گذشتہ ہفتے کا پاکستان تصاویر میں

گذشتہ ہفتے پاکستان میں حکومت سازی کے لیے کوشیشیں، سیاسی جماعتوں کا اتحاد اور یوم آزادی کی تیاریاں عروج پر نظر آئیں۔ گذشتہ ہفتے کی چند نمائندہ تصاویر۔

پی ٹی آئی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد گذشتہ ہفتے بھی پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پارلیمان میں اپنی تعداد کو پورا کرنے کے لیے کوششیں جاری رہیں۔ اسی سلسلے میں گذشتہ ہفتے جہانگیر خان ترین کی کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی جس کے بعد ایم کیو ایم کے نمائندوں نے اسلام آباد آ کر پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کیا۔
ایم کیو ایم

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتاہم دوسری جانب کراچی میں ایم کیو ایم کے ہی کارکن الیکشن اور اس کے نتائج کے خلاف احتجاج کرتے دکھائی دیے۔
اپوزیشن

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایک طرف جہاں پاکستان تحریک انصاف اپنی تعداد پوری کرنے میں لگی ہے، وہیں انتخابات کے بعد بننے والے سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس میں ان جماعتوں کے رہنماؤں نے پارلیمان میں جانے کا فیصلہ کیا اور ایک ایکشن کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا۔ اسی کانفرنس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پارلیمان میں وزارت عظمیٰ کا امیدوار مسلم لیگ ن اور سپیکر پاکستان پیپلز پارٹی سے ہو گا جبکہ ڈپٹی سپیکر کا امیدوار متحدہ مجلس عمل کا ہو گا۔
مسلم لیگ ن

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنساتھ ہی گذشتہ ہفتے پاکستان مسلم لیگ ن کو ایک اور دھچکہ اس وقت پہنچا جب سپریم کورٹ پاکستان نے امورِ داخلہ کے سابق وزیر مملکت اور مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کو توہین عدالت کا مرتکب پاتے ہوئے عدالت کے برخاست ہونے تک قید کی سزا سناتے ہوئے پانچ سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔
نواز شریف

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسابق وزیراعظم نواز شریف جنھیں طبیعت کی خرابی کے باعث اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جس کے بعد طبی ذرائع کے مطابق نواز شریف نے خود ہی واپس جیل جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ پھر نواز شریف کو بکتر بند گاڑی میں منگل کی شام ساڑھے سات بجے پمز ہسپتال کے شعبہ امراض قلب کے عقبی دروازے سے جیل واپس رخصت کیا گیا۔
دیامر

،تصویر کا ذریعہQASIM SHAH

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے حکام کے مطابق شدت پسندوں نے مختلف علاقوں میں سکولوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ضلعی ترجمان دیامر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جمعرات کی شب شدت پسندوں نے ضلع کے بعض زیر تعمیر اور تکمیل کے قریب سکولوں کو نشانہ بنایا اور آگ لگا کر نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
جشن آزادی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجہاں پاکستان میں گذشتہ ہفتے سیاسی جوڑ توڑ، حکومت بنانے کے لیے تعداد پوری کرنے کی کوششیں اور بہت کچھ چلتا رہا وہیں اگست کے مہینے کے شروع ہوتے ہی پاکستان کے یوم آزادی یعنی 14 اگست کے لیے ملک بھر میں تیاریوں کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔ جگہ جگہ قومی پرچم اور جشن آزادی سے متعلق اشیا کی خرید و فروخت کے لیے سٹالز بھی لگ گئے ہیں۔