آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نگران وزیر اعظم کا کاغذاتِ نامزدگی کالعدم دینے کے فیصلے پر اپیل دائر کرنے کا حکم
- مصنف, رضا ہمدانی
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان کے نگران وزیر اعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ نگران وزیر اعظم نے اٹارنی جنرل آفس اور وزارت قانون کو ہدایت کی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف فوری اپیل دائر کی جائے اور اس کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ ایسے کسی معاملے کی وجہ سے انتخابات میں تاخیر نہیں ہونے دی جائے گی، جبکہ اپیل کا مقصد انتخابات کا بروقت انعقاد یقینی بنانا ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یہ اپیل لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی جائے گی یا نگران حکومت سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گی۔
رہنمائی کے لیے سپریم کورٹ
اس سے قبل الیکشن اس سے قبل الیکشن کمیشن پاکستان نے کہا تھا کہ حلقہ بندیوں سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ اور نامزدگی فارم سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں پر رہنمائی کے لیے سپریم کورٹ جائیں گے۔
یہ اعلان ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن اختر نذیر نے اسلام آباد میں سنیچر کو کیا۔
انھوں نے کہا کہ اجلاس میں نامزدگی فارم اور حلقہ بندیوں پر عدالتی فیصلوں کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن تین اور چار جون کو کاغذات نامزدگی وصول نہیں کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم انھوں نے مزید کہا کہ ملک میں عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں تمام ریٹرننگ افسران کو کاغذات نامزدگی کی وصولی سے روک دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ شیڈول کے مطابق دو سے چھ جون تک تمام حلقوں میں کاغذات نامزدگی وصول کیے جانے تھے۔
اختر نذیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل اور ریٹرننگ افسران کو نیا شیڈول بتایا جائے گا۔
انھوں نے وضاحت کی کہ 25 جولائی کو منعقد کیے جانے والے انتخابات کے شیڈول میں دو سے تین روز کی گنجائش موجود ہے۔
’اس بار نئے سے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں‘
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے بی بی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہ نئے سے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
’الیکشن کمیشن نے جتنے بھی انتخابات کرائیں ہیں ان سب میں ایسے مسائل پیدا نہیں ہوئے۔ اس بار نئے سے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ حلقہ بندیاں اس کے ایکٹ سے انحراف کرتے ہوئے بنائی گئیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دیا جا رہا ہے۔
’سب کو شکایت ہے کہ حلقہ بندیاں صحیح طریقے سے نہیں ہوئی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ حلقہ بندیوں میں گڑ بڑ ہوئی ہے، جوڑ توڑ ہوئی ہے اور اسی لیے اس حوالے سے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔‘
کاغذات نامزدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کنور دلشاد نے کہا کہ پرانا کاغذات نامزدگی کا فارم جامع تھا اور اس میں تبدیلی کی ضرورت نہیں تھی۔
’پرانے فارم سے عوام کو معلوم چلتا تھا کہ ان کا نمائندہ کہاں کھڑا ہے۔ میں کہوں گا کہ بدنیتی پر یہ فارم تبدیل کیا گیا اور یہ نیا فارم الیکشن قوانین سے انحراف کرتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے نیا کاغذات نامزدگی فارم اس لیے کالعدم قرار دیا ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی تھیں کہ ان لائنز پر فارم مرتب کریں جس میں تمام تفصیلات ہوں۔
انھوں نے کہا کہ ان مسائل سے تو لگتا ہے کہ الیکشن وقت پر ہونے مشکل ہیں۔
بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ
بلوچستان ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئٹہ کی نو حلقوں کی حلقہ بندیوں میں سے آٹھ کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل بلوچستان ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے سیاسی جماعتوں کے اعتراضات اور تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو دوبارہ حلقہ بندیاں کرنے کو کہا تھا۔
کالعدم قرار دیے گئے حلقوں میں پی بی 24، پی بی 25، پی بی-26، پی بی 27، پی بی 28، پی بی 29، پی بی 30 اور پی بی-32 شامل ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے عام انتخابات 2018 کے لیے پارلیمنٹ کی جانب سے نامزدگی فارم میں کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نامزدگی فارم کو آئین کی شق 62 اور 63 کے مطابق ترتیب دینے کا حکم دیا تھا۔
جسٹس عائشہ اے ملک نے فیصلے میں کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا مکمل اختیار ہے لیکن عوامی نمائندوں کی چھان بین آئین کے آرٹیکل 62،63 کے تقاضوں کے تحت ہونی چاہیے۔
لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر نئے کاغذات نامزدگی میں ان شرائط کو لازم قرار دے اور مکمل چھان بین کے بعد امیدوار کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے۔
عدالت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالتی فیصلے سے الیکشن کے عمل میں ہرگز تاخیر نہیں ہو گی۔