زینب کیس: آئی جی کو مزید دو دن کی مہلت، قصور میں فورینزک کیمپ

لاہور ہائی کورٹ نے زینب کیس میں پولیس حکام کو قاتل کی گرفتاری کے لیے مزید دو دن کی مہلت دی ہے جبکہ قصور میں لگائے جانے والے فورینزک کیمپ میں مشتبہ افراد کے ڈی این اے جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس کیس کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اتوار کو زینب کے مبینہ اغوا کار کا ایک خاکہ بھی جاری کیا ہے۔

سات سالہ زینب کی لاش اس کے اغوا کے پانچ روز بعد نو جنوری کو اس کی رہائش گاہ سے نصف کلومیٹر دور موجود کوڑے کے ڈھیر سے ملی تھی۔

زینب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ کمسن زینب کے اغوا کار اور قاتل کی تلاش کا عمل جاری ہے تاہم پولیس تاحال اس کی شناخت میں ناکام رہی ہے۔

اس واقعے پر قصور میں خصوصاً اور ملک بھر میں عموماً احتجاج ہوا اور قصور میں اس دوران پولیس کی فائرنگ سے دو مظاہرین ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

اس معاملے پر پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ نے بھی اس قاتل کی گرفتاری کے لیے آئی جی پنجاب کو 36 گھنٹے کی مہلت دی تھی جو اتوار کو ختم ہوئی ہے۔

نامہ نگار حنا سعید کے مطابق پیر کو آئی جی پنجاب کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں قائم دو رکنی عدالتی بینچ کے سامنے اب تک کی تحقیقات کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زینب کو ریپ کرنے والا ملزم اس سے قبل سات دیگر بچیوں سے جنسی زیادتی کے مقدمات میں بھی پولیس کو مطلوب ہے۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ شخص کی تلاش سنہ 2015 سے جاری ہے تاہم اس میں پولیس کو کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

موقع پر موجود سرکاری وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ’جون 2015 میں پہلا واقعہ ہوا۔ 2016 کے دوران دوسرا واقعہ ہوا جس میں وہی مجرم تھا۔ پرانے واقعات میں سی سی ٹی وی فوٹیج موجود نہیں تھی کہ سکیچ بنا پاتے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چھ روز میں 1100 مشتبہ افراد سے تفتیش کی گئی ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ’67 لوگوں کا ٹیسٹ ہوا لیکن رپورٹ پازیٹیو نہیں آئی اور دو سو مزید لوگوں کا ڈی این اے کر رہے ہیں۔‘

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ رجسٹرار کے مطابق قصور میں ایسے واقعات کے 108 کیسیز ہیں۔ ان 108 کیسز کے لیے دو عدالتیں بنا دی ہیں جو روزانہ کیسز کی سماعت کریں گی۔

جسٹس صداقت نے کہا کہ 36 گھنٹے کی مہلت دی تھی جو گزر گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ڈی این اے کے علاوہ اور بھی طریقے ہوتے ہیں۔‘

سماعت کے بعد عدالت نے پولیس حکام کو مزید 48 گھنٹے کا وقت دیا ہے کہ وہ قاتل کو گرفتار کریں۔

قصور میں کیمپ

دوسری جانب قصور میں متعلقہ تھانے اے ڈویژن سٹی کے آئی او افتخار نے بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کو بتایا کہ’ چھ بچیوں کے ڈی این اے سے تصدیق ہوئی ہے کہ ملزم ایک ہی شخص ہے اور ابھی تک اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔‘

ان کے مطابق ’اب فارینزک ٹیم نے ڈی سی او کے دفتر میں کیمپ لگا لیا ہے۔ 250 سے زیادہ افراد کے ڈی این اے لیے جا چکے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’خاکہ بھی جاری ہوا ہے اور ویڈیو کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں۔ دراصل اس کیس میں متخلف ٹیمیں ہیں جو مختلف ٹاسک سرانجام دے رہی ہیں۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس ادارے زینب کے لواحقین کے علاوہ اس سال میں اغوا اور ریپ کا شکار ہونے والے 12 بچوں کے اہلخانہ سے رابطے میں ہیں۔