آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شاہد خاقان عباسی کی نااہلی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر، فواد چوہدری کو الیکشن لڑنے کے اجازت
پاکستان کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔
یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے ایپلٹ ٹرائبیونل نے شاہد خاقان عباسی کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 57 سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے تھے۔
جس کے بعد مسلم لیگ نواز کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ایپلٹ ٹرائبیونل کے جج جسٹس عبید الرحمن لودھی پر مشتمل ایک رکنی ایپلٹ بینچ نے سابق وزیراعظم کو ووٹر سے حقائق چھپانے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں آئین کی شق باسٹھ ون ایف کے تحت نااہل قرار دے دیا۔
ادھر لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی نااہلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انھیں الیکشن لڑنے کے لیے اہل قرار دیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے ایپلٹ ٹرائیبونل نے فواد چوہدی کے کاغداتِ نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انھیں نااہل قرار دیا تھا۔
پاکستان کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نا اہل قرار دیے جانے کےعدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’شاہد خاقان عباسی نے اپنے ووٹرز سے معلومات چھپائیں جس کی وجہ سے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ اس لیے آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت وہ مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہونے کے اہل نہیں ہیں۔ ‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے کے بعد شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ بطور وزیراعظم انھوں نے اداروں کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ الیکشن کو غیر متنازع بنائیں اور ’خدا نہ کرے کہ یہ الیکشن متنازع ہوں‘۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹرائیبونل کے جج نے ان پر ذاتی الزامات عائد کیے ہیں اور کس نے انھیں اس کی اجازت دی؟
شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 57 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔ یہ علاقہ مری اور کہوٹہ کی تحصیلوں پر مشتمل ہے جہاں سے شاہد خاقان عباسی گذشتہ سات انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔
الیکشن 2018 سے متعلق یہ بھی پڑھیے
ریٹرنگ افسر کی جانب سے سابق وزیر اعظم کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے فیصلے کے خلاف درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے کاغذات نامزدگی میں ٹمپرنگ کی ہے، اس کے علاوہ اپنے اثاثے بھی چھپائے ہیں۔
عدالت نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ اس علاقے کے لیے نیا ریٹرنگ افسر تعینات کریں۔
واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 53 سے بھی حصہ لے رہے ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایپلٹ بینچ نے ریٹرنگ افسر کی طرف سے ان کے کاغذات نامزدگی نامنظور کیے جانے خلاف دائر کی گئی اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرلیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایپلٹ بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بھی اسی حلقے سے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔