آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شہباز شریف: نیب عدالت کے مقابلے میں عوامی عدالت کا فیصلہ گونجے گا
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
احتساب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم اور داماد کو سزا ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ یہ ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین فیصلہ ہے اور ان کی جماعت اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے۔
جمعے کی شام فیصلے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اس زیادتی اور ناانصافی کے بارے میں ملک کے کونے کونے میں جا کر عوام کو آگاہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے
شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کا نام نہ تو پاناما پیپرز میں تھا اور نہ ہی ایون فیلڈ اور کسی آف شور کمپنی میں ہے۔ ’پہلے یہ کیس عدالت نے سنا اور پھر جے آئی ٹی نے رپورٹ مرتب کی اور پورے مقدمے میں کوئی قانونی دستاویز فراہم نہیں کی گئی۔‘
سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ’نیب عدالت نے اپنا فیصلہ تو سنادیا ہے مگر 25 جولائی کو ایک عوامی عدالت بھی لگنے والی ہے۔ انشا اللہ عوامی فیصلہ ثابت کرے گا کہ عوامی عدالت کا فیصلہ ٹھیک ہے اور نیب عدالت کے مقابلے میں عوامی عدالت کا فیصلہ گونجے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’25 جولائی کو پاکستان کا ہر شہری اپنے ووٹ سے ہماری بےگناہی کی گواہی دے گا۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف ان کی جماعت ہر آئینی و قانونی راستہ اختیار کرے گی۔
’مسلم لیگ ن کے کارکن ملک بھر میں جلسے کریں گے اور ان جلسوں کو پرامن احتجاج کا ذریعہ بھی بنائیں گے تاکہ پوری دنیا کو پتا چلے کہ کسی کے لیے احتساب کے پیمانے کچھ اور کسی کے لیے کچھ اور ہیں۔‘
اپنے خطاب میں شہباز شریف نے نیب کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ ثبوت موجود ہیں نیب کورٹ نے انھیں سالہاسال سے زیر التوا رکھا۔
ادھر لندن میں موجود نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’شاباش نواز شریف! آپ ڈرے نہیں، آپ جھکے نہیں۔ آپ نے ذاتی زندگی پر پاکستان کو ترجیح دی۔ عوام آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ فتح آپ کی ہو گی۔ انشاءاللہ!‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان میں 70 سال سے سرگرم نادیدہ قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے کی یہ سزا بہت چھوٹی ہے۔ آج ظلم کے خلاف لڑنے کا حوصلہ اور بلند ہو گیا۔‘
نواز شریف کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والی جماعت پی ٹی آئی کے رہنماؤوں اور حامیوں کی جانب سے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے کرپشن کے خلاف عمران خان کی مہم کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
جماعت کے سربراہ عمران خان نے فیصلے کے بعد سوات میں جلسے سے خطاب میں کہا کہ وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ 22 سال پہلے سیاست میں اسی لیے آئے تھے کیونکہ کرپیشن ملک کو پیچھے کی طرف لے کر جا رہی تھی۔ انھوں نے اس کا ذمہ دار نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری کو قرار دیا۔
عمران خان نے کہا کہ یہ نئے پاکستان کی شروعات ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں پہلی بار کرپٹ لوگوں کا احتساب ہوا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بشری گوہر نے بی بی سی گفتگو میں عدالت فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’یہ ملک کے کمزور عدالتی اور جمہوری نظام پر ایک اور سخت حملہ ہے۔‘’میرے خیال میں نیب کا ادارہ قابل بھروسہ نہیں ہے۔ یہ سیاست دانوں کے خلاف استعال ہوتا ہے۔ اس کا احتساب یا کرپشن کے خاتمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن 2018 شفاف نہیں ہوں گے۔ ’انتخابات سے چند ہفتے پہلے نیب کا فیصلہ منتخب پارٹی/ گروہ کو لانے کا حصہ ہے۔ جمہوری عمل مسلسل حملے کی زد میں ہے اور اگلی پارلیمینٹ بڑی حد تک غیر منتخب قوتوں کے کنٹرول میں ہو گی۔‘
جماعت اسلامی کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی بارہا کوششوں کے بعد کسی رہنما نے فون پر جواب دیا تاہم ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جماعت کی جانب سے اپنے سربراہ سراج الحق کی تصویر کے ساتھ پیغام لکھا گیا ہے کہ احتساب سب کا۔۔۔ آئیے ہمارا ساتھ دیں۔