آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسلام آباد میں تحریک لبیک کا دھرنا: ’حکومت کے ساڑھے 32 کروڑ روپے خرچ ہوئے‘
- مصنف, سارہ حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی حکومت کی جانب سے گذشتہ مالی سال 2017-18 کے اخراجات کے بارے میں جاری کی گئی دستاویز کے مطابق اسلام آباد میں مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کئی روز تک جاری رہنے والے دھرنے کے سبب امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومت نے 32 کروڑ 45 لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔
دھرنے کے دوران امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے سول انتظامیہ کی مدد کے لیے نیم فوجی فورس ایف سی کو تعینات کیا گیا تھا۔
گذشتہ برس نومبر میں مذہبی جماعت کے شرکا نے اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر فیض آباد کے مقام پر دھرنا دیا تھا، یہ دھرنے تین ہفتے تک جاری رہا تھا۔
دھرنے کے مقام کے اردگرد اسلام آباد پولیس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ایف سی کے اہلکار تعینات تھے۔
مزید جاننے کے لیے یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت کی جانب سے گذشتہ سال کے اخراجات کے بارے میں جاری کی گئی دستاویز کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی حدود میں نیم فوجی دستوں کی تعیناتی پر مجموعی طور پر حکومت کو 25 کروڑ 19 لاکھ روپے ادا کرنے پڑے، جس میں سے 15 کروڑ روپے تعینات کیے جانے والے اہلکاروں مختلف الاؤنس کی مد میں دیے گئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر آفس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دھرنے کے دنوں میں اسلام آباد پولیس کی معاونت کے لیے فرنٹیئر کانسٹیبلری کو بھی تعینات کیا گیا تھا، جو مختلف شفٹس میں اپنے فرائض سرانجام دیتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ امن و امان کے لیے ایف سی کو بلوانے، اُن کی نقل وحرکت اور دیگر ضروریات پوری کرنے کی وجہ سے زیادہ رقم خرچ ہوئی۔
دوسری جانب دھرنے کے سبب اسلام آباد پولیس کے اخراجات بھی بڑھے۔
بجٹ میں فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس نے آپریٹنگ اخراجات کی مد میں آٹھ کروڑ 35 لاکھ روپے اضافی خرچ کیے۔
یہ رقم پولیس کے زیر استعمال گاڑیوں، نفری کی نقل و حرکت اور دیگر جاری اخراجات کی مد میں استعمال کی گئی۔
خیال رہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسلام آباد کی اہم شہراہوں کو کئی بار دھرنا دے کر بند کیا گیا ہے۔
اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال میں وفاقی دارالحکومت کی پولیس کے لیے سات ارب روپے سے زائد رقم مختص کی ہے۔
گذشتہ سال نومبر میں تحریکِ لبیک کے تین ہفتوں تک جاری رہنے والے دھرنے کو ختم کروانے کے لیے اسلام آباد پولیس اور ایف سی نے کریک ڈؤان شروع کیا تو دھرنے کی شرکا نے مزاحمت کا مظاہرہ کیا تھا۔
جس کے بعد دھرنا ختم کروانے کے لیے حکومت اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے درمیان فوج کو معاونت سے چھ نکاتی معاہدہ ہوا تھا۔
ایف سی نیم فوجی فورس ہے اور سول حکومت کی درخواست پر اسے امن و امان کی خراب صورتحال میں سول انتظامیہ معاونت کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔