آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات پچیس جولائی کو ہی کرائے جائیں‘
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی پرویز خٹک نے الیکشن کمیشن کو ایک مراسلے میں تجویز دی ہے کہ صوبے میں ضم شدہ قبائلی علاقوں میں بھی صوبائی اسمبلی کے انتخابات پچیس جولائی کے عام انتخابات کے ساتھ ہی منعقد کروائے جائیں۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا کو لکھے گئے اس خط میں جسے میڈیا کو بھی جاری کیا گیا ہے، ان کا موقف ہے کہ صوبے میں اکثر سیاسی اتحادوں نے حکومتیں تشکیل دی ہیں لہذا قبائلی علاقوں سے بعد میں اکیس اراکین کا انتخاب وہاں کی سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیے
پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ عام انتخابات کے نتیجے میں منتخب صوبائی حکومت کے زیر انتظام بعد میں قبائلی علاقوں میں انتخاب کروانے سے حکمراں جماعت کے خلاف الزامات اور تنقید کا سبب ہوگی جس سے صوبے میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگا۔
ان کا موقف تھا کہ بیک وقت انتخابات سے الیکشن کمیشن صوبے کو مستقبل کے سیاسی عدم استحکام سے بچا سکے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ قلیل وقت میں کمیشن کے لیے ایسا کرنا انتہائی مشکل ہوگا لیکن وسیع تر ملکی مفاد میں یہ ضروری ہے۔
اسی قسم کے خدشات صوبے کی حزب اختلاف کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے بھی ظاہر کیے تھے۔
اے این پی کی سینٹر ستارہ ایاز نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اکتیسوں آئینی ترمیم میں تاخیر کی ایک وجہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اس پر عدم اتفاق تھا کہ قبائلی علاقوں میں ایک سال بعد کے انتخابات کا سیاسی صورتحال پر کیا اثر ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تجویز پر الیکشن کمیشن کا ردعمل ابھی سامنے نہیں آیا ہے لیکن مبصرین کے خیال میں موجودہ حالات میں اس کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا اور اس میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں بیک وقت انتخابات کرانا کافی مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔