حدیبیہ ملز ریفرینس نہ کھولنے کے فیصلے پر نیب کی نظرِ ثانی کی درخواست

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس دوبارہ کھولنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس دوبارہ کھولنے سے متعلق نیب کی ابتدائی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

پیر کے روز دائر کی جانے والی نظرثانی کی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی سماعت کے دوران مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی ایک جامع رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حدیبیہ پیپرملز کا ریفرنس حل طلب ہے اور اس کے لیے اس کو دوبارہ کھولا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں

نظرثانی کی اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی اس رپورٹ کی روشنی میں ہی نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا جبکہ پاناما لیکس کی درخواستوں کی سماعت کے دوران ہی گذشتہ برس جولائی میں نیب کے حکام نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ حدیبیہ پیپرملز کے ریفرنس کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی جائے گی۔

نظرثانی کی اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقررہ مدت میں درخواست دائر نہ کرنے کے معاملے سے صرفِ نظر کیا جائے۔

یاد رہے کہ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حدیبیہ پیپرملز کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کے بارے میں نیب کی درخواست گذشتہ ماہ یہ کہہ کر مسترد کردی تھی کہ درخواست زائد المعیاد ہے اور درخواست گزار تاخیر سے درخواست دائر کرنے کے حوالے سے عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے۔

اس سے پہلے پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں ایک بینچ تشکیل دیا تھا تاہم سپریم کورٹ کے مزکورہ جج نے اس بینچ کا سربراہ بننے سے معذوری ظاہر کی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ وہ پاناما لیکس میں حدیبیہ پیپر ملز کے مقدمے میں اپنی آبزرویشن دے چکے ہیں۔