آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لیبیا کشتی حادثہ: ’پیسہ کمانے کے لالچ نے ان کی جان لے لی‘
- مصنف, حنا سعید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
لیبیا کے ساحل کے قریب سپین جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی کشتی کے حالیہ حادثے میں جو 90 افراد جان سے گئے ان میں سے 32 کا تعلق پاکستان سے تھا۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق ان میں سے 18 کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ صرف 12 کی ہی لاشیں مل پائی ہیں اور باقی افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
وزارت خارجہ کی جاری کردہ فہرست کے مطابق ڈوبنے والے افراد میں سے چار کا تعلق گجرات کے ایک ہی خاندان سے ہے۔
بی بی سی نے ان کے اہل خانہ سے رابطہ کیا تو ان کے کزن بشیر چوہدری نے بتایا کہ کشتی میں دو بھائی، 35 سالہ رحمت خان اور 32 سالہ اسماعیل خان اپنی بیوی اور دو بچوں سمیت سوار تھے۔ان پانچ میں سے صرف رحمت خان ہی زندہ بچے ہیں۔
'یہ دونوں بھائی گجرات کے راجو بھاند گاؤں کے رہائشی تھے اور پاکستان میں تو معمولی مزدوری ہی کرتے تھے۔ زیادہ پیسہ کمانے کے لالچ نے ان کی جان لے لی۔ ہم میں تو اتنی ہمت بھی نہیں کہ ان کے 80 سالہ بوڑھے باپ کو ان کی موت کی اطلاع دے دیں۔'
تارکین وطن کے ساتھ پیش آنے والے ماضی میں ہونے والے ایسے حادثات کے بارے میں پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بشیر چوہدری نے بتایا کہ اسماعیل خان پچھلے چھ سال سے لیبیا میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے اور حال ہی میں انہوں نے اپنے بڑے بھائی رحمت خان کو لیبیا بلا لیا اور پھر اس کے بعد اپنی بیگم عظمت بی بی اور پانچ سالہ بیٹے سعد علی اور دو ماہ کی بیٹی فاطمہ کو بھی بلایا۔
'دراصل لیبیا میں کنسٹرکشن کا کافی کام ہوتا ہے اور غیر قانونی تارکین وطن پاکستان کے مقابلے وہاں اچھے پیسے کما لیتے ہیں لیکن جب وہ اس کمائی ہوئی رقم کو وطن واپس بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایک لاکھ روپے بھیجنے پر پچاس ہزار کا خرچہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ سب لوگ اب کام کی تلاش میں کشتی کے ذریعے لیبیا سے سپین جا رہے تھے جب یہ حادثہ پیش آیا۔'
بشیر چوہدری کا کہنا ہے کہ حادثے میں بچ جانے والے رحمت خان سے ان کا رابطہ ہوا تو وہ اپنے ہوش میں نہ تھے۔
'میں نے رحمت سے اسماعیل اور اس کے اہل خانہ کے متعلق پوچھا تو وہ عجیب سے جواب دینے لگا۔ شاید اس حادثے نے اس کی دماغی حالت پر بہت برا اثر چھوڑا ہے۔ رحمت نے بتایا کہ وہ سب کشتی میں سفر کر رہے تھے جب اچانک شاید کسی چیز سے ٹکرانے کی وجہ سے کشتی کا ایک حصہ ٹوٹ گیا، تو اس کے ایجنٹ نے ایک لکڑی کا پھٹہ پکڑا کر اسے ڈوبنے سے بچا لیا۔ اس کے علاوہ رحمت کو اور کچھ یاد نہیں۔ اب بھی وہ اپنے ایجنٹ کے پاس ہی ہے۔'
گجرات کے رہائشی بشیر چوہدری کا کہنا ہے کہ یہ صرف اسماعیل کے گھر کی کہانی نہیں بلکہ پنجاب کے زیادہ تر شہروں میں ملک سے باہر جا کر کام کرنے کا جنون لوگوں کو اندھا کر دیتا ہے اور وہ جان کی بھی پروا نہیں کرتے۔
'پنجاب کے زیادہ تر دیہات میں ملک سے باہر جانا ایک خواب کی مانند ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ یہاں مزدوری کی تو چند ہزار ملیں گے جبکہ بیرون ملک لاکھوں روپے میں تنخواہ ہوتی ہے۔ ہر گھر کی یہی کہانی ہے۔ لوگ سوچے سمجھے بغیر ایجنٹوں کو لاکھوں روپے دے کر غیرقانونی طور پر بس ملک سے باہر جانے کا راستہ ڈھونڈتے ہیں۔ پاکستان سے دبئی کی فلائٹ کے بعد وہ کسی بھی افریقن ملک کا ٹورسٹ ویزہ لگواتے ہیں، وہاں پہنچ کر یا تو گاڑی ورنہ کشتی سے لیبیا پہنچ جاتے ہیں اور وہاں سے پھر کشتی سے یورپ میں انٹری۔'
اس معاملے کی تفتیش کرنے والے ایف آئی اے حکام کے مطابق حادثے میں ڈوبنے والے زیادہ تر پاکستانیوں کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین، گجرات اور سرگودھا سے ہے۔
حادثے کے فوراً بعد ایف آئی اے نے متعلقہ شہروں میں تفتیش شروع کر کے چھاپے مارے اور انسانی سمگلنگ کے تین ایجنٹس گرفتار کر لیے۔
ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر خواجہ حماد کے مطابق وہ ڈوبنے والوں کے ورثا سے معلومات اکٹھی کر کے ان شہروں سے سمگلنگ ایجنٹس کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی فیصل آباد ٹیم نے ہلاک ہونے والے سرگودھا کے رہائشی محمد عزیز کے رشتہ داروں کی نشاندہی پر ایجنٹ محمد ادریس کو سرگودھا سے گرفتار کیا ہے۔
اس کے علاوہ گجرات میں ایف آئی اے کی ٹیم اور ایس ایچ او محسن وحید نے مدثر خان اور پیر سرکار محبوب شاہ کو لیبیا کشتی حادثہ میں سوار پاکستانی افراد کو غیر قانونی طور پر ملک سے باہر بھیجنے کے الزام میں گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا ہے۔
اس حادثے کو لے کر جہاں حکومت فکرمند ہے وہیں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر ایف آئی اے غیر قانونی طور پر پاکستان سے باہر جانے والے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کیوں کنٹرول نہیں کر پا رہی ہے۔