامزد

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران خان کو متفقہ طور پر پارلیمانی رہنما مقرر کر لیا گیا ہے۔

پیر کو اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں شاہ محمود قریشی نے عمران خان کی بطور پارلیمانی رہنما تقرری کی تحریک پیش کی۔

اس اجلاس میں تحریک انصاف کے ملک بھر سے نومنتخب اراکین نے شرکت کی اور تمام ارکان اسمبلی نے کھڑے ہو کر اس تحریک کی حمایت کی۔

یہ بھی پڑھیں!

اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں نے بطور وائس چیئرمین قرارداد پیش کی، جسے تمام پارلیمانی پارٹی نے منظور کر لیا۔

انھوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوا کہ عمران خان ہمارے وزیرِ اعظم کے امیدوار ہیں۔

انھوں نے صحافیوں کو آگاہ کیا کہ آج ہونے والے اجلاس میں عمران خان نے آئندہ آنے والے دنوں کے چیلنجوں کے بارے میں پارٹی کو اعتماد میں لیا اور ان سے کہا کہ آپ سے قوم کی توقع کیا ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان نے نومنتخب ارکان کو بتایا کہ ’عوام نے آپ کو روایتی سیاست کا نہیں تبدیلی کے لیے ووٹ دیا ہے۔ ہم ثابت کریں گے کہ ہمارا طریقۂ کار مختلف ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ متحدہ حزبِ اختلاف بہت کمزور ہے کیوں کہ اس میں کوئی مشترک نظریہ نہیں ہے۔

تحریکِ انصاف کے رہنما نے عمران خان کے حوالے سے بتایا کہ ’ہم نے پارلیمان کو اہمیت دینی ہے اور اس کی عزت میں اضافہ کرنا ہے۔ میں خود پارلیمان میں پیش ہوں گا اور جو اس دوران جو سوالات کیے جائیں گے اس کا جواب دوں گا۔‘

انھوں نے کہا کہ اس اجلاس میں کسی کی تقرری کا موضوع زیرِ بحث نہیں آیا اور اس سلسلے میں میڈیا پر چلنے والی خبروں میں صداقت نہیں ہے۔

اس موقع پر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ہمارے کل ارکان کی تعداد 144 بنتی ہے، اور اتحادی جماعتوں کو ملا کر ہمارے پاس 174 کا ہندسہ ملتا ہے۔ اس کے علاوہ چار آزاد امیدوار ہیں، اس طرح ہمارے پاس 180 سے 182 ارکان موجود ہیں۔ جب کہ سادہ اکثریت کے لیے 172 ارکان درکار ہیں۔‘

خیال رہے کہ تحریک انصاف کا قومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، بلوچستان عوامی پارٹی اور مسلم لیگ ق کے ساتھ اتحاد طے پا گیا ہے۔