بریکنگ, ’ڈاکٹرز سے بات کے بعد واپسی کی ٹکٹ بک کریں گے‘
مریم نواز نے پریس کانفرنس کے بعد ایک ٹویٹ میں کہا ہے ’ابھی یہاں سے ہسپتال جا رہے ہیں اور ڈاکٹرز سے بات کے بعد واپسی کی ٹکٹ بک کریں گے۔‘
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسلام آباد میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کرنے والی احتساب عدالت نے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو دس،ان کی بیٹی مریم نواز کو سات جبکہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنا دی ہے جبکہ نواز شریف کو 80 لاکھ جبکہ مریم نواز کو 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔
ذیشان حیدر، رضا ہمدانی، ذیشان علی، حمیرا کنول
مریم نواز نے پریس کانفرنس کے بعد ایک ٹویٹ میں کہا ہے ’ابھی یہاں سے ہسپتال جا رہے ہیں اور ڈاکٹرز سے بات کے بعد واپسی کی ٹکٹ بک کریں گے۔‘
مریم نواز نے مزید کہا کہ ’ہمیں احساس تھا کہ جس چیز کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں اس میں ہمیں پھولوں کے ہار نہیں پہنائے جائیں گے۔ کسی کو تو آواز اٹھانی تھی تو ہم نے پہلی شمع روشن کی ہے۔‘
نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے ان سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ’پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ایک بیٹی کو جس کا جرم صرف بیٹی ہونا ہے۔ نہ سرکاری عہدہ رہا نہ کوئی اختیار رہا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے بھی پیغامات دیے گئے جیسے میرے والد کو دیے گئے تھے۔ میں نے وہ راستہ چنا جو میں چاہتی ہوں کہ ہر بیٹا اور بیٹی اس پر چلے۔ میں اس ملک کی بیٹی ہوں مجھے بھی پاکستان میں رہنا ہے۔
میری جدوجہد ہے کہ میں اور میرے بچے ایسے پاکستان میں رہیں جہاں کوئی خوف نہ ہو۔ جہاں سر اٹھا کر بات کر سکیں۔ پاکستان میں اس وقت آئین اور قانون کی بات کرنا سب سے مشکل ہے۔‘
نواز شریف سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ وہ کیا سیاسی پناہ لیں رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’اللہ معاف کرے‘۔
’سب سیاسی جماعتیں آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں وہی کہیں گی جو میں کہہ رہا ہوں۔ کسی کو بہت شوق ہے وزیراعظم بننے کا اور آج وہ اسٹیبلشمنٹ کا سہارا لے رہی ہے تو اسے بہت جلد پتہ چل جائے گا۔‘
نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ سزا کہیں اور سے آئی ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ مریم نواز کو انھوں نے کہا کہ وہ لندن ہی سے الیکشن کی نگرانی کریں لیکن مریم بضد ہیں کہ وہ میرے ساتھ ہی پاکستان جائیں گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ انتخبات میں کامیاب ہو گی۔
’اگر ووٹ کی چوری کو روکنے کی قیمت ہتھکڑی ہے تو میں یہ قیمت چکانے کے لیے آرہا ہوں۔ آپ اپنے 25 جولائی کے ووٹ سے اپنی منزل حاصل کریں۔‘
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ایک سوال پر کہ وہ پاکستان واپس کب جائیں گے پر نواز شریف نے کہا کہ ’میری اللہ سے دعا ہے کہ وہ میری اہلیہ کو صحت اور زندگی دے۔ جیسے ہی میری اہلیہ ہوش میں آتی ہیں میں ان سے سلام دعا لے کر واپس آ جاؤں گا۔‘
احتساب عدالت سے دس سال قید اور جرمانے کی سزا پانے والے میاں نواز شریف نے کہا کہ ’میں اپنی جدوجہد کے تسلسل کے لیے پاکستان واپس آرہا ہوں۔ اب عوام میرا ساتھ دیں۔ آؤ میرا ساتھ دو اور میرے ساتھ چلو۔ 25 جولائی کو ووٹ کے ذریعے ان زنجیروں کو توڑ دو۔ میں مسلم لیگ کے ہر ووٹر اور سپورٹر کی قدر کرتا ہوں۔‘
میاں نواز شریف نے کہا کہ یہ سزا کسی کرپشن پر نہیں سرکاری خزانے کی خرد بر پر نہیں، لوٹ مار پر نہیں یہ سزا جو مجھے دی گئی ہے یہ سزا پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کا رخ موڑنے کے جرم میں دی گئی ہے۔
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتساب کے مقدمے اور فیصلے کی نہیں میرے خلاف ہر وہ ہتھکنڈہ اپنایا گیا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انھوں نے کہا کہ ’میں نے نہ صرف ایک سو نو پیشیاں بھگتیں بلکہ اپنے خلاف غداری کے فتوے بھی دیے گئے۔ جس جدوجہد کا میں نے آغاز کیا اس میں ایسے ہی فیصلے آتے ہیں۔‘
عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بشریٰ گوہر نے بی بی سی سے گفتگو میں عدالتی فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’یہ ملک کے کمزور عدالتی اور جمہوری نظام پر ایک اور سخت حملہ ہے۔‘
’میرے خیال میں نیب کا ادارہ قابل بھروسہ نہیں ہے۔ یہ سیاست دانوں کے خلاف استعال ہوتا ہے۔ اس کا احتساب یا کرپشن کے خاتمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن 2018 شفاف نہیں ہوں گے۔ ’انتخابات سے چند ہفتے پہلے نیب کا فیصلہ منتخب پارٹی/ گروہ کو لانے کا حصہ ہے۔ جمہوری عمل مسلسل حملے کی زد میں ہے اور اگلی پارلیمینٹ کو بڑی حد تک غیر منتخب قوتوں کے کنٹرول میں ہو گی۔‘
ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے میں احتساب عدالت نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو دس برس کے لیے انتخابات لڑنے یا عوامی عہدے سنبھالنے کے لیے نااہل قرار دیا ہے اور فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نااہلی کی مدت کا آغاز اس دن سے ہوگا جس دن یہ اپنی قید کی سزا مکمل کر کے رہا ہوں گے۔
احتساب عدالت نے نواز شریف کو دو مختلف شیڈول کے تحت دس برس اور ایک برس مریم نواز کو سات برس اور ایک برس جبکہ کیپٹن صفدر کو ایک برس قید کی سزا سنائی ہے۔
فیصلے کے مطابق اس سزا میں سے نواز شریف کی دس برس، مریم نواز کی سات برس جبکہ کیپٹن (ر) صفدر کی ساری قید بامشقت ہے۔