اسلام آباد میں آپریشن کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج

اسلام آباد میں دھرنے کے خلاف آپریشن کے دوسرے روز ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں جبکہ مذہبی جماعت لبیک یا رسول اللہ نے پیر کو ملک میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی ہے۔

اسلام آباد میں دھرنا دینے والی مذہبی جماعت لبیک یا رسول اللہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں پیر کو ملک میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے۔

ادھر اسلام آباد میں اتوار کی صبح احساس عمارات کی حفاظت کے لیے فوج کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ ملک کے دیگر بڑے شہروں کی صورت حال کچھ یوں ہے۔

صوبہ سندھ

نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر نمائش چورنگی کے ساتھ ساتھ ٹاور اور سہراب گوٹھ کے مقام پرصبح سے دھرنے جاری ہیں۔ شہر میں اتوار کو موبائل مارکیٹ اور بولٹن مارکیٹ سمیت کچھ دکانیں کھلی تھیں تاہم شہر میں بیشتر کاروبار بند ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی کم ہے۔

کراچی میں سنیچر کو شہر میں 30 سے زائد مقامات پر دھرنے دیے گئے تھے، نرسری اور صدر میں تصادم اور جھڑپوں میں 27 افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ سنیچر کی شب کمشنر آفس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ انتظامیہ تحریک لبیک یارسول اللہ کو یقین دہانی کرانا چاہتی ہے کہ ان کے اس دھرنے میں حکومت کسی بھی طور پر کوئی دخل اندازی نہیں کرنا چاہتی تاوقتہ دھرنے کے شرکا قانون ہاتھ میں نہ لیں۔

دوسری جانب سندھ کے دیگر شہروں حیدرآباد اور میرپورخاص میں بھی احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔

کوئٹہ

نامہ نگار محمد کاظم مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں حالات معمول پر ہیں۔ اسلام آباد میں دھرنے کے خلاف کارروائی کے خلاف بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے کارکنوں کی جانب سے سول سیکریٹریٹ کے قریب ہاکی چوک پھر دھرنا دیا گیا تھا لیکن اتوار کو شہر میں ابھی تک ان کی جانب سے کوئی احتجاج سامنے نہیں آیا اور کاروباری مراکز بھی کھلے ہیں۔

لاہور

لاہور سے نامہ نگار عمر دراز کے مطابق مظاہرین نے چیئرنگ کراس، شاہدرہ، ٹھوکر نیاز بیگ، بابو صابو انٹر چینج کو بند کر دیا ہے جبکہ مال روڈ پر رینجرز تعینات ہیں۔ ادھر پنجاب حکومت کے محکمۂ تعلیم نے ملک میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر تمام نجی اور سرکاری سکولوں کو پیر اور منگل کو بند رکھنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

پشاور

پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق شہر میں تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کارکنوں کی جانب سے اسلام آباد آپریشن کے خلاف احتجاج اور دھرنا دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

لبیک یا رسول اللہ کے سینکڑوں کارکن رنگ روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر کے دھرنا دے رہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شام سے جمیل چوک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے جس سے اس اہم شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہے۔

قومی شاہراہوں کی صورتحال

موٹروے پولیس کے مطابق مذہبی جماعت لبیک یارسول اللہ کے کارکنان کے دھرنے کے باعث اسلام آباد لاہور موٹروے کو دو مقامات سے بند کیا گیا ہے۔

اسسٹنٹ پٹرولنگ آفیسر فرمان شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ چکری کے پاس 600 اور پنڈی بھٹیاں کے قریب 400 مظاہرین کا دھرنا جاری ہے جس کی وجہ سے ان دونوں مقامات سے موٹروے کو بند کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ لاہور سے آنے والے ٹریفک کو شیخوپورہ سے جبکہ اسلام آباد سے جانے والی ٹریفک کو اسلام آباد کے مرکزی ٹول پلازہ سے موڑا جا رہا ہے یا متبادل راستہ فراہم کیا جا رہا ہے۔

کامرہ سے کینٹ کی جانب جانے والے نیشنل ہائی وے کے راستے کو لارنس پور، ٹیکسلا چوک، سواں، گجر خان، گجرانوالہ میں چند دا قلعہ اور اس سے آگے کامونکی، راوی ریان اور مریدکے سٹی سے بلاک کیا گیا ہے۔

قومی شاہراہ نیشنل ہائی وے کے مرکزی راستے سنیچر سے دو مقامات پکاوہیل اور لوہاراں والا کوٹ سے بند ہیں۔ ان راستوں پر آنے والی ٹریفک کو چونیاں موڑ سے چھانگا مانگا کی جانب موڑا جا رہا ہے۔

صوبہ سندھ میں صورت حال قابو میں ہے۔ نیشنل ہائی وے پولیس کے اسسٹنٹ پٹرول آفیسر لعل حسین شاہ نے بتایا کہ کوٹ سبزل کے بعد سندھ میں کراچی تک کہیں سے بھی ہائی وے بند نہیں کی گئی۔