آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بیگم کلثوم کی طبیعت قدرے بہتر پر خطرے سے مکمل طور پر باہر نہیں: میاں نواز شریف
- مصنف, شفیع نقی جامعی
- عہدہ, بی بی سی اردو، لندن
سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی طبیعت اب قدرے بہتر ہے تاہم اب بھی وہ مکمل طور پر خطرے سے باہر نہیں ہیں۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ ’کلثوم نواز پہلے کے مقابلے میں بہتر ہیں۔ کاش میں جمعرات سے پہلے ان کے پاس آ جاتا تو بہتر ہوتا کم از کم وہ اپنے ہوش و حواس میں تھیں اس وقت۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ جمعرات کو نواز شریف کی لندن میں زیرِ علاج اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی صحت دل کا دورہ پڑنے کے بعد مزید بگڑ گئی تھی۔
بی بی سی اردو نے حسین نواز سے رابطہ کیا تو وہ اور ان کے والد میاں نواز شریف دونوں ہی ہارلے سٹریٹ کلینک میں بیگم کلثوم نواز کے کمرے میں بیٹھے تھے۔
حسین نواز نے بتایا کہ بیگم کلثوم نواز کی کی حالت اور کیفیت گذشتہ جمعرات کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب حسین نواز سے پوچھا گیا کہ میاں نواز شریف خود اس صورتحال میں کیا کر رہے ہیں تو حسین نواز نے فون میاں نواز شریف کو دے دیا۔
پانچ سے آٹھ منٹ کی گفتگو میں سابق وزیر اعظم نے محض دعائیں طلب کیں اور سب کے لیے خیر و عافیت چاہی۔
ان کی آواز میں سنجیدہ رنجیدگی محسوس ہوئی اور پاکستان، عوام اور سب کے لیے نیک خواہشات کے ساتھ انھوں نے خدا حافظ کہا۔
یاد رہے کہ گذشتہ جمعرات کی شب نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اطلاع دی تھی کہ کلثوم نواز کو دل کا دورہ پڑا ہے اور وہ اس وقت انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ہیں اور انھیں مصنوعی طریقے سے سانس دیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ بیگم کلثوم نواز کو چند ماہ قبل کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ اس وقت برطانیہ میں زیر علاج ہیں۔
بیگم کلثوم نواز کے دونوں صاحبزادے حسن اور حسین مسلسل ان کے ساتھ ہیں لیکن ان کے شوہر اور ان کی بیٹی مریم نواز اسلام آباد کی احتساب عدالت سے اجازت ملنے کے بعد جمعرات کو لندن پہنچے تھے۔
ان کی بیٹی مریم نواز نے ٹوئٹر پر اپنی والدہ کی بگڑتی ہوئی صحت کے بارے میں لکھتے ہوئے کہا، ’ہم جہاز میں تھے جب امی کو اچانک دل کا دورہ پڑا۔ اب وہ آئی سی یو میں وینٹیلیٹر پر ہیں۔ آپ سب سے التجا ہے کہ ان کے لیے دعا کریں۔‘
بیگم کلثوم نواز نے گذشتہ سال لاہور کے حلقے این اے 120 سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن اپنی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے وہ انتخابی مہم نہیں چلا پائی تھیں بلکہ انھوں نے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے حلف بھی نہیں اٹھایا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹوئٹر پر کلثوم نواز کے لیے دعائیہ الفاظ میں کہا کہ ’اللہ انھیں صحت عطا کرے۔‘
سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ٹویٹ میں لکھا، ’میری دعائیں بیگم کلثوم نواز کے ساتھ ہیں۔ اللہ انہیں صحت مند اور لمبی عمر دیں۔‘
خیال رہے کہ جب سنہ 1999 میں نواز شریف جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے بعد جیل چلے گئے تھے۔ اس دور میں سیاسی جدوجہد کے دوران اخبارات میں شائع ہونے والی بیگم کلثوم نواز کی ایک تصویر مزاحمت کی علامت بن گئی تھی۔
بیگم کلثوم نواز کا خاندان کشمیر سے تعلق رکھتا ہے جبکہ ان کی پیدائش لاہور میں ہوئی۔