منظور پشتین: مشران نرم لہجے اور محبت سے بات کرتے تھے تو کوئی نہیں سنتا تھا

پشتون تحفظ موومنٹ اور حکومتی مذاکرتی جرگے کے مابین مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے اور اس موقع پر پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین نے مذاکراتی عمل کو ایک خوش آئند اقدام قرار دیا ہے۔

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جرگے کے آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے منظور پشتین کا کہنا تھا کہ قبائلی اور پشتون قوم نے بہت زیادہ صعوبتیں برداشت کی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے جو تحریک شروع کی ہے اس کی زبان تھوڑی سخت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بی بی سی پشتو کے نامہ نگار اظہار اللہ کے مطابق منظور پشتین نے کہا کہ ’ہمارا طریقہ شاید سخت اس لیے ہو کیونکہ گذشتہ 15 برسوں سے ہمارے مشران نرم لہجے اور محبت سے اپنے حقوق کی بات کرتے تھے لیکن کوئی انھیں سنتا نہیں تھا اور ہم مجبور ہو گئے تو اس تحریک کا آغاز کیا۔‘

پشتون تحفظ موومنٹ اور حکومتی مذاکراتی جرگے کے مابین مذاکرات کا پہلا دور بدھ کو خیبر ایجنسی سے منتخب ایم این اے الحاج شاہ جی گل کے حجرے میں منعقد ہوا جس میں قبائلی مشران، خیبر پختونخوا اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن شاہ فرمان، فاٹا سے قومی اسمبلی کے منتخب اراکین، وکلاٗ اور پی ٹی ایم کے ممبران منظور پشتین اور محسن داوڑ شریک ہوئے۔

اسی جرگے نے پچھلے ہفتے بھی پی ٹی ایم کے مشران سے ملاقات کی تھی اور باضابطہ طور پر بدھ کو مذاکرات کا آغاز کیا گیا ہے۔

جرگے میں موجود مقامی صحافی ساجد علی کوکی خیل نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو منعقدہ جرگے میں پاکستانی فوج کے طرف سے کوئی نمائندہ شریک نہیں تھا۔

نامہ نگار کے مطابق جرگے کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو میں صوبائی اسمبلی کے رکن شاہ فرمان نے بتایا کہ جرگے میں تمام امور پر بات کی گئی اور اگلی نشست میں پی ٹی ایم کے جانب سے مسائل کی نشاندہی ہو گی اور اس پر بات کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ 'سب سے اہم بات یہ سامنے آگئی کہ جرگے کے سارے لوگ محبِ وطن پاکستانی ہیں اور آئین کے اندر کوئی بھی اپنے مسائل پر بات کر سکتا ہے۔'

میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ نے بتایا کہ چونکہ جرگہ منعقد کرنے میں وقت کم تھا اس لیے وہ ملک بھر میں پی ٹی ایم کے ارکان سے مشاورت کریں گے اور پھر جرگے کی دوسری نشست کی تاریخ اور انھیں جس سے مذاکرات کرنے ہیں ان کا اعلان کریں گے۔

جرگے کے میزبان اور فاٹا سے منتخب رکن اسمبلی شاہ جی گل نے کہا کہ آج کے جرگے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پشتنون تمام مسائل کو جرگوں اور آئین و قانون کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں اور امید ہے ریاست اور اسکے ادارے ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام مسائل کا حل جرگہ ہی ہے اور ہم نے جرگے کے لیے لائحہ عمل طے کر دیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ حکومت کی طرف سے ہمیں یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ جو مطالبات آئین و قانون کے اندر ہیں ان پر حکومت عمل درآمد کرے گی۔

شاہ جی گل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مںظور پشتین کا کوئی بھی ایسا مطالبہ نہیں جو ماورائے آئین ہو اور مجھے یقین ہے حکومت مطالبات ماننے پر غور کرے گی‘۔

جرگے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’جرگے میں کمیٹی جس کو بھی چاہے گی چاہے گورنر ہو، فوج سے ہو یا کسی اور حکومتی ادارے سے ہو، ہم ان سے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی درخواست کریں گے‘۔

خیال رہے کہ منگل کو صحافیوں کے ایک گروپ کو بریفنگ دیتے ہوئے پشاور کے کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے بھی کہا تھا کہ ’منظور پشتین کے بعض مطالبات جائز ہیں اور ان کے تمام جائز مطالبات آئین اور قانون کی روشنی میں حل کیے جا رہے ہیں‘۔

کور کمانڈر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’منظور پشتین ہمارا اپنا بچہ ہے، اس نے آرمی پبلک سکول سے تعلیم حاصل کی ہے لیکن اگر وہ غصے میں بھی ہے تو ہم انہیں سنیں گے۔‘

پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ نے مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مذاکرات شروع ہونے سے جلسوں کا سلسلہ بند نہیں ہو گا کیوں کہ ان عوامی جلسوں کے ذریعے حامیوں سے ملنے میں کوئی بری بات نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'مذاکرات اور عوامی جلسوں کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم منصوبے کے مطابق سوات اور کراچی میں جلسے کریں گے۔'

ادھر کراچی میں پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت میں احتجاج کے بعد حراست میں لیے جانے والے بائیں بازو تنظیم پاکستان یوتھ الائنس کراچی کے تین اراکین کو بھی رہا کر دیا گیا ہے۔

تنظیم کے مطابق کراچی کے انچارج فراس راج سمیت چار کارکنوں کو پریس کلب کے باہر سے سادے کپڑوں میں ملبوس لوگ اٹھا کر لے گئے تھے۔

فراس راج نے بتایا کہ ’22 اپریل کو کراچی پریس کلب کے باہر پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت میں ہونے والے احتجاج میں ان کے ساتھیوں نے بھی شرکت کی اور ان کے مطالبات کی حمایت کی تھی، جس کے بعد ہمارے سات ساتھی گرفتار کرلیے گئے تھے جو ابھی تک لاپتہ ہیں۔‘

’کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف منگل کو پریس کلب کے باہر احتجاج رکھا تھا، جہاں ہمارے احتجاج کو روکا گیا جیسے ہی احاطے سے باہر آئے تو سادہ کپڑوں میں اہلکاروں نے ہمیں گرفتار کر لیا اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے گئے۔

فراس راج کے مطابق ان سے دورانِ حراست پشتون تحفظ موومنٹ سے تعلق کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی اور انھیں متنبہ کیا گیا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت کے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں جس کے بعد انھیں اور فرسٹ ایئر کے دو طلبا جلال اور شاہ رازی کو چھوڑ دیا گیا جبکہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے یاسر ارشد تاحال تحویل میں ہیں۔