’میر ہزار خان بجارانی نے پہلے اہلیہ کو قتل کیا پھر خودکشی کی‘

کراچی پولیس نے سندھ کے صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی کی موت کو خودکشی قرار دے دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ میر ہزار خان نے پہلے اپنی اہلیہ کو قتل کیا اور اس کے بعد خودکشی کر لی۔

میر ہزار بجارانی اور ان کی اہلیہ کی لاشیں کراچی میں ان کی رہائش گاہ سے جمعرات کی صبح برآمد ہوئی تھیں۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پولیس اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دستیاب ثبوت، شہادتوں اور پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ میر ہزار خان نے پہلے بیوی کو قتل کیا جس کے بعد اسی ہتھیار سے خودکشی کی۔

ڈی آئی جی جنوبی آزاد خان کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے کے قریب درخشاں پولیس کو اطلاع ملی کہ ڈیفینس کے علاقے خیابان جانباز میں صوبائی وزیر میر ہزار بجارانی اور ان کی اہلیہ فریحہ رزاق کی لاشیں گھر کی پہلی منزل پر کمرے میں پڑی ہیں۔

اطلاع ملنے پر ڈی ایس پی اور ایس ایچ او درخشاں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے جہاں فریحہ رزاق کی لاش بیڈ روم سے متصل سٹڈی روم میں موجود تھی جبکہ میر ہزار خان کی لاش اسی کمرے میں موجود صوفے پر پڑی ہوئی تھی۔

ڈی آئی جی جنوبی کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوعہ کے مشاہدے اور لاشوں کی صورتحال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ موت آتشیں اسلحے کی وجہ سے ہوئی، میر ہزار خان کو سر میں ایک گولی لگی تھی جو دائیں طرف سے لگی اور بائیں طرف سے نکل گئی، جبکہ فریحہ رزاق کو تین گولیاں ماری گئی تھیں جن میں سے ایک سر اور دو پیٹ میں لگیں۔

جائے وقوع سے گولیوں کے چار خول اور دو گولیاں اور 30 بور کا پستول برآمد ہوا۔

تفتیشی اور فورینزک ٹیموں نے خون کے نمونے، گولیوں کے خول فنگر پرنٹ سمیت متعلقہ شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جن کا کیمیائی تجزیہ کیا جائے گا، اس کے علاوہ مزید تحقیقات کے لیے سی سی ٹی وی کا ڈی وی آر بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی آزاد خان کے مطابق دو پولیس محافظوں سمیت چھ افراد سے تفتیش کی گئی جنھوں نے ابتدائی بیانات میں بتایا ہے کہ کچھ معاملات پر میاں بیوی میں چند سالوں سے ناچاقی جاری تھی، کمرہ اندر سے بند تھا جسے میر ہزار خان کے بیٹے اور ملازمین نے زبردستی کھولا۔

ایس ایس پی سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ گذشتہ شب دونوں میاں بیوی میں صبح چھ بجے کے قریب لڑائی جھگڑے کی آواز آنا شروع ہوئی، جس کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیس ملازمین کو اچانک فائرنگ کی آوازیں آئیں چونکہ پولیس محافظوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھیں اس لیے ساڑھے نو بجے جب ان کا ایک ذاتی ملازم معمول کے مطابق آیا تو اسے محافظ نے بتایا کہ لڑائی کے بعد فائرنگ کی آواز آئی ہیں جس پر ملازم نے ان کے بیٹوں کو اطلاع دی۔ جب وہ گھر پہنچے اور کمرہ کھولنے کے لیے آواز دی تو اندر سے کوئی جواب نہیں ملا جس کے بعد وہ کچن سے کنڈی توڑ کر کمرے میں داخل ہوئے تو دونوں کی لاشیں کمرے میں موجود تھیں۔

میر ہزار بجارانی کی میت ہیلی کاپٹر کے ذریعے سکھر ایئرپورٹ پہنچائی گئی جہاں سے اسے ان کے آبائی شہر کرمپور ضلع کشمور منتقل کر دیا گیا ہے جہاں جمعے کو ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔

کشمور، جیکب آباد، کندھ کوٹ ،کرمپور اور آس پاس کے شہروں میں دوسرے روز بھی میر بجارانی کے سوگ میں کاروبار بند ہے۔