بلوچستان: تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی کے قافلے پر شدت پسندوں کا حملہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے مختلف علاقوں میں شدت پسندی کے واقعات میں چھ سکیورٹی اہکاروں سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی اور سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ان حملوں میں نو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

نامہ نگار محمد کاظم کا کہنا ہے کہ تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنی کے اہلکاروں پر حملہ ڈیرہ بگٹی کے علاقے ٹوبہ نوخانی میں کیا گیا۔

اس بارے میں مزید جانیے

ڈیرہ بگٹی میں ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔ یہ مواد اس وقت زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جب تیل اور گیس تلاش کرنیوالی ایک کمپنی کی گاڑیاں وہاں سے گزر رہی تھیں۔

اہلکار نے اس واقعے میں تین افراد کی ہلاکت اور سات کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنی کے اہلکار تھے یا ان کی سیکورٹی پر مامور لوگ۔

اہلکار نے بتایا کہ زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ رپبلکن آرمی نے قبول کی ہے۔

ڈیرہ بگٹی بلوچستان کی سندھ اور پنجاب سے متصل ضلع ہے۔ اس ضلع میں نہ صرف گیس کی تنصیبات واقع ہیں بلکہ مزید علاقوں میں تیل اور گیس کی تلاش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

بلوچستان میں 24گھنٹوں کے دوران رونما ہونے والے اپنی نوعیت کا یہ دوسرا واقعہ تھا۔

اس سے قبل ضلع آواران کے علاقے مشکے میں تنک و بنڈکی کے درمیانی علاقے میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملہ کیا گیا۔

آواران میں ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ اس حملے میں سیکورٹی فورسز کے چھ اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے۔

ان دو واقعات سے قبل پنجگور کے علاقے گومازن میں بھی نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں دو سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

آواران، ڈیرہ بگٹی اور پنجگور کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں طویل عرصے سے سیکورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ شدت پسندی کے دیگر واقعات ہوئے ہیں۔

تاہم سرکاری حکام کے مطابق پہلے کے مقابلے میں اب ان واقعات میں کمی آئی ہے۔